امریکی حکام نے بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں پایا جانے والا سفید پاؤڈر، جس کی وجہ سے مختصراً انخلا کا حکم دینا پڑا، کوکین تھی۔ امریکی خفیہ سروس کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔
تصویر: RS/MPI/Capital Pictures/picture alliance
اشتہار
امریکہ میں منگل کے روز حکومتی ذرائع نے خبر رساں ایجنسیوں کو بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے اندر اتوار کو دیر گئے جو ایک سفید مادہ پایا گیا تھا، اور جس کی وجہ سے مختصرا ًانخلاء کا عمل شروع کرنے کو کہا گیا، اس کے جانچ سے معلوم ہوا ہے کہ وہ در اصل کوکین تھی۔
ذرائع نے ایسوسی ایٹیڈ پریس اور روئٹرز نیوز ایجنسیوں کو اس بات کی تصدیق کی کہ ابتدائی جانچ سے معلوم ہوا ہے کہ ویسٹ ونگ میں دریافت ہونے والا سفید مادہ نشہ آور کوکین تھی۔
تاہم امریکی خفیہ سروس کے ترجمان انتھونی گوگلیلمی نے اس بات کی تصدیق نہیں کی، البتہ انہوں نے معروف میڈیا ادارے واشنگٹن پوسٹ کو اتنا بتایا کہ اس مادے کی مزید جانچ کی جا رہی ہے۔
ویسٹ ونگ میں صدر کے اوول آفس کے ساتھ ہی کیبنٹ روم اور پریس ایریا نیز صدر کے عملے کے لیے دفاتر اور کام کاج کے لیے دیگر مقامات واقع ہیں۔
سیکرٹ سروس نے ایک بیان میں کہا کہ اتوار کی شام کو وائٹ ہاؤس کمپلیکس کو احتیاطی طور پر بند کرنا پڑا، کیونکہ کام کاج کے علاقے میں ایک نامعلوم شئے کا پتہ چلا تھاتصویر: RS/MPI/Capital Pictures/picture alliance
بائیڈن وائٹ ہاؤس میں نہیں تھے
جب یہ واقعہ پیش آیا تو صدر جو بائیڈن اور ان کا خاندان وائٹ ہاؤس کے بجائے کیمپ ڈیوڈ میں تھا۔ اتوار کو خفیہ سروس کے ایجنٹ احاطے میں معمول کی گشت کر رہے تھے، تبھی انہیں ویسٹ ونگ کے اس علاقے میں، جو ٹورگروپس کے لیے بھی قابل رسائی ہوتا ہے، سفید پاؤڈر ملا۔
اس حوالے سے سیکرٹ سروس نے ایک بیان میں کہا، ''اتوار کی شام کو وائٹ ہاؤس کمپلیکس کو احتیاطی طور پر بند کرنا پڑا، کیونکہ سیکرٹ سروس یونیفارمڈ ڈویژن کے افسران نے کام کاج کے علاقے میں ایک نامعلوم شئے کا پتہ لگایا تھا۔''
بیان میں مزید کہا گیا کہ ''اس چیز کو مزید جانچ کے لیے بھیجا گیا ہے اور اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں آخر اس مادے کے وائٹ ہاؤس تک پہنچنے کے اسباب اور وجوہات کیا ہو سکتی ہیں۔''
صدر بائیڈن اور ان کا خاندان منگل کے روز وائٹ ہاؤس واپس پہنچے ہیں۔
ص ز/ ج ا (اے پی، روئٹرز)
شاندار صدارتی محلات، اقتدار کے مراکز
روس میں کریملن، امریکا میں وائٹ ہاؤس اور فرانس میں ایلیزے پیلس شاندار سہی تاہم دنیا کے متعدد دیگر ممالک کے صدور کی رہائش گاہیں بھی اپنی شان و شوکت کے اعتبار سے کم نہیں ہیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa/Kay Nietfeld
ترک صدر کا سیاہ ’سفید محل‘
انقرہ میں ترک صدر کے لیے نیا ’سفید محل‘ تعمیر کیا گیا ہے۔ اس عالی شان محل میں ایک ہزار کمرے ہیں، جن میں کچھ ایسے بھی ہیں جہاں جاسوسی کے خفیہ آلات کارگر نہیں ہوتے اور ایسے بھی جو ایٹمی حملے سے محفوظ رکھتے ہیں۔ تاہم عدالت میں متعدد درخواستوں کے باوجود تعمیر کیے جانے والے اس محل کو ناقدین سفید محل کی بجائے سیاہ محل قرار دے رہے ہیں۔
تصویر: picture alliance/AA/M.Ali Ozcan
پیٹرول سرمایے کی چمک دمک
قازقستان کی مرکزی حکومتی عمارت رات بھر اپنا رنگ بدلتی دکھائی دیتی ہے۔ یہاں صدارتی محل کو امریکی صدر کی رہائش گاہ وائٹ ہاؤس کی مکمل نقل میں تیار کیا گیا۔ خام مال کے اعتبار سے مالدار ملک قازقستان میں حکمران خاندان ملکی امراء کی فہرست میں سب سے اوپر ہے۔
تصویر: picture alliance/dpa
ترکمانستان کا خواب محل
اشک آباد میں قائم سنہرے گنبد والا صدارتی محل دارالحکومت کی سب سے شاندار عمارت ہے۔ یہ محل خود کو ترکمانستان کا بانی قرار دینے والے نیازوف نے تعمیر کیا تھا، جب کہ ان کے دور میں بطور وزیرصحت خدمات انجام دینے والے بردی محمدوف اب ملکی صدر ہیں۔ انہوں نے سن 2007 میں عہدہء صدارت سنبھالا۔ ناقدین کہتے ہیں کہ ملکی صدر ایک آمر کے تمام تر اختیارات سے لیس ہیں۔
تصویر: picture alliance/dpa
کییف کی جاگیردارانہ رہائش گاہ
یہ عالی شان محل فروری میں ملک سے فرار ہونے والے یوکرائنی صدر وکٹور یانوکووچ نے تعمیر کرنا شروع کیا تھا۔ ان کے فرار کے بعد انٹرنیٹ پر اس محل کے حوالے سے تفصیلات سامنے آئیں۔ سن 2010 میں عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد یانوکووچ کا سب سے پہلا اقدام آٹھ ملین یورو مالیت کا ایک فانوس منگوانا تھا۔
تصویر: AFP/Getty Images/Genya Savilov
لامحدود شان و شوکت
سابق یوکرائنی صدر کا دور حکومت بدعنوانی کی انتہا سے عبارت ہے۔ انہوں نے بے انتہا سونا جمع کیا۔ ان کے محل میں اُن کے عامیانہ جمالیاتی ذوق کی مظہر بے شمار رنگ برنگی چیزیں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ اُنہوں نے قوم کے سینکڑوں ملین یورو اپنی جیبوں میں ڈال لیے۔ اقرباء پروری کی حد یہ کہ ان کے دونوں بیٹوں نے بھی اپنے والد کی وجہ سے بے پناہ پیسہ بنایا۔
تصویر: AFP/Getty Images/Yuriy Dyachyshyn
رومانیہ کی سج دھج
یہ انتہائی بڑی عمارت رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ کے مرکز میں واقع ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق 84 میٹر بلند اور دو لاکھ پینسٹھ ہزار مربع میٹر پر پھیلی اس عمارے میں تین ہزار کمرے ہیں اور یہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی عمارت ہے، جسے 1984ء میں رومانیہ کے آمر حکمران چاؤشیسکو نے اپنے قتل سے پانچ سال پہلے تعمیر کیا تھا۔
تصویر: tony4urban/Fotolia.com
پیرس کی جگمگاہٹ
پیرس میں دریائے سین کے کنارے واقع ایلیزے پیلس میں جا کر انسان کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا وہ کسی عجائب گھر میں آ گیا ہے۔ اس میں فن کے نادر نمونے اور تاریخی فرنیچر موجود ہے۔ اس کے تہ خانے میں کنکریٹ کی دیواروں اور فولادی دروازوں کے پیچھے فرانس کا ’جوہری کمانڈ سینٹر‘ قائم ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/Giancarlo Gorassini
ایران کی شاہی چمک
تہران کے شمال مشرق میں سعد آباد کے علاقے میں سابق ایرانی بادشاہ رضاشاہ پہلوی کے 18 محلات موجود ہیں۔ سن 1920ء سے انہوں نے پے در پے ان عمارات کو وسعت دی۔ یہ ایک طرف تو سرکاری کاموں کے لیے استعمال ہوتی رہیں اور دوسری جانب رضاشاہ پہلوی انہیں اپنی ذاتی رہائش گاہوں کے طور پر بھی استعمال کرتے رہے۔ گرین پیلس رضاشاہ پہلوی اور ان کی بیوی ثریا کی موسم گرما کی رہائش گاہ ہوا کرتا تھا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/Orand-Viala
دوحہ کا عظیم محل
اس محل میں قطر کے بادشاہ شیخ حماد بن خلیفہ الثانی رہائش پذیر ہیں۔ مغرب کی جانب جھکاؤ رکھنے والے الثانی نے سن 1996ء میں الجزیرہ نامی نشریاتی ادارہ شروع کیا۔ اپنی خارجہ پالیسی کی وجہ سے رقبے کے اعتبار سے اس چھوٹے سے ملک نے حالیہ برسوں میں خاصی توجہ حاصل کی ہے، تاہم قطر پر مختلف اسلام پسندوں کی حمایت کے الزامات بھی عائد کیے جاتے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa/Rainer Jensen
اکرا کا محل
یہ عالی شان محل گھانا کے صدر کا ہے۔ گھانا کو افریقہ میں استحکام اور اقتصادی ترقی کی ایک علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ ملک کاکاؤ اور سونے کی برآمد کی وجہ سے مشہور ہے، تاہم اب بھی وہاں کے 23 ملین باشندے حکومتی سطح پر بدعنوانی کی وجہ سے غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa/UPPA/Photoshot
متاثر کن فن
دنیا میں طاقت کے مراکز سمجھے جانے والے ممالک میں شاہکار فنی نمونے بھی ملتے ہیں۔ اس تصویر میں جرمن وزیرخارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر میکسیکو کے صدارتی محل میں ایک ایسے ہی شاہکار کو دیکھ رہے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa/Bernd von Jutrczenka
جرمن صدارتی محمل، عوام سے قریب تر
یہ جرمن صدر کی سرکاری رہائش گاہ بیلے وو پیلس ہے۔ دریائے سپرے پر واقع یہ عمارت جدید و قدیم طرز تعمیر کا حسین ملاپ ہے۔ یہ دو منزلہ عمارت سن 1786 میں تعمیر کی گئی۔ موسم گرما میں یہاں ہونے والی تقریبات عام لوگوں میں خاصی مقبول ہیں۔