وسطی افريقی جمہوريہ کے صدر کی جلا وطنی، حالات بدستور خراب
12 جنوری 2014
وسطی افریقی جمہوریہ کے عبوری صدر میشل جتودیا نے وزیر اعظم نکولس تیئن گایا کے ہمراہ جمعے کے روز چاڈ میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فيصلہ کيا تھا۔ مغربی افريقی ملک بينن کی حکومت کے مطابق جتوديا ہفتے کے روز وہاں پہنچ چکے ہيں۔ بتايا گيا ہے کہ وسطی افريقی ممالک کے رہنماؤں نے بينن حکومت سے جتوديا کو پناہ دینے کے لیے کہا تھا۔
جتودیا ملک کے پہلے مسلم سربراہ مملکت تھے اور وہ پچھلے سال اُس وقت اقتدار ميں آئے تھے، جب سیلیکا نامی باغیوں نے کارروائی کرتے ہوئے سابق صدر فرانسوا بوزیزی کو معزول کر دیا تھا۔ جتودیا کے صدر بننے کے ساتھ ہی ملک ميں بسنے والے مسلمانوں اور مسیحیوں کے مابین لڑائی شروع ہو گئی تھی۔
وسطی افریقی جمہوریہ ميں جمعے اور ہفتے کی درميانی شب جتوديا کے ملک چھوڑنے کی خبروں پر چند حلقوں کی جانب مسرت کا اظہار بھی کيا گيا اور اِسی دوران پرتشدد واقعات کی رپورٹيں بھی موصول ہوئی ہيں۔ وہاں تعينات افريقی اور فرانسيسی امن دستوں نے سيليکا باغيوں اور مسيحی مليشياؤں کے مابين جھڑپوں کا بتايا ہے۔ نيوز ايجنسی روئٹرز کے مطابق اميد کی جارہی تھی کہ قيادت ميں تبديلی قيام امن کے ليے جاری کوششوں کو نئی تقويت بخشے گی تاہم ايسا نہ ہو سکا۔ وہاں مساجد کو نذر آتش کيا گيا اور مسلمانوں کی دکانوں و ديگر اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ہفتے کا دن قدرے پُر امن رہا اور دارالحکومت بنگوئی سے موصول ہونے والی رپورٹوں کے مطابق پورے دن شہر کی سڑکيں سنساں رہیں۔
وسطی افریقی جمہوریہ ميں اِس وقت ملکی قيادت اليگزينڈر فرڈيننڈ نگوئنڈٹ سنبھال رہے ہيں، جو عبوری اسمبلی کے سربراہ بھی ہيں۔ وہ اُس وقت تک يہ ذمہ داری سنبھاليں گے، جب تک اِسی برس ہونے والے انتخابات کے بعد نئی اسمبلی حلف نہ اٹھا لے۔
اس ملک ميں افريقی ممالک کے چار ہزار اور فرانس کے سولہ سو امن دستوں کی موجودگی کے باوجود حالات انتہائی تشويشناک ہيں۔ مہاجرین سے متعلق بين الاقوامی ادارے نے ہفتے کے روز وہاں موجود غير ملکيوں کو نکالنے کا عمل شروع کيا تھا۔ اس دوران مالی سينيگال، نائجر، چاڈ کے قريب ستائيس ہزار باشندوں کو وسطی افريقہ جمہوريہ سے نکالا جا چکا ہے جبکہ ابھی ساٹھ ہزار مزيد افراد ايسے ہيں، جنہيں وہاں سے منتقل کيا جانا ہے۔
وسطی افریقی جمہوریہ ميں مذہبی فسادات کے سبب گزشتہ مہينے ايک ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کی رپورٹيں ہيں۔