1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

وسطی افریقی جمہوریہ کے لیے تین سو پندرہ ملین ڈالر کی امداد

شامل شمس2 فروری 2014

بین الاقوامی ڈونرز نے بحران کے شکار افریقی ملک وسطی افریقی جمہوریہ میں افریقی یونین کے امدادی کاموں کے لیے تین سو پندرہ ملین ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم یہ رقم پھر بھی ناکافی ہے۔

REUTERS/Siegfried Modola
تصویر: Reuters

تنازعات میں گھرے افریقی ممالک کے لیے ایک امدادی اجلاس ہفتے کے روز ایتھوپیا میں ہوا۔ اجلاس سے قبل مختلف ممالک کی جانب سے وسطی افریقی جمہوریہ کے لیے تین ملین ڈالر سے زائد امداد کی یقین دہانیاں کرائی گئی تھيں اور کہا گیا تھا کہ مارچ 2013ء سے بے امنی کے شکار اس ملک پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ ادیس ابابا میں جمع ہونے والی رقم بورنڈی، کانگو، آئیوری کوسٹ، لائبیریا، مالی، سیرا لیون، سوڈان اور گنی بساؤ میں ہنگامی صورت حال کے شکار افراد پر بھی خرچ کی جائے گی۔ اس امدادی اجلاس میں ساٹھ ممالک کے نمائندوں اور بین الاقوامی تنظیموں نے شرکت کی۔

اجلاس میں اس ملک کے لیے تین سو پندرہ ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا گیا ہے تاہم یہ رقم چار سو نو ملین ڈالر کے اس ہدف سے کم ہے جو کہ افریقی یونین کی امن افواج کو سالانہ درکار ہوتی ہے۔

یورپی یونین کی جانب سے سب سے زیادہ رقم کا اعلان کیا گیا، یعنی اکسٹھ ملین ڈالر۔ اس حوالے سے یورپی یونین کے افریقا کے لیے ڈائریکٹر نکولاس ویسٹکوٹ کا کہنا ہے: ’’ہم وسطی افریقی جمہوریہ کے سیاسی اور معاشی بحران کو ختم کرنے کے لیے جو فوری ضروریات ہیں ان سے واقف ہیں۔‘‘

خیال رہے کہ دسمبر سن دو ہزار بارہ میں مسلمان سیلیکا باغیوں کی جانب سے صدر فرانکوئس بوزیز کی حکومت کے خلاف کارروائیوں اور اسی برس مارچ میں ان کے اقتدار کے خاتمے سے لے کر اب تک یورپی یونین اس بحران زدہ ملک کے لیے دو سو اکہتر ملین ڈالر کی امداد مہیا کر چکا ہے۔

ہفتے کے اجلاس کے موقع پر برطانیہ نے تین اعشاریہ تین ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا۔ برطانیہ گزشتہ تیرہ ماہ میں اس افریقی ملک کے لیے پچیس ملین ڈالر فراہم کر چکا ہے۔ جاپان کی جانب سے تین ملین جب کہ ناروے کی طرف سے ایک ملین کی امداد کا اعلان کیا گیا۔

گزشتہ ہفتے برسلز میں ہونے والے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں وسطی افریقی جمہوریہ میں امن کے قیام اور وہاں جاری نسلی فسادات کے تناظر میں فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ فرانسیسی وزیر خارجہ لاراں فابیوس کے مطابق اس ملک میں یورپی یونین کے رکن ممالک کی افواج کی تعداد پانچ سو تک ہو سکتی ہے۔

وسطی افریقی جمہوریہ کے لیے یورپی یونین کے فوجی مشن کے اعلان سے پہلے اس افریقی ملک کی 129 رکنی عبوری قومی کونسل نے دارالحکومت کی میئر کیتھرین سامبا پانزا کو عبوری صدر منتخب کیا تھا۔ ملک میں مذہبی فسادات کو روکنے میں ناکامی پر وسطی افریقی جمہوریہ کے پہلے مسلمان صدر میشل جوتودیا پر عالمی برداری نے کڑی نکتہ چینی کی تھی جس کے بعد انہوں نے دس جنوری کو اپنے منصب سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں