1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

وسطی افریقی جمہوریہ کے لیے فرانس اور یورپی یونین کے منصوبے

عاطف بلوچ15 فروری 2014

فرانس اور یورپی یونین نے شورش زدہ وسطی افریقی جمہوریہ میں امن فوجیوں کی تعداد میں اضافے کا عہد کیا ہے۔ دریں اثناء اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس افریقی ملک میں نسلی بنیادوں پر جاری تشدد سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔

تصویر: Getty Images/Afp/Johannes Eisele

پیرس حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی سابقہ نوآبادی میں قیام امن کی کوششوں میں مدد کے لیے اضافی چار سو فوجی تعینات کرے گی۔ قبل ازیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے خبردار کیا تھا کہ اس افریقی ملک میں بڑھتا ہوا تشدد نسل کشی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بان کی مون نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ وسطی افریقی جمہوریہ کے عوام کی مدد کے لیے آگے بڑھیں اور وہاں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کا حصہ بنیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق وسطی افریقی جمہوریہ میں سات لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیںتصویر: Reuters

اقوام متحدہ کی اس اپیل کے بعد فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ کے دفتر کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا، ’’امن کے دشمن تمام عناصر کے خلاف جنگ کی جائے گی۔۔۔ جرم کے مرتکب افراد کو معافی نہیں دی جائے گی۔‘‘ وسطی افریقی جمہوریہ میں مزید فرانسیسی فوجیوں کی تعیناتی کے بعد وہاں مجموعی طور پر اس یورپی ملک کے سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد دو ہزار ہو جائے گی۔ پیرس حکومت وہاں افریقی یونین کے امن فوجیوں کی مدد کر رہی ہے۔ فی الحال وسطی افریقی جمہوریہ میں تعینات افریقی یونین کے فوجیوں کی مجموعی تعداد چھ ہزار ہے۔

یورپی یونین بھی وسطی افریقی جمہوریہ میں اپنے مجوزہ امن فوجی مشن پر غور کر رہی ہے۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کی نگران کیتھرین ایشٹن نے کہا ہے کہ اٹھائیس رکن ممالک کے اس بلاک نے وسطی افریقی جمہوریہ میں پانچ سو فوجیوں کی تعیناتی کا منصوبہ بنا رکھا ہے تاہم اب اس تعداد کو دوگنا کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ نیو یارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس میں شرکت کے بعد جمعے کے دن انہوں نے مزید کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ فوجی جلد ہی وسطی افریقی جمہوریہ پہنچ جائیں گے۔

اگرچہ گزشتہ ماہ یورپی یونین نے وسطی افریقی جمہوریہ میں قیام امن کی کوششوں کے لیے افریقی یونین اور فرانس کے ساتھ تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم جرمنی اور برطانیہ جیسے اہم یورپی ممالک نے وہاں اپنے فوجی روانہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

وسطی افریقی جمہوریہ میں تعینات افریقی یونین کے امن فوجیوں کی کل تعداد چھ ہزار ہےتصویر: picture-alliance/AP

وسطی افریقی جمہوریہ میں گزشتہ مارچ اس وقت ایک بحرانی صورتحال پیدا ہو گئی تھی جب سلیکا نامی مسلمان باغیوں کے ایک گروہ نے حکومت کا تختہ الٹتے ہوئے میشل جوتودیا کو صدر کے عہدے پر فائز کر دیا تھا۔ اس پیشرفت کے بعد اس باغی گروہ نے بالخصوص مسیحی آبادی پر حملے کرنا شروع کر دیے، جس کے نتیجے میں مسیحی آبادی نے بھی ہتھیار اٹھا لیے۔ جوتودیا ملک میں جاری تشدد کا خاتمہ کرنے میں ناکام ہو گئے تھے، جس کے بعد ہمسایہ ممالک کے دباؤ کے نتیجے میں وہ گزشتہ ماہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔

اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق اس افریقی ملک میں جاری تشدد کے نتیجے میں سات لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران اس تنازعے میں کم ازکم 133 بچے ہلاک ہوئے یا معذور ہو چکے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ متحارب گروپوں نے پر تشدد کارروائیوں کے دوران کچھ بچوں کے گلے کاٹے اور کچھ کے جسم کے اعضاء بھی۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں