وکی پیڈیا کا متبادل ’قابل اعتماد روسی ورژن‘، پوٹن کی تجویز
6 نومبر 2019
روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا ہے کہ روس وکی پیڈیا کے متبادل کے طور پر اس ویب سائٹ کا ایک ایسا روسی ورژن تیار کرے گا، جو زیادہ قابل اعتماد ہو گا۔ ماسکو نے حال ہی ’روس کا الگ انٹرنیٹ‘ بنانے کے لیے ایک قانون منظور کیا ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/A. Druzhinin
اشتہار
وکی پیڈیا ایک ایسی آن لائن انسائیکلوپیڈیا ویب سائٹ ہے، جہاں لوگ اپنے طور پر معلومات میں ترمیم و تحریف بھی کر سکتے ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن 'کراؤڈ سورسنگ‘ سے جمع کردہ معلومات کے اس ذخیرے سے خوش دکھائی نہیں دیتے اور اسی لیے انہوں نے اب اس کا روسی متبادل تیار کیے جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
وکی پیڈیا کے بارے میں صدر پوٹن کا کہنا تھا، ''بہتر ہو گا کہ اسے ایک نئے اور بڑے روسی انسائیکلوپیڈیا سے تبدیل کر دیا جائے۔ اس (نئی ویب سائٹ) پر بہرصورت قابل اعتماد معلومات جدید انداز میں موجود ہوں گی۔‘‘
صدر پوٹن نے اس رائے کا اظہار بدھ کے روز کریملن میں روسی زبان سے متعلق کونسل کے ایک اجلاس کے دوران کیا۔ اس اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ روسی زبان میں انسائیکلوپیڈیا کتابی صورت میں شائع کرنے والے ناشرین کو ڈیجیٹل ورژن تیار کرنے کے لیے مالی امداد بھی فراہم کی جائے گی۔
روس کا 'اپنا انٹرنیٹ‘
صدر پوٹن کے اس بیان سے ایک روز قبل ہی روس میں ایسے قوانین نافذ العمل ہو گئے تھے، جن کے ذریعے روسی حکام ملکی انٹرنیٹ کو باقی دنیا سے منقطع کر کے 'روس کا اپنا انٹرنیٹ‘ بنا پائیں گے۔ یہ ایک طرح سے روس میں پورے ملک کی سطح پر ایک بڑا 'انٹرا نیٹ‘ ہو گا۔
علاوہ ازیں ماسکو نے یہ اعلان بھی کر رکھا ہے کہ سن 2021 تک روس اپنا آزاد 'ڈومین نیم سسٹم‘ (ڈی این ایس) بھی تیار کر لے گا۔ یوں ماسکو حکومت روسی صارفین کو اپنی مرضی کی ویب سائٹ پر بھیج سکنے کی اہلیت اور صلاحیت بھی حاصل کر لے گی۔
کیٹ مون مارٹیر (ش ح / م م )
ٹیکنالوجی کے عہد کے لیے تیار، کون سا ملک کہاں کھڑا ہے؟
ٹیکنالوجی کی دنیا کی تیز رفتار ترقی ناممکن کو ممکن بنانے کی جانب گامزن ہے۔ امکانات کی اس عالمگیر دنیا میں جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہوئے بغیر ترقی کرنا ناممکن ہو گا۔ دیکھیے کون سا ملک کہاں کھڑا ہے۔
تصویر: picture-alliance/Photoshot
آسٹریلیا، سنگاپور، سویڈن – سب سے آگے
دی اکانومسٹ کے تحقیقی ادارے کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق آئندہ پانچ برسوں کے لیے یہ تینوں ممالک ایک جتنے نمبر حاصل کر کے مشترکہ طور پر پہلے نمبر پر ہیں۔ سن 2013 تا 2017 کے انڈیکس میں فن لینڈ پہلے، سویڈن دوسرے اور آسٹریلیا تیسرے نمبر پر تھا۔
تصویر: Reuters/A. Cser
جرمنی، امریکا، فن لینڈ، فرانس، جاپان اور ہالینڈ – چوتھے نمبر پر
یہ چھ ممالک یکساں پوائنٹس کے ساتھ چوتھے نمبر ہیں جب کہ امریکا پہلی مرتبہ ٹاپ ٹین ممالک کی فہرست میں شامل ہو پایا ہے۔ گزشتہ انڈیکس میں جرمنی تیسرے اور جاپان آٹھویں نمبر پر تھا۔ ان سبھی ممالک کو 9.44 پوائنٹس دیے گئے۔
تصویر: Getty Images/AFP/T. Schwarz
آسٹریا، سمیت پانچ ممالک مشترکہ طور پر دسویں نمبر پر
گزشتہ انڈیکس میں آسٹریا جرمنی کے ساتھ تیسرے نمبر پر تھا تاہم دی اکانومسٹ کی پیش گوئی کے مطابق اگلے پانچ برسوں میں وہ اس ضمن میں تیز رفتار ترقی نہیں کر پائے گا۔ آسٹریا کے ساتھ اس پوزیشن پر بیلجیم، ہانگ کانگ، جنوبی کوریا اور تائیوان جیسے ممالک ہیں۔
تصویر: Reuters
کینیڈا، ڈنمارک، سوئٹزرلینڈ، ایسٹونیا، نیوزی لینڈ
8.87 پوائنٹس کے ساتھ یہ ممالک بھی مشترکہ طور پر پندرھویں نمبر پر ہیں
تصویر: ZDF
برطانیہ اور اسرائیل بائیسویں نمبر پر
اسرائیل نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق کے لیے خطیر رقم خرچ کی ہے۔ 8.6 پوائنٹس کے ساتھ برطانیہ اور اسرائیل اس انڈیکس میں بیسویں نمبر پر ہیں۔
تصویر: Reuters
متحدہ عرب امارات کا تئیسواں نمبر
مشرق وسطیٰ کے ممالک میں سب سے بہتر درجہ بندی یو اے ای کی ہے جو سپین اور آئرلینڈ جیسے ممالک کے ہمراہ تئیسویں نمبر پر ہے۔
تصویر: Imago/Xinhua
قطر بھی کچھ ہی پیچھے
گزشتہ انڈیکس میں قطر کو 7.5 پوائنٹس دیے گئے تھے اور اگلے پانچ برسوں میں بھی اس کے پوائنٹس میں اضافہ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اس کے باوجود اٹلی، ملائیشیا اور تین دیگر ممالک کے ساتھ قطر ستائیسویں نمبر پر ہے۔
تصویر: picture alliance/robertharding/F. Fell
روس اور چین بھی ساتھ ساتھ
چین اور روس کو 7.18 پوائنٹس دیے گئے ہیں اور ٹیکنالوجی کے عہد کی تیاری میں یہ دونوں عالمی طاقتیں سلووینیہ اور ارجنٹائن جیسے ممالک کے ساتھ 32ویں نمبر پر ہیں۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/G. Baker
مشرقی یورپی ممالک ایک ساتھ
ہنگری، بلغاریہ، سلوواکیہ اور یوکرائن جیسے ممالک کی ٹیکنالوجی کے عہد کے لیے تیاری بھی ایک ہی جیسی دکھائی دیتی ہے۔ اس بین الاقوامی درجہ بندی میں یہ ممالک انتالیسویں نمبر پر ہیں۔
تصویر: Imago
بھارت، سعودی عرب اور ترکی بھی قریب قریب
گزشتہ انڈیکس میں بھارت کے 5.5 پوائنٹس تھے تاہم ٹیکنالوجی اختیار کرنے میں تیزی سے ترقی کر کے وہ اب 6.34 پوائنٹس کے ساتھ جنوبی افریقہ سمیت چار دیگر ممالک کے ساتھ 42 ویں نمبر پر ہے۔ سعودی عرب 47 ویں جب کہ ترکی 49 ویں نمبر پر ہے۔
تصویر: AP
پاکستان، بنگلہ دیش – تقریباﹰ آخر میں
بیاسی ممالک کی اس درجہ بندی میں پاکستان کا نمبر 77واں ہے جب کہ بنگلہ دیش پاکستان سے بھی دو درجے پیچھے ہے۔ گزشتہ انڈیکس میں پاکستان کے 2.40 پوائنٹس تھے جب کہ موجودہ انڈیکس میں اس کے 2.68 پوائنٹس ہیں۔ موبائل فون انٹرنیٹ کے حوالے سے بھی پاکستان سے بھی پیچھے صرف دو ہی ممالک ہیں۔ انگولا 1.56 پوائنٹس کے ساتھ سب سے آخر میں ہے۔