1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

وینزویلا بھارت کے لیے رعایتی روسی تیل کا متبادل ہو سکتا ہے؟

شکور رحیم نک مارٹن
8 فروری 2026

بظاہر ٹرمپ کے دباؤ پر مودی حکومت نے روسی تیل کی خریداری میں بتدریج کمی لانے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ تاہم اب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ بھارت کے پاس سستے روسی تیل کا متبادل کیا ہو گا؟

وینزویلا کو اپنی تیل کی درآمدات بڑھانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہو گی
وینزویلا کو اپنی تیل کی درآمدات بڑھانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہو گی تصویر: Ronaldo Schemidt/AFP

رعایتی قیمتوں پر روسی اور  پابندیوں کے شکار ایرانی خام تیل کی خریداری پر کئی ماہ کے امریکی دباؤ کے بعد بھارت بظاہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطالبے کے سامنے جھک چکا ہے اور نئی دہلی نے ماسکو سے تیل کی درآمدات مرحلہ وار کم کرنے کے ساتھ امریکہ اور ممکنہ طور پر وینزویلا سے زیادہ تیل خریدنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

صدر ٹرمپ نے حال ہی میں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا کہ  بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی  نے ''روسی تیل کی خریداری بند کرنے'' کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جس کے بارے میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس سے یوکرین کی جنگ کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی صدر نریندر مودی وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے موقع پر (فائل فوٹو)تصویر: Jim Watson/AFP

روس کے لیے مضمرات

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق روس کی توانائی سے حاصل ہونے والی آمدن، جو یوکرین کے خلاف جنگ میں ماسکو کی مالی معاون رہی ہے، گزشتہ سال پانچواں حصہ کم ہو گئی، جس سے صدر ولادیمیر پوٹن پر امن معاہدے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق، بھارت 500 ارب ڈالر (424 ارب یورو) مالیت کی امریکی توانائی اور کوئلہ اس کے علاوہ ٹیکنالوجی، زرعی اور دیگر مصنوعات خرید سکتا ہے۔

وزیرِاعظم مودی نے ایکس پر ٹیرف میں کمی کی تصدیق تو کی، مگر تیل کے معاہدے کا براہِ راست ذکر نہیں کیا۔ تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک نامعلوم بھارتی سرکاری عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ امریکی پیٹرولیم سپلائز بھی اس معاہدے کا حصہ ہیں۔

بھارتی وزیرِ تجارت پیوش گوئل کا کہنا تھا کہ بھارت توانائی کے ذرائع میں تنوع لائے گا، تاہم کسی مخصوص ملک سے خریداری میں کمی یا اضافہ واضح نہیں کیا۔

اس سے قبل ٹرمپ نے اس پیش رفت کو ایک وسیع تر تجارتی معاہدے کا حصہ قرار دیا تھا، جس کے تحت امریکا بھارتی مصنوعات پر ٹیرف 50 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کرے گا جبکہ بھارت امریکی مصنوعات پر ٹیرف صفر کر دے گا۔ نئی دہلی نے تاحال اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

امریکہ نے  روس سے تیل خریدنے پر سزا کے طور پر اگست میں بھارتی اشیا پر اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، جس کے بعد بھارت پر امریکی ٹیرف دنیا میں بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ اضافی ٹیرف اب ختم کر دیا جائے گا۔

بھارت اب امریکہ اور کینیڈا سے تیل کی درآمدات کا خواہاں

بھارت نے پہلے ہی روسی کمپنیوں روزنیفٹ اور لوک آئل پر امریکی پابندیوں کے بعد روسی خام تیل پر انحصار کم کرنا شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے بھارتی وزیرِ تیل ہردیپ سنگھ پوری نے بلومبرگ کو بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں روس سے تیل کی ترسیل تقریباً ایک تہائی کم ہو کر 13 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ہے۔

وینزویلا سے نکلنے والا تیل زیادہ تر بھاری اور سلفر سے بھرپور ہوتا ہے، جو بھارتی ریفائنریوں کے لیے موزوں ہےتصویر: Diego Giudice/IMAGO

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی آئل کمپنیاں کینیڈا اور امریکہ سے درآمدات بڑھانے کی خواہاں ہیں تاکہ 40 سے زائد ممالک پر مشتمل سپلائی کی حکمتِ عملی اپنائی جا سکے۔ تاہم آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے خارجہ پالیسی ماہر ہرش پنت کے مطابق روسی تیل سے فوری اور مکمل انخلا ''غیر متوقع'' ہے۔

روس سے آنے والے تیل کا مکمل متبادل امریکی تیل سے حاصل کرنا کئی ماہ یا برسوں میں ممکن ہوگا، کیونکہ بھارت کی یومیہ تقریباً 50 لاکھ بیرل درآمدات میں سے لگ بھگ ایک چوتھائی روس سے آتی ہے۔ توانائی سے متعلق تجزیاتی ادارے کلپر کے اندازوں کے مطابق اس تبدیلی سے بھارت کے درآمدی بل میں سالانہ 9 سے 11 ارب ڈالر اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ روسی تیل رعایتی جبکہ امریکی تیل مہنگا ہے۔

ٹیرف اور پابندیوں سے بچنے کا حل؟

ٹیرف اور پابندیوں کے خدشات کے باعث بھارت نے پہلے ہی امریکی تیل کی خریداری بڑھا دی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اپریل سے نومبر کے دوران امریکہ سے خام تیل کی درآمدات میں 92 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر بھارت نے 178.1 ملین ٹن تیل درآمد کیا، جن میں سے 13 ملین ٹن امریکا سے آیا، جو 2024 میں اسی مدت کے 7.1 ملین ٹن کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

اگرچہ امریکہ  تیل پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے مگر اتنی بڑی مقدار میں تیل بھارت منتقل کرنا آسان نہیں۔ سفر میں چھ ہفتے سے زیادہ وقت لگتا ہے، ٹینکرز طویل راستوں پر مصروف رہتے ہیں اور خلیجِ میکسیکو کا امریکی برآمدی نظام پہلے ہی تقریباً مکمل گنجائش پر چل رہا ہے۔

بھارت کے خلاف امریکی ٹیرفس سے کیا خطرات ہیں؟

02:13

This browser does not support the video element.

ٹرمپ کے دوسرے دور کی توانائی پالیسی کے تحت  بھارت کو یورپی یونین سے بھی امریکی تیل کے لیے مسابقت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یورپی یونین نے جولائی میں 2028 تک 750 ارب ڈالر مالیت کی ایل این جی، امریکی تیل اور جوہری توانائی کی مصنوعات خریدنے پر اتفاق کیا تھا۔

بھارتی ریفائنریاں روسی یورالز کے بھاری اور زیادہ گندھک والے خام تیل کے لیے موزوں ہیں، جس سے ڈیزل اور جیٹ فیول تیار کیا جاتا ہے۔ امریکی ہلکے خام تیل پر منتقل ہونے کے لیے آپریشنل تبدیلیاں درکار ہوں گی، جن میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔

وینزویلا سے تیل کی ترسیل کتنی قابل عمل؟

ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کا ذکر اس امکان کو جنم دیتا ہے کہ بھارت اس لاطینی امریکی ملک کے تیل کے شعبے کی بحالی میں کردار ادا کرے۔ وینزویلا کی عبوری حکومت نے امریکا کے ساتھ 50 ملین بیرل تک خام تیل فروخت کرنے کا معاہدہ کیا ہے اور وہ توانائی سے متعلق قوانین میں اصلاحات کر رہی ہے۔ بھارت مارچ گزشتہ سال تک وینزویلا کا بڑا خریدار تھا، مگر اس کے بعد امریکا نے وینزویلا سے تیل خریدنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا تھا۔

وینزویلا سے نکلنے والا تیل زیادہ تر بھاری اور سلفر سے بھرپور ہوتا ہے، جو بھارتی ریفائنریوں کے لیے موزوں ہے، تاہم پابندیاں، لاجسٹک مسائل اور اخراجات سپلائی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اس وقت وینزویلا کی پیداوار تقریباً 9 لاکھ بیرل یومیہ ہے، جو 2000 کی دہائی کے اوائل کی 30 سے 40 لاکھ بیرل یومیہ سطح سے کہیں کم ہے، اس لیے بھارت کی ضروریات پوری کرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

عالمی سطح پر، بھارتی درآمدات کی سمت میں یہ تبدیلی بتدریج ہوگی، اس لیے فوری طور پر عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر بڑا اثر متوقع نہیں۔ بھارت کو روس کے ساتھ پہلے سے طے شدہ معاہدوں اور زیرِ ترسیل کارگو کی پاسداری کرنا ہوگی، جن کی لیڈ ٹائم اکثر 90 دن تک ہوتی ہے۔

ادھر چین، جو روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، اپنی خریداری مزید بڑھا سکتا ہے جبکہ ترکی اور بعض افریقی ممالک بھی ایسا کر سکتے ہیں۔

ادارت: عدنان اسحاق

بھارت روس پر لگی پابندیوں سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ملکوں میں سے ایک

01:08

This browser does not support the video element.

 

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں