وینزویلا میں امریکی کارروائی پر عالمی رد عمل
3 جنوری 2026
امریکہ کی جانب سے وینزویلا میں فوجی کارروائی اور اس کے صدر نکولاس مادورو کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کرنے کی خبروں کے بعد عالمی سطح پر ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکی افواج نے مادورو کو گرفتار کر لیا ہے اور انہیں اور ان کی اہلیہ کو ملک سے باہر منتقل کر دیا ہے۔
وینزویلا کی حکومت نے اسے واشنگٹن کی جانب سے ’’انتہائی سنگین فوجی جارحیت‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی۔
وینزویلا کا امریکی بمباری پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ
صدر نکولاس مادورو کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کے درمیان، وینزویلا نے آج ہفتہ تین جنوری کو وینزویلا میں امریکی حملوں پر بحث کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان گل نے ٹیلی گرام پر لکھا، ''امریکی حکومت کی جانب سے ہمارے وطن کے خلاف کی جانے والی مجرمانہ جارحیت کے پیش نظر، ہم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانے کی درخواست کی ہے، جو بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی ذمہ دار ہے۔‘‘
اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام کیا جانا چاہیے، کایا کالاس
یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس نے وینزویلا کی صورتحال کے حوالے سے کہا ہے کہ تمام حالات میں بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام کیا جانا چاہیے۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس کے مطابق یورپی یونین نے بارہا کہا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو ''قانونی جواز کی کمی‘‘ کا شکار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اس صورتحال کے حوالے سے تحمل اور بین الاقوامی قانون کے احترام کی اپیل کی ہے۔
کالاس نے ایکس پر کہا، ''میں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور کراکس میں اپنے سفیر سے بات کی ہے۔ یورپی یونین وینزویلا کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، '’ یورپی یونین نے بارہا یہ بیان دیا ہے کہ جناب مادورو کے پاس قانونی جواز نہیں ہے اور ہم نے (اقتدار کی) پرامن منتقلی کا دفاع کیا ہے۔ تمام حالات میں بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ہم تحمل کی اپیل کرتے ہیں۔‘‘
ایران
وینزویلا کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والے ملک ایران نے کہا کہ وہ ''وینزویلا پر امریکی فوجی حملے اور ملک کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی کی شدید مذمت کرتا ہے۔‘‘
کولمبیا
کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے اسے لاطینی امریکہ کی ''خودمختاری پر حملہ‘‘ قرار دیا، جو انسانی بحران کا باعث بنے گا۔ کولمبیا اس سال سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے اور بائیں بازو کے رہنما پیٹرو نے کونسل کا اجلاس ''فوری‘‘ بلانے کا مطالبہ کیا۔
کیوبا
روایتی علاقائی اتحادی کیوبا نے اسے ''بہادر وینزویلا کے عوام کے خلاف ریاستی دہشت گردی‘‘ قرار دے کر اس کی مذمت کی ہے۔ صدر میگل ڈیاز کینیل نے کراکس پر ''مجرمانہ حملے‘‘ کے بعد عالمی برادری سے ردعمل دینے کی اپیل کی۔
روس
روس نے امریکی فوجی کارروائی کو ''وینزویلا کے خلاف مسلح جارحیت کا فعل‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا، ''یہ انتہائی تشویشناک اور قابل مذمت ہے۔ ایسی کارروائیوں کے جواز کے لیے پیش کیے گئے بہانے ناقابل دفاع ہیں۔ نظریاتی دشمنی نے کاروباری عملیت پسندی پر فتح حاصل کر لی ہے۔‘‘
اسپین
اسپین نے بحران میں ثالثی کی پیشکش کی تاکہ مذاکرات کے ذریعے پرامن حل نکالا جا سکے۔ ہسپانوی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا، ''اسپین کشیدگی میں کمی اور تحمل کی اپیل کرتا ہے اور ملک کے لیے جمہوری، مذاکراتی اور پرامن حل کی تلاش میں مدد کے لیے تیار ہے۔‘‘
جرمنی
جرمن وزارت خارجہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ''ہم وینزویلا کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور تازہ ترین رپورٹس کو بڑی تشویش کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ وزارت خارجہ کراکس میں سفارت خانے کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔‘‘ برلن نے مزید کہا کہ حکومت کی کرائسز ٹیم کا اجلاس جاری ہے اور ''ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے کر رہے ہیں۔‘‘
اٹلی
اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ ''وینزویلا کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور وزیر خارجہ انتونیو تاجانی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، تاکہ اپنے شہریوں کے بارے میں بھی معلومات جمع کی جا سکیں۔‘‘
امریکی ڈیموکریٹک سینیٹرزکا ردعمل
امریکی سینیٹر برائن شاٹز نے 'ایکس‘ پر لکھا، ''وینزویلا میں ہمارے ایسے کوئی اہم قومی مفادات نہیں ہیں جو جنگ کا جواز بن سکیں۔ ہمیں اب تک یہ سیکھ لینا چاہیے تھا کہ کسی اور بے وقوفانہ مہم جوئی میں نہ پھنسیں۔‘‘
ڈیموکریٹ سینیٹر روبن گالیگو نے کہا، ''یہ جنگ غیر قانونی ہے، یہ شرمناک ہے کہ ہم ایک سال سے بھی کم عرصے میں دنیا کے پولیس والے سے دنیا کے بدمعاش بن گئے ہیں۔ ہمارے پاس وینزویلا کے ساتھ جنگ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔‘‘