1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’يورپی بينکوں کے ليے عظيم دن‘

عاصم سليم19 دسمبر 2013

برسلز ميں يورپی يونين کے وزرائے خزانہ کے اجلاس ميں بلاک کے ليے مشترکہ بينکنگ يونين کے قيام کے حوالے سے اتفاق رائے قائم ہو گيا ہے۔ اب اگلے مرحلے ميں اس سمجھوتے کو حتمی منظوری کے ليے يورپی پارليمان ميں پيش کيا جائے گا۔

تصویر: Getty Images

کئی مہينوں سے جاری کوششوں کے بعد يورپی يونين کے وزرائے خزانہ بالآخر اس سمجھوتے تک پہنچ گئے ہيں، جس کے تحت مستقبل ميں مالی مشکلات کے شکار بينکوں کے بوجھ کو ملکی حکومتوں پر پڑنے سے روکا جا سکے گا۔ اس حوالے سے وزراء کے مابين اتفاق رائے قائم ہونے کی خبر يورپی يونين کے بينکنگ کمشنر مشل بارنيئر نے مائکرو بلاگنگ ويب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے ايک پيغام کے ذريعے دی۔

مستقبل ميں کسی ممکنہ اقتصادی بحران کی صورتحال سے نمٹنے کے ليے مشترکہ بينکنگ يونين کے قيام کے سلسلے ميں يہ دوسرا مرحلہ تھا۔ پہلے مرحلے ميں يورو زون کے بڑے بينکوں کو يورپی مرکزی بينک کے ماتحت کام کرنے کے حوالے سے ايک سمجھوتہ طے پا چکا ہے۔

جرمن وزير خزانہ شوئبلے نے کہا کہ بينکنگ يونين کا آخری قانونی ستون کھڑا ہو گيا ہےتصویر: reuters

بيلجئم کے دارالحکومت برسلز ميں اٹھارہ دسمبر کو قريب بارہ گھنٹوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد لتھووينيا کے وزير خارجہ ريمانتس ساڈزيئس نے اس بارے ميں بات کرتے ہوئے کہا، ’’اب يہ کام رکن رياستوں کا ہے کہ وہ حتمی معاہدے کے ليے يورپی پارليمان کے ساتھ مذاکرات کريں اور خطے کے بينکنگ سيکٹر کے ليے ايک نئے باب کا آغاز کر سکيں۔‘‘

’سنگل ريزولوشن مکينيزم‘ کہلائے جانے والے اس نظام کے تحت يورو زون کے مالی مشکلات کے شکار بينکوں کی يا تو مالی معاونت کی جائے گی يا انہيں ختم کر ديا جائے تاکہ ان کے اثرات حکومتوں تک نہ پہنچيں، جيسا کہ چند ملکوں کے ساتھ موجودہ يورپی اقتصادی بحران کے دوران ہو چکا ہے۔ يورپ کی دو اہم ترين معيشتوں کے حامل ممالک جرمنی اور فرانس کے درميان اس بارے ميں اختلافات قائم تھے کہ يہ حتمی فيصلہ کون کرے گا کہ کس بينک کو ختم کرنا ہے اور اس کے اخراجات کون پورے کرے گا۔ سمجھوتے کے تحت طے يہ پايا ہے کہ اس مقصد کے ليے بينکوں کے اشتراک سے آئندہ دس برس کے دوران پچپن بلين يورو کا ايک خصوصی فنڈ قائم کيا جائے گا تاکہ ٹيکس ادا کرنے والوں يا عام صارفين پر اس کا بوجھ نہ پڑے۔ جس دوران فنڈ مکمل کيا جا رہا ہوگا، اس وقت درکار رقوم رکن رياستيں يا ’يورپين اسٹيبيليٹی مکينيزم‘ کہلانے والے يورپی يونين ريسکيو فنڈ سے مہيا کی جائيں گی۔

سمجھوتے کے تحت اگر کسی بينک کو ختم کرنے کا فيصلہ کيا گيا، تو اس عمل کی ديکھ بھال کی ذمہ داری اس مخصوص ملک کے مرکزی بينک يا بينکنگ اتھارٹی پر عائد ہو گی۔ ليکن اگر ’سنگل ريزولوشن مکينيزم‘ کے احکامات پر عمل نہ کيا جا رہا ہو، تو اس ادارے کو يہ اختيار حاصل ہوگا کہ وہ متعلقہ بينک سے براہ راست رجوع کر سکتا ہے۔

اس معاملے پر بھی اتفاق رائے ہو گيا ہے کہ کسی بينک کے ناکام ہونے کی صورت ميں مالی بوجھ ’شيئر ہولڈرز اور کريڈيٹرز‘ پر پڑے گا۔ وہ عام صارفين، جن کا بينک ميں جمع کردہ سرمايہ ايک لاکھ يورو سے کم ہوگا، اس سے متاثر نہيں ہوں گے ليکن بڑی يا زيادہ بچت کے حامل صارفين کو مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اٹھائيس رکنی يورپی يونين کے وزرائے خزانہ پر اس سلسلے ميں کافی دباؤ تھا کہ وہ بدھ کے روز کسی سمجھوتے تک پہنچيں تاکہ آج جمعرات اور کل جمعے کو ہونے والے يورپی يونين کے سربراہی اجلاس ميں سربراہان مملکت اس سمجھوتے کی منظوری دے سکيں۔ يورپی حکمرانوں سے منظوری کے بعد يہ سمجھوتہ حتمی منظوری کے ليے يورپی پارليمان ميں پيش کيا جائے گا، جہاں کافی بحث و مباحثہ متوقع ہے۔ يورپی بلاک کی خواہش ہے کہ يکم جنوری 2015ء سے ’سنگل ريزوليوشن ميکينزم‘ کا نفاذ ممکن ہو سکے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں