يورپی وزراء کا اجلاس، مشرق وسطیٰ سميت اہم امور زير بحث
19 نومبر 2012
خبر رساں ادارے روئٹرز کی ايک رپورٹ ميں سفارت کاروں کے ذرائع سے بتايا گيا ہےکہ پير کو برسلز ميں ہونے والے اس اجلاس ميں اس بات کا امکان ہے کہ يورپی يونين شامی اپوزیشن کے نئے قومی اتحاد کو مکمل طور پر شامی عوام کی واحد نمائندہ تنظيم تسليم نہ کرے۔
ايک سفارت کار کے مطابق رکن ملکوں کے وزراء خارجہ شام کی نئی متحد اپوزيشن کی حوصلہ افزائی کے ليے مشاورت کریں گے ليکن وہ اپوزيشن کو مکمل طور پر تسليم نہيں کريں گے۔
اس بارے میں بات کرتے ہوئے ايک اور سفارت کار کا کہنا تھا کہ اگرچہ ايک متحد اپوزيشن کا قيام اہم سياسی پيش رفت ہے تاہم اس سلسلے ميں کسی حتمی نتيجے تک پہنچنے کے ليے متعدد دھڑوں کے متحد ہونے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ ليا جائے گا۔ شام کے معاملے پر سفارت کاروں کا مزيد کہنا تھا کہ شام پر اسلحے کی فروخت سے متعلق عائد پابندياں تاحال نہيں اٹھائی جائيں گی۔
نيوز ايجنسی روئٹرز کے مطابق يورپی يونين کے رکن ممالک ايک عرصے سے اس بات کے خواہاں تھے کہ شامی صدر بشار الاسد کو حکومت سے برطرف کرنے کے ليے ملک ميں سرگرم مختلف اپوزيشن دھڑے متحد ہوں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے فرانس نے اپوزیشن کے نئے اتحاد کو شامی عوام کی واحد نمائندہ تنظيم کے طور پر تسليم کر ليا تھا اور اس پيش رفت کے بعد فرانسيسی وزير خارجہ نے باغيوں کو اسلحے کی فراہمی کے حوالے سے مذاکرات کا مطالبہ بھی کيا تھا۔ البتہ ديگر مغربی ممالک شامی باغيوں کے درميان انتہا پسند عناصر کی موجودگی اور اقوام متحدہ کے تحقيق کاروں کی جانب سے باغيوں پر جنگی جرائم کے الزامات کی روشنی ميں خدشات کا شکار ہيں۔
دوسری جانب روئٹرز کے مطابق آج ہونے والا یہ اجلاس مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں یورپی يونين کی خارجہ پاليسی کا امتحان قرار ديا جا رہا ہے۔ تاہم سفارت کاروں کے بقول اسرائيل کے معاملے پر رکن ممالک کے مابين مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔
يورپی يونين کے رکن ممالک کے وزراء خارجہ اور وزراء دفاع افريقی ملک مالی کے شمالی حصے ميں قابض اسلامی عسکريت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی ميں مالی کی افواج کی معاونت کے منصوبے پر بھی بات کريں گے۔ روئٹرز کے مطابق ممکن ہے کہ يورپی يونين کی جانب سے دو سو فوجيوں پر مشتمل ايک دستہ وہاں بھيجا جائے گا، جو سرکاری فوج کو تربيت فراہم کرے گا۔ يونين ان فوجيوں کے کردار کو محض تربيتی رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے اور يہ فوجی باقاعدہ ’لڑائی‘ کا حصہ نہيں بنيں گے۔
اس کے علاوہ آج کے اجلاس ميں ايران کا متنازعہ جوہری پروگرام بھی زير بحث آئے گا۔ اقوام متحدہ کی ايک حاليہ رپورٹ کے مطابق ايران نے ايک زير زمين پلانٹ ميں يورينيم کی افزودگی ميں خاطر خواہ اضافہ کر ديا ہے۔ اسی سلسلے ميں يورپی يونين کی خارجہ پاليسی کی سربراہ کيتھرين ايشٹن رواں ہفتے بدھ کے روز خطے کے چھ طاقتور مملک کے نمائندگان کے ساتھ مذاکرات کريں گی۔
as/ab (Reuters)