يورپی يونين کا يوکرائن ميں نئی حکومت، آئينی اصلاحات پر زور
11 فروری 2014
اٹھائيس رکنی يورپی يونين میں شامل رياستوں کے وزرائے خارجہ نے پير دس فروری کی شام جاری کردہ اپنے مشترکہ بيان ميں کہا کہ وہ يوکرائن ميں احتجاجی مظاہروں کے خلاف حکومتی کريک ڈاؤن کے تناظر ميں وہاں انسانی حقوق کی صورتحال سميت ظلم و تشدد، عوام کو ہراساں کرنے اور جبری گمشدگیوں کے واقعات پر تشويش کا شکار ہيں۔ وزرائے خارجہ کا يہ بيان برسلز ميں ہونے والے اجلاس کے بعد جاری کيا گيا۔
اِس اجلاس ميں يورپی بلاک کے وزراء نے ایک بار پھر کہا کہ يوکرائن کی مالی مدد کی جا سکتی ہے تاہم اس کے ليے وہاں ايک ايسی نئی حکومت کا قيام لازمی ہے، جو سياسی اور اقتصادی اصلاحات پر توجہ دے سکے۔ وزرائے خارجہ نے مزید کہا کہ کییف میں نئی حکومت کا قيام، ايسی آئينی اصلاحات جن سے طاقت کا توازن بہتر ہو سکے اور آزادانہ اور منصفانہ صدارتی انتخابات کی تيارياں وہ اقدامات ہيں، جن کے ذريعے يوکرائن خود کو دوبارہ اصلاحات کے راستے پر لا سکتا ہے۔
يوکرائن ميں جاری سياسی بحران کے تناظر ميں اگرچہ تاحال يورپی يونين نے کييف حکام پر سفری پابنديوں يا اُن کے اثاثے منجمد کرنے جيسے اقدامات سے پرہيز کيا ہے تاہم اب وہاں آئينی اصلاحات اور نئے انتخابات کے مطالبات سے يہ واضح ہو گیا ہے کہ یورپی یونین کے صبر کا پيمانہ لبريز ہوتا جا رہا ہے۔
يوکرائن ميں گزشتہ قريب تين ماہ سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ اُس وقت شروع ہوا تھا، جب صدر وکٹر يانوکووچ نے يورپی يونين کے ساتھ ایک جامع معاہدے پر دستخطوں سے انکار کرتے ہوئے اُس کے بجائے روس کے ساتھ روابط بڑھانے کو ترجيح دی تھی اور 15 بلين ڈالر کے قرض پر مبنی ايک روسی پيکج بھی تسليم کر ليا تھا۔ اس پيش رفت کے بعد سے وہاں سياسی بحران پایا جاتا ہے، جس سے اس ملک کی پہلے سے ہی کمزور معيشت مزيد بد حال ہو گئی ہے۔
کيوبا کے ساتھ تازہ مذاکرات کا فيصلہ
پير کے روز برسلز ميں ہونے والے اسی اجلاس ميں يورپی يونين کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے کريبيین کی ریاست کيوبا کے ساتھ تعلقات ميں بہتری کے ليے تازہ مذاکرات کا فيصلہ بھی کيا۔ تاہم اس موقع پر يورپی يونين کے خارجہ امور کی سربراہ کيتھرين ايشٹن نے يہ بھی کہا کہ اس سلسلے ميں پيش رفت اُسی صورت ممکن ہو سکے گی، جب کيوبا کی جانب سے بنيادی حقوق اور اقتصادی شعبے ميں اصلاحات کے عمل کو جاری رکھنے کے عزم کا عملی مظاہرہ بھی کيا جائے۔
بعد ازاں اس سلسلے ميں کيوبا حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک بيان ميں کہا گيا کہ يورپی يونين کے ساتھ بات چيت کا عمل دونوں جانب سے يکساں، غير مشروط اور غير امتيازی بنيادوں پر ہونا چاہيے۔
کيوبا ميں راؤل کاسترو کے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد ہی کہيں جا کر ملکی عوام کو چند معاملات ميں آزادی دی گئی تھی۔ اس کے بعد ہی سن 2008 ميں يورپی يونين نے کيوبا کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا فيصلہ کيا تھا۔