1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

يورپی يونين کے وزرائے خارجہ اور معاذ الخطیب کی ملاقات

11 دسمبر 2012

گزشتہ روز برسلز ميں يورپی يونين کے وزرائے خارجہ نے شامی اپوزيشن اتحاد کے سربراہ سے ملاقات کی۔ اس اجلاس کا مقصد صدر بشار الاسد کے خلاف لڑنے والے باغيوں کے ساتھ تعاون بڑھانے پر غور کرنا تھا۔

تصویر: picture alliance / dpa

شامی باغيوں کے درميان انتہا پسند عناصر کی موجودگی سے متعلق خدشات کی وجہ سے اب تک يورپی يونين نے برطانيہ اور فرانس کی طرز پر سيريئن نيشنل کوليشن کو شامی عوام کی واحد نمائندہ تنظيم کے طور پر پوری طرح تسليم نہيں کيا ہے۔ البتہ گزشتہ روز بيلجيئم ميں ہونے والے مذاکرات کو اس سلسلے ميں پيش رفت کے مساوی قرار ديا جا رہا ہے۔

برسلز ميں منعقدہ اس اجلاس کے بعد جرمن وزير خارجہ گيڈو ويسٹر ويلے نے رپورٹرز سے بات چيت کرتے ہوئے کہا، ’’سيريئن نيشنل کوليشن کو ’اپ گريڈ‘ کرنے کا وقت آ گيا ہے۔‘‘ ويسٹر ويلے کے بقول اس قدم سے صدر بشار الاسد کو اقتدار سے عليحدہ کرنے کے ليے جاری کوششوں ميں مدد ملے گی۔

پير کے روز سيريئن نيشنل کوليشن کے سربراہ معاذ الخطیب برسلز ميں تھے، جہاں انہوں نے يورپی يونين کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی۔ بعد ازاں الخطیب کا کہنا تھا کہ وہ توقع رکھتے ہيں کہ يونين رواں ہفتے بدھ تک اس بات کا فيصلہ کر لے گی کہ وہ شامی اپوزيشن اتحاد سيريئن نيشنل کوليشن کو شامی عوام کی واحد نمائندہ تنظيم کے طور پر تسليم کرتی ہے يا نہيں۔ کوليشن کے سربراہ بدھ کو مراکش ميں فرينڈز آف سيريا کے ايک اجلاس ميں شرکت کريں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس اجلاس ميں امريکی وزير خارجہ ہليری کلنٹن سيريئن نيشنل کوليشن کو شامی عوام کی واحد نمائندہ تنظيم کے طور پر تسليم کرنے کا اعلان کر سکتی ہيں۔

دوسری جانب کيميائی ہتھياروں کے روک تھام سے متعلق بين الاقوامی ايجنسی کے ايک اعلیٰ عہديدار نے کہا ہے کہ اگر شام کے پڑوسی ملکوں ميں سے کسی کی جانب سے کيميائی ہتھياروں سے متعلق خدشات کا اظہار کيا گيا تو شام کی سرحدوں پر فوری طور پر بين الاقوامی معائنہ کاروں کی ٹيم تعينات کی جا سکتی ہے۔ تاہم ايجنسی اہلکاروں کے مطابق اس بات کے کوئی شواہد نہيں ملے ہيں کہ شامی حکومت باغيوں کے خلاف کيميائی ہتھيار استعمال کرنے کی تياری کر رہی ہے۔

جرمن وزير خارجہ گيڈو ويسٹر ويلےتصویر: picture-alliance/dpa

ادھر جرمن دارالحکومت برلن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وہاں شامی سفارت خانے سے چار سفارت کاروں کو جرمنی چھوڑنے کے احکامات جاری کر ديے گئے ہيں۔ اس بارے ميں اعلان جرمن وزير خارجہ گيڈو ويسٹر ويلے نے کيا، جن کا کہنا تھا کہ ان سفارت کاروں کے پاس جرمنی چھوڑنے کے ليے جمعرات تک کا وقت ہے۔

دريں اثناء شام سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دارالحکومت دمشق کے شمال ميں شديد جھڑپيں رپورٹ کی گئی ہيں۔ سيريئن آبزرويٹری فار ہيومن رائٹس کے مطابق پير کے روز باغيوں نے حلب ميں ايک اہم ملٹری اڈے پر قبضہ کر ليا۔ آبزرويٹری کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز ملک بھر ميں کم از کم چونسٹھ افراد ہلاک ہوئے، جن ميں انيس شہری، چھبيس فوجی اور انيس باغی شامل تھے۔

(as/ng (Reuters, AFP

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں