يورپی يونين کے وزرائے خزانہ کا اجلاس، بينکنگ يونين زير بحث
10 دسمبر 2013
مستقبل ميں کسی ممکنہ اقتصادی بحران سے نمٹنے کے ليے يورپی يونين کے ليے ايک مشترکہ بينکنگ يونين کے قيام کے سلسلے ميں يہ دوسرا مرحلہ ہے۔ پہلے مرحلے ميں يورو زون کے بڑے بينکوں کو يورپی مرکزی بينک کے ماتحت کام کرنے کے حوالے سے ايک سمجھوتہ طے پا چکا ہے۔
دوسرے مرحلے ميں يورپی يونين کے رکن ممالک کے وزرائے خزانہ منگل دس دسمبر کے روز بينکنگ يونين کے دائرہ اختيار کے حوالے سے کئی معاملات پر بات چيت کر رہے ہيں۔ ’سنگل ريزوليوشن ميکينزم‘ نامی اس نظام کے تحت يہ فيصلہ کيا جائے گا کہ کس طرح مالی دشواريوں کے شکار بينکوں کو ختم کر کے اس بات کو يقينی بنايا جائے کہ ان بينکوں کے مالی مسائل حکومتوں تک نہ پھيليں۔
اس کے علاوہ ايک فنڈ کا قيام بھی زير غور ہے، جس کے ذريعے بند کرائے جانے والے بينکوں کے اخراجات پورے کيے جائيں گے تاکہ ٹيکس ادا کرنے والوں پر اس کا بوجھ نہ پڑے۔
واضح رہے کہ اس بينکنگ يونين کو حتمی شکل دينے کے حوالے سے رکن ممالک کے درميان اختلافات بھی قائم ہيں۔ رکن ملک اس بات متفق نہيں ہو پا رہے ہيں کہ کن کن بينکوں کو ’سنگل ريزوليوشن ميکينزم‘ يا (SRM) کے تحت کام کرنا چاہيے۔ جرمنی کا ماننا ہے کہ يورپی مرکزی بينک کے ماتحت کام کرنے والے صرف اعلٰی درجے کے بينکوں کو اس نظام کے تحت کام کرنا چاہيے جبکہ فرانس اور يورپی کميشن چاہتے ہيں کہ يورو زون کے تمام چھ ہزار فعال بينک SRM کے تحت کام کريں۔
اس حوالے سے بھی شديد اختلافات موجود ہيں کہ ’سنگل ريزوليوشن ميکينزم‘ کے انتظامی امور کی نگرانی کون سا يورپی محکمہ کرے گا۔ يورپی کميشن کے مطابق اس کام کے لیے وہی سب سے زيادہ اہل ہے کيونکہ کميشن کے پاس اس عمل کے ليے درکار مہارت اور آزادی دونوں ہی دستياب ہيں۔ اس کے برعکس يورپ کی سب سے مستحکم معيشت کے حامل ملک جرمنی کا مؤقف ہے کہ رکن ممالک کا اس کے کنٹرول ميں کردار اہم ہونا چاہيے۔
’سنگل ريزوليوشن ميکينزم‘ فنڈ کو ايک مخصوص حد تک پہنچانے ميں دس برس تک کا وقت لگ سکتا ہے۔ يورپی کميشن کی خواہش ہے کہ آئندہ دس سالوں ميں اسے پچپن بلين يورو تک پہنچايا جائے۔ چند رکن رياستوں کا مطالبہ ہے کہ اس فنڈ ميں يورپی يونين کے ’کرائسس مکينزم‘ سے بھی مالی امداد لی جائے جبکہ چند ديگر ممالک اس کے سخت خلاف ہيں۔
اگر وزرائے خزانہ آج کسی حتمی سمجھوتے تک پہنچے ميں کامياب رہے تو يورپی يونين کے رکن ممالک کے سراہان مملکت اور حکومت آئندہ ہفتے ہونے والے ايک سربراہی اجلاس ميں اس کی منظوری دے سکتے ہيں۔ يورپی يونين کی خواہش ہے کہ يکم جنوری 2015ء سے ’سنگل ريزوليوشن ميکينزم‘ کا نفاذ ممکن ہو سکے۔