1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

يوکرائن ميں روسی عسکری سرگرميوں پر گہری تشويش کا شکار ہيں، اوباما

عاصم سلیم1 مارچ 2014

امريکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ وہ يوکرائن ميں روسی عسکری سرگرميوں کے سبب شديد تشويش کا شکار ہيں اور اُنہوں نے ماسکو کو متنبہ کيا کہ اگر کييف کی خودمختاری کو کوئی بھی ٹھيس پہنچائی گئی، تو اِس کی اثرات مرتب ہوں گے۔

تصویر: picture-alliance/dpa

صدر اوباما نے اٹھائيس فروری کے روز وائٹ ہاؤس ميں رپورٹرز سے بات چيت کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اِس سلسلے ميں عالمی برادری کے ساتھ ہے کہ اگر يوکرائن ميں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کی گئی، تو اِس کی قيمت چکانا پڑے گی۔ اوباما کے بقول روس کی جانب سے يوکرائنی سرزمين پر عسکری سرگرميوں کے سبب وہ شديد تشويش کا شکار ہيں اور اُنہوں نے متنبہ کيا کہ يوکرائن کی خودمختاری کی خلاف ورزی عدم استحکام کا سبب بن سکتی ہے۔ اِس موقع پر اوباما نے اِس حوالے سے کوئی بات نہيں کی کہ آيا ايسی رپورٹيں درست ہيں کہ روس کے دو ہزار فوجی کريميا ميں اتارے جا چکے ہيں۔

کییف نے کہا ہے کہ کریمیا میں دو ہزار روسی فوجی روانہ کیے گئے ہیںتصویر: Reuters

اِس کے برعکس جمعے ہی کے روز اقوام متحدہ ميں روسی سفير وٹالی چرکين نے اپنے ايک بيان ميں کہا کہ يوکرائن کے نيم خود مختار علاقے جزيرہ نما کريميا ميں روسی فوج کی سرگرمياں ماسکو اور کييف کے مابين طے شدہ معاہدے کے تحت ہو رہی ہيں۔ امريکی شہر نيو يارک ميں سلامتی کونسل کے ايک اجلاس کے بعد رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے چرکين نے کہا، ’’ہم طے شدہ معاہدے کے فريم ورک کے مطابق کام کر رہے ہيں۔‘‘

يوکرائن کی اقتصادی صورتحال پر گھبراہٹ کی ضرورت نہيں، آئی ايم ايف

دريں اثناء عالمی مالياتی فنڈ کی مينيجنگ ڈائريکٹر کرسٹين لگارد نے واشنگٹن ميں جرمن وزير خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر کے ساتھ ملاقات کے بعد رپورٹرز سے بات چيت کرتے ہوئے کہا ہے کہ يوکرائن کے اقتصادی بحران پر فکر مند ہونے کی ضرورت نہيں ہے۔

لگارد نے کہا، ’’ہميں اِس وقت ايسی کوئی چيز يا نازک صورتحال نظر نہيں آ رہی، جِس کی بنياد پر گھبراہٹ کا شکار ہوا جائے۔‘‘ آئندہ چند ہفتوں کے دوران انٹرنيشنل مانيٹری فنڈ کا ايک وفد کييف کا دورہ کرنے والا ہے، جس ميں يوکرائن کو درکار اقتصادی امداد کا تعين کيا جائے گا۔ واضح رہے کہ يوکرائن کی عبوری حکومت يہ عنديہ دے چکی ہے کہ اُسے ديواليے پن سے بچنے کے ليے 35 بلين ڈالر کی مالی امداد کی ضرورت ہے۔

اِس موقع پر جرمن وزير خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر نے کہا کہ يوکرائن کی امداد کے معاملے ميں روس کو بھی شرکت کرنا چاہيے۔ اشٹائن مائر کے بقول ماسکو اور کييف کے مابين اقتصادی روابط کو مد نظر رکھتے ہوئے يہ روس ہی کے مفاد ميں ہوگا کہ وہ کييف کی امداد کے ليے مشارتی عمل کا حصہ بنے۔

ملک کے مستقبل کے ليے لڑنے کے ليے تيار ہوں، معزول صدر یانوکووچتصویر: Reuters

'ميں اب بھی يوکرائن کا صدر ہوں،‘ وکٹور يانوکووچ

دوسری جانب يوکرائن کے معزول صدر وکٹور يانوکووچ نے جمعے کے روز ايک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعوی کيا کہ وہ اب بھی يوکرائن کے صدر ہيں اور ملک کے مستقبل کے ليے لڑنے کے ليے تيار ہيں۔

اپنی بريفنگ کے دوران يانوکووچ نے کہا، ’’طاقت پر قوم پرست اور فاشسٹ نوجوان قابض ہو گئے ہيں۔‘‘ کييف ميں ڈرامائی تبديليوں اور اپنی معزولی کے تناظر ميں پانچ روز تک روپوش رہنے کے بعد خاموشی ترک کرنے والے يانوکووچ نے مزيد کہا کہ وہ ملک سے فرار نہيں ہوئے بلکہ اُن کی جان کو لاحق خطرات کے سبب اُنہيں زبردستی ملک سے نکالا گيا ہے۔ يانوکووچ کے بقول وہ اپنی سلامتی کی گارنٹی ديے جانے پر يوکرائن واپس جانے کا ارادہ رکھتے ہيں۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں