يوکرائن کا بحران، امريکا اور روس کے درميان دھمکيوں کا تبادلہ
11 اپریل 2014
روس کے صدر ولادیمير پوٹن نے جمعرات کے روز اٹھارہ يورپی رياستوں کو ايک پيغام ارسال کيا، جس ميں اُنہوں نے اِن رياستوں کو متنبہ کيا کہ اگر مغربی ممالک کی حمايت يافتہ نئی کييف حکومت نے گيس کی سپلائی کی رقم ادا نہ کی، تو اِس کے نتيجے ميں يورپی ملکوں کو گيس کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
روسی صدر پوٹن نے اپنے خط ميں لکھا ہے، ’’اگر يوکرائن 2.2 بلين ڈالر کی ادائيگی کرنے ميں ناکام رہا، تو اِس کے نتيجے ميں گيزپروم اِس پر مجبور ہو جائے گی کہ گيس کی ترسيل کی ليے ايڈوانس رقوم کا مطالبہ کيا جائے اور اگر ادائيگی کے ضوابط کی مزيد خلاف ورزی ہوئی تو روسی کمپنی گيس کی سپلائی کو جزوی يا مکمل طور پر روکنے پر مجبور ہو جائے گی۔‘‘
روسی صدر نے اپنے اِس خط ميں مزيد لکھا کہ ماسکو حکومت يوکرائن کی معيشت کے استحکام کے ليے جاری کوششوں کا حصہ بن سکتی ہے تاہم ايسا صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ يورپی یونین بھی اس حوالے سے اپنا کردار نبھائے۔
اِس کے رد عمل ميں امريکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جينيفر ساکی نے دس اپريل کے روز اپنی بريفنگ کے دوران گيس کو ايک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کے روسی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن انتظاميہ کييف حکومت کی مالی معاونت کے سلسلے ميں کام کر رہی ہے اور گيس کے متبادل ذرائع تلاش کرنے ميں بھی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ دريں اثناء امريکی وزير خزانہ جيکب ليو نے روسی دھمکی کا جواب روسی وزير خزانہ کو يہ کہہ کر ديا کہ اگر ماسکو نے جارحيت ترک نہ کی تو اُس کے خلاف تازہ پابندياں عائد کی جا سکتی ہيں۔
واضح رہے کہ روسی گيس يورپی رياستوں کی ليے کافی اہميت رکھتی ہے۔ يورپی يونين کی اٹھائيس رياستوں ميں استعمال کی جانے والی گيس کی کُل تيرہ فيصد گيس يوکرائن کے راستے اِن ممالک تک پہنچتی ہے۔ گيس کی سپلائی ميں پہلے بھی دو مرتبہ 2006ء اور 2009ء ميں خلل پڑ چکا ہے۔
ماسکو اور واشنگٹن کے مابين دھمکيوں کے اِس تازہ تبادلے کے تناظر ميں آئندہ ہفتے سترہ اپريل کے روز جينوا يا ويانا ميں ہونے والے براہ راست مذاکرات کی اہميت اور بھی زيادہ بڑھ گئی ہے۔ يوکرائن کے بحران کا سفارتی حل تلاش کرنے کے ليے ہونے والے اِن مذاکرات ميں يورپی يونين، امريکا، روس اور يوکرائن کے نمائندے شرکت کريں گے۔