1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ٹرمپ۔نیتن یاہو ملاقات میں ایران پر کوئی حتمی فیصلہ نہ ہو سکا

شکور رحیم روئٹرز، اے ایف پی، اے پی
12 فروری 2026

دونوں رہنماؤں کے مابین ڈھائی گھنٹے سے زائد وقت تک بند کمرے میں بات چیت ہوئی، جسے ٹرمپ نے ’بہت اچھی ملاقات‘ قرار دیا۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت پر ہوئی جب واشنگٹن تہران پر جوہری مذاکرات کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے۔

دونوں رہنماؤں کے مابین ڈھائی گھنٹے سے زائد وقت تک بند کمرے میں بات چیت ہوئی
دونوں رہنماؤں کے مابین ڈھائی گھنٹے سے زائد وقت تک بند کمرے میں بات چیت ہوئیتصویر: Jim Watson/AFP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات میں ایران کے حوالے سے کسی منصوبے پر کوئی حتمی اتفاق نہیں ہوا۔ بدھ کو اپنے اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر بیان میں ٹرمپ نے کہا، ''کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، سوائے اس کے کہ میں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رہیں تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے یا نہیں۔‘‘

نیتن یاہو ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کو اسرائیل کے لیے وجودی خطرہ قرار دیتے ہیں اور وہ طویل عرصے سے تہران میں حکومت کی تبدیلی کے حامی رہے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے خطے میں فوجی موجودگی میں اضافہ کرتے جا رہے ہیںتصویر: Seaman Daniel Kimmelman/US Navy/AP Photo/dpa/picture alliance

مذاکرات کا دائرہ وسیع کرنے کی کوشش

ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ڈھائی گھنٹے سے زائد بند کمرے میں بات چیت کی، جسے ٹرمپ نے ''بہت اچھی ملاقات‘‘ قرار دیا تاہم کہا کہ کوئی بڑا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ماضی کے برعکس اس بار دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے بات چیت نہیں کی، جس سے ملاقات کا انداز نسبتاً محتاط دکھائی دیا۔ نیتن یاہو کے دفتر نے بیان میں کہا، ''وزیر اعظم نے مذاکرات کے تناظر میں ریاست اسرائیل کی سکیورٹی ضروریات پر زور دیا اور دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطہ اور ہم آہنگی جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔‘‘ روئٹرز کے مطابق نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ مذاکرات کو صرف جوہری پروگرام تک محدود نہ رکھے بلکہ اس میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کے معاملات بھی شامل کیے جائیں۔

ایران کی شرائط

یہ ملاقات گزشتہ ہفتے عمان میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والےبالواسطہ مذاکرات کے بعد ہوئی، جنہیں دونوں فریقین نے تعمیری قرار دیا تھا۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنے جوہری پروگرام پر حدود طے کرنے پر بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اس نے اپنے میزائل پروگرام پر مذاکرات کو ''ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا ہے۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گاتصویر: Morteza Nikoubazl/NurPhoto/picture alliance

منگل کو ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں ''نہ ایٹمی ہتھیار ہوں اور نہ میزائل‘‘  کی ضمانت شامل ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا، ''ہم نے پچھلی بار ان کی جوہری صلاحیت کو نشانہ بنایا تھا اور دیکھنا ہوگا کہ اس بار مزید کچھ کرنا پڑے گا یا نہیں۔‘‘ امریکہ گزشتہ کئی ہفتوں سے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے تاکہ ایران پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے اور اگر صدر ٹرمپ فیصلہ کریں تو فوجی کارروائی کے لیے تیاری بھی مکمل ہو۔

 

ادارت: عدنان اسحاق

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں