ایران کے خلاف جنگ: اسٹارمر نے مجھے ’بہت مایوس‘ کیا، ٹرمپ
2 مارچ 2026
لندن سے شائع ہونےوالے ’ڈیلی ٹیلی گراف‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر سے ’بہت مایوس‘ ہیں کیونکہ انہوں نے امریکہ کو ایران پر حملے کرنے کے لیے ڈیگو گارشیا کے فضائی اڈے کے استعمال کی اجازت نہیں دی۔
اطلاعات کے مطابق برطانیہ نے ابتدا میں امریکہ کو اپنے اڈوں سے فضائی حملے کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا، تاہم اتوار کی شام اسٹارمر نے کہا کہ وہ ایرانی اہداف کے خلاف کسی بھی ’دفاعی‘ کارروائی کے لیے امریکہ کی جانب سے اڈوں کے استعمال کی درخواست قبول کر رہے ہیں۔
پیر کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ اسٹارمر کو اپنا فیصلہ بدلنے میں 'بہت زیادہ وقت‘ لگا۔
انہوں نے ٹیلی گراف سے کہا، ''شاید ہمارے ممالک کے درمیان ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ایسا لگتا ہے کہ وہ قانونی حیثیت کے بارے میں فکر مند تھے۔‘‘
ٹرمپ اسٹارمر سے ’مایوس‘ کیوں؟
ٹرمپ نے کہا کہ اسٹارمر کو ابتدا ہی سے ڈیگو گارشیا، جو بحرِ ہند میں واقع ایک اسٹریٹجک اہمیت کا حامل امریکہ-برطانیہ مشترکہ فضائی اڈہ ہے، کے استعمال کی منظوری دے دینی چاہیے تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ’’آپ کے ملک کے بہت سے لوگوں کی ہلاکت کا ذمہ دار ہے۔‘‘
برطانیہ ہفتے کے روز ایران پر کیے گئے امریکہ-اسرائیل مشترکہ فضائی حملوں میں شامل نہیں تھا، جن میں ملک کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای ہلاک ہوئے تھے۔
گزشتہ ہفتے کے روز سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد سے ایران خلیجی ممالک کو میزائلوں سے نشانہ بنا رہا ہے، اور اتوار کو ایران میں تیار کردہ ایک ڈرون نے قبرص میں برطانیہ کے آر اے ایف اکروتیری اڈے کو نشانہ بنایا، جس سے معمولی نقصان ہوا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ٹرمپ نے کہا کہ اب ڈیگو گارشیا سے کارروائیاں شروع کرنے کے قابل ہونا امریکہ کے لیے 'مفید‘ ہو گا۔
انہوں نے چاگوس جزائر کی خودمختاری سے متعلق اس معاہدے پر بھی تنقید کی جو اسٹارمر نے کیا ہے، جہاں ڈیگو گارشیا واقع ہے۔
ادارت: کشور مصطفیٰ