1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایران کو ٹرمپ کا نیا الٹی میٹم

کشور مصطفیٰ اے پی، اے ایف پی، روئٹرز
20 فروری 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نیا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ تہران پر حملے کا فیصلہ کرنے کے لیے 10 سے 15 دن کافی ہیں، اور وہ ایران کو جوہری معاہدے کے لیے یہ ’زیادہ سے زیادہ‘ مدت دے رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گہری سوچ میں ڈویے دکھائی دے رہے ہیں
ٹرمپ کے مطابق ایران خطے کے استحکام کو خطرات لاحق نہیں کر سکتاتصویر: Nathan Howard/Getty Images/AFP

ایئر فورس ون طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےٹرمپ نے کہا، ’’یا تو ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کریں گے، ورنہ یہ ان کے لیے  بدقسمتی کی بات ہو گی۔‘‘

اس سے قبل واشنگٹن میں بھی وہ اسی قسم کی مدت کا اشارہ دے چکے ہیں۔ قبل ازیں اپنے متنازعہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے پہلے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا، ’’شاید ہم ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنے والے ہیں۔ آپ کو آئندہ تقریباً 10 دنوں میں اس بارے میں معلوم ہو جائے گا۔‘‘

ایرانی جوہری تنصیب فردو مکمل تباہ ہو گئی؟

01:24

This browser does not support the video element.

ٹرمپ کے مطابق ایران خطے کے استحکام کو خطرات لاحق نہیں کر سکتا اور اسے  کسی نہ کسی صورت میں معاہدے کی طرف آنا ہو گا۔ انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے ہر صورت روکا جانا چاہیے، جب کہ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ایک بامعنی جوہری معاہدہ نہ ہوا تو ''بری چیزیں‘‘ رونما ہو سکتی ہیں۔

واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں طیارہ بردار بحری جہاز، ڈسٹرائرز، جنگی طیارے اور خصوصی الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز نوعیت کی جنگی قوت بھیج رہا ہےتصویر: Mark Schiefelbein/AP Photo/picture alliance

’مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمی محض دکھاوا نہیں‘

 

مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی تیز رفتار فوجی تعیناتی کے پس منظر میں امریکی میرین کے سابق کپتان اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے سابق اہلکار میتھیو ہو نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو میں واضح کیا کہ موجودہ عسکری سرگرمی ''محض دکھاوے‘‘ کے لیے نہیں ہے بلکہ اس میں حقیقی خطرات پوشیدہ ہیں۔

ہو کے مطابق، واشنگٹن جس نوعیت کی جنگی قوت خطے میں بھیج رہا ہے ، جس میں طیارہ بردار بحری جہاز، ڈسٹرائرز، جنگی طیارے اور خصوصی الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز شامل ہیں، وہ اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ عملی کارروائی کی مکمل صلاحیت کے ساتھ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ، ’’خاص نوعیت کے طیاروں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز کی بڑے پیمانے پر تعیناتی تب ہی ہوتی ہے جب امریکہ واقعی انہیں استعمال کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہو۔‘‘

مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی بھاری فوجی تعیناتی، ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے نئے معاہدے تک پہنچنے کی سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہےتصویر: Ariel Schalit/AP/dpa/picture alliance

 

ہو نے یہ بھی کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی بھاری فوجی تعیناتی، ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے نئے معاہدے تک پہنچنے کی سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا، ’’ایرانی قیادت کے ذہن میں سب سے پہلا سوال یہی ہوگا کہ آیا وہ امریکہ پر اعتماد کر سکتے ہیں یا نہیں۔ یقیناً، دس برس سے زیادہ عرصہ پہلے ایران کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا تھا جس نے اُس کے جوہری پروگرام کو  محدود کیا تھا، لیکن 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ اس سے یکطرفہ طور پر نکل گئی۔ اس کے علاوہ امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی تنازعے کی طویل تاریخ بھی موجود ہے۔‘‘

اسرائیلی حملوں سے ایران کی جوہری تنصیبات کتنی متاثر؟

02:10

This browser does not support the video element.

 میتھیو ہو نے مزید کہا،’’گزشتہ تقریباً ایک دہائی میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے تخریب کاری، ایرانی سائنس دانوں کے قتل، اور سائبر حملوں جیسے واقعات رونما ہوئے۔ ان تمام باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایرانیوں کے لیے یہ سوچنا ناگزیر ہے کہ وہ آخر کس بنیاد پر امریکہ پر بھروسہ کریں۔‘‘

اے پی، اے ایف پی، روئٹرز

 

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں