ایران کو ٹرمپ کا نیا الٹی میٹم
20 فروری 2026
ایئر فورس ون طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےٹرمپ نے کہا، ’’یا تو ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کریں گے، ورنہ یہ ان کے لیے بدقسمتی کی بات ہو گی۔‘‘
اس سے قبل واشنگٹن میں بھی وہ اسی قسم کی مدت کا اشارہ دے چکے ہیں۔ قبل ازیں اپنے متنازعہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے پہلے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا، ’’شاید ہم ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنے والے ہیں۔ آپ کو آئندہ تقریباً 10 دنوں میں اس بارے میں معلوم ہو جائے گا۔‘‘
ٹرمپ کے مطابق ایران خطے کے استحکام کو خطرات لاحق نہیں کر سکتا اور اسے کسی نہ کسی صورت میں معاہدے کی طرف آنا ہو گا۔ انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے ہر صورت روکا جانا چاہیے، جب کہ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ایک بامعنی جوہری معاہدہ نہ ہوا تو ''بری چیزیں‘‘ رونما ہو سکتی ہیں۔
’مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمی محض دکھاوا نہیں‘
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی تیز رفتار فوجی تعیناتی کے پس منظر میں امریکی میرین کے سابق کپتان اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے سابق اہلکار میتھیو ہو نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو میں واضح کیا کہ موجودہ عسکری سرگرمی ''محض دکھاوے‘‘ کے لیے نہیں ہے بلکہ اس میں حقیقی خطرات پوشیدہ ہیں۔
ہو کے مطابق، واشنگٹن جس نوعیت کی جنگی قوت خطے میں بھیج رہا ہے ، جس میں طیارہ بردار بحری جہاز، ڈسٹرائرز، جنگی طیارے اور خصوصی الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز شامل ہیں، وہ اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ عملی کارروائی کی مکمل صلاحیت کے ساتھ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ، ’’خاص نوعیت کے طیاروں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز کی بڑے پیمانے پر تعیناتی تب ہی ہوتی ہے جب امریکہ واقعی انہیں استعمال کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہو۔‘‘
ہو نے یہ بھی کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی بھاری فوجی تعیناتی، ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے نئے معاہدے تک پہنچنے کی سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا، ’’ایرانی قیادت کے ذہن میں سب سے پہلا سوال یہی ہوگا کہ آیا وہ امریکہ پر اعتماد کر سکتے ہیں یا نہیں۔ یقیناً، دس برس سے زیادہ عرصہ پہلے ایران کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا تھا جس نے اُس کے جوہری پروگرام کو محدود کیا تھا، لیکن 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ اس سے یکطرفہ طور پر نکل گئی۔ اس کے علاوہ امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی تنازعے کی طویل تاریخ بھی موجود ہے۔‘‘
میتھیو ہو نے مزید کہا،’’گزشتہ تقریباً ایک دہائی میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے تخریب کاری، ایرانی سائنس دانوں کے قتل، اور سائبر حملوں جیسے واقعات رونما ہوئے۔ ان تمام باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایرانیوں کے لیے یہ سوچنا ناگزیر ہے کہ وہ آخر کس بنیاد پر امریکہ پر بھروسہ کریں۔‘‘
اے پی، اے ایف پی، روئٹرز