1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ٹرمپ نے بی بی سی پر اربوں ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا

جاوید اختر روئٹرز اور اے ایف پی کے ساتھ
16 دسمبر 2025

امریکی صدر نے 6 جنوری 2021 کی اپنی تقریر کے ترمیم شدہ کلپس نشر کرنے پر بی بی سی کے خلاف یہ مقدمہ دائر کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ برطانوی نشریاتی ادارے سے 10 ارب ڈالر تک ہرجانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ
ٹرمپ نے اس مقدمے میں الزام عائد کیا ہے کہ بی بی سی نے فلوریڈا کے اس قانون کی خلاف ورزی کی ہے جو غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کو ممنوع قرار دیتا ہےتصویر: Alex Brandon/AP Photo/picture alliance

امریکی صدر نے 6 جنوری 2021 کی اپنی تقریر کے ترمیم شدہ کلپس نشر کرنے پر بی بی سی کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ وہ ہتکِ عزت اور غیر منصفانہ تجارتی طریقوں سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کے الزامات کے تحت 10 ارب ڈالر تک ہرجانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بی بی سی کے خلاف یہ مقدمہ ایک دستاویزی فلم میں اپنی حامیوں سے کی گئی تقریر کے ترمیم شدہ حصے شامل کرنے پر دائر کیا ہے۔ یہ تقریر 2021 میں کیپیٹل ہل پر ہونے والے ہنگاموں سے قبل کی گئی تھی۔

ٹرمپ نے اس مقدمے میں الزام عائد کیا ہے کہ بی بی سی نے فلوریڈا کے اس قانون کی خلاف ورزی کی ہے جو غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کو ممنوع قرار دیتا ہے۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ بی بی سی نے 6 جنوری 2021 کی تقریر کے دو الگ الگ حصوں کو جوڑ کر پیش کیا، جس سے یہ تاثر ملا کہ وہ ہنگاموں کو بھڑکا رہے تھے، یوں ان کی ہتکِ عزت کی گئی۔

ان الزامات کے بعد گزشتہ ماہ بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹِم ڈیوی اور نیوز کی چیف ایگزیکٹو ڈیبورا ٹرنس کے استعفے سامنے آئے تھے۔

اس پروگرام نے بی بی سی کی 103 سالہ تاریخ کے بڑے بحرانوں میں سے ایک کو جنم دیاتصویر: Jack Taylor/REUTERS

مقدمے میں کیا کہا گیا ہے؟

یہ مقدمہ، جو 33 صفحات پر مشتمل ہے، پیر کے روز میامی کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا۔

اس میں کہا گیا ہے کہ بی بی سی نے صدر ٹرمپ کی ایک ''غلط، ہتک آمیز، فریب دہ، تضحیک آمیز، اشتعال انگیز اور بدنیتی پر مبنی تصویر کشی‘‘ نشر کی۔

ٹرمپ کے مقدمے میں بی بی سی پر 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات میں ''کھلم کھلا مداخلت اور اثر انداز ہونے کی کوشش‘‘ کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔

اس میں دو الزامات کے تحت، ہتکِ عزت اور فلوریڈا کے فریب دہی اور غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کے قانون کی خلاف ورزی، ہر ایک کے لیے ''کم از کم 5 ارب ڈالر‘‘ کے ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بی بی سی کا ردِعمل

بی بی سی نے ٹرمپ سے معذرت کی ہے اور اعتراف کیا ہے کہ ادارے سے فیصلہ سازی میں غلطی ہوئی۔

نشریاتی ادارے نے تسلیم کیا کہ کلپس کی ایڈیٹنگ کے باعث غلط طور پر یہ تاثر پیدا ہوا کہ ٹرمپ نے ہنگاموں سے قبل براہِ راست تشدد کی اپیل کی تھی۔

تاہم بی بی سی کا کہنا ہے کہ مقدمہ دائر کرنے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں ہے۔

ٹرمپ کے مقدمے میں کہا گیا ہے کہ معذرت کے باوجود بی بی سی نے ''اپنی غلطی پر حقیقی ندامت کا کوئی ثبوت نہیں دیا اور نہ ہی مستقبل میں صحافتی بدعنوانیوں سے بچنے کے لیے کوئی بامعنی ادارہ جاتی تبدیلیاں کیں۔‘‘

جس دستاویزی فلم پر ٹرمپ نے قانونی کارروائی کی ہے، وہ بی بی سی کے معروف پروگرام پینوراما میں نشر کی گئی تھی۔

اس پروگرام نے بی بی سی کی 103 سالہ تاریخ کے بڑے بحرانوں میں سے ایک کو جنم دیا۔

دستاویزی فلم اس وقت شدید جانچ پڑتال کی زد میں آئی جب ایک لیک ہونے والی اندرونی دستاویز میں اس کی ایڈیٹنگ پر سوالات اٹھائے گئے اور یہ معاملہ نشریاتی ادارے میں ممکنہ سیاسی جانبداری کی وسیع تر تحقیقات کا حصہ بن گیا۔

یہ دستاویزی فلم امریکہ میں نشر نہیں کی گئی تھی اور بی بی سی کا کہنا ہے کہ اس کے کسی بھی پلیٹ فارم پر اسے دوبارہ نشر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

ادارت: رابعہ بگٹی

جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں