ٹرمپ کا ایران کے تجارتی شراکت داروں پر 25 فیصد ٹیرف کا اعلان
13 جنوری 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ جو ممالک ایران کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں انہیں امریکہ کے ساتھ ہونے والے ''ہر طرح کے کاروبار‘‘ پر 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہو گا۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا: ''فوری طور پر مؤثر، جو بھی ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کاروبار کر رہا ہے وہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے ہر قسم کے کاروبار پر 25 فیصد ٹیرف ادا کرے گا۔ یہ حکم حتمی اور قطعی ہے۔‘‘
نیویارک میں واقع اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے ٹرمپ کے ٹیرف کے اعلان پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
چین، برازیل، ترکی اور روس ان معیشتوں میں شامل ہیں جو تہران کے ساتھ کاروبار کرتی ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اعلان تمام تجارتی شراکت داروں پر لاگو ہو گا یا کچھ پر۔
واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے ٹرمپ کے طرزِ عمل پر تنقید کی اور کہا کہ چین اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ''تمام ضروری اقدامات‘‘ کرے گا اور وہ ’’کسی بھی غیر قانونی یکطرفہ پابندیوں اور دور رس دائرۂ اختیار‘‘ کی مخالفت کرتا ہے۔
ٹرمپ ایران کے تجارتی شراکت داروں کو ٹیرف کا نشانہ کیوں بنا رہے ہیں؟
صدر ٹرمپ کا یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب خبروں کے مطابق ایران میں احتجاج کرنے والے افراد پر سخت کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے، جو مذہبی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہرین کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ مظاہرین ''اپنے ہی وسائل تباہ کر رہے ہیں تاکہ کسی دوسرے ملک کے صدر کو خوش کر سکیں۔‘‘ان کا اشارہ امریکی صدر ٹرمپ کی طرف تھا۔
ابتدائی طور پر معاشی شکایات کی وجہ سے شروع ہونے والے یہ مظاہرے ایرانی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔ ان مظاہروں کو اب دو ہفتے ہو چکے ہیں۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پیر کے روز کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان رابطے کا چینل ''ابھی بھی کھلا‘‘ ہے۔
ٹرمپ ایران میں کریک ڈاؤن کے جواب پرغور کر رہے ہیں
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیووِٹ نے پیر کے روز صحافیوں کو بتایا کہ ٹرمپ مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں ایران پر فضائی حملے بھی شامل ہیں، تاہم ان کی پہلی ترجیح سفارت کاری ہے۔
ایران میں احتجاج میں اضافہ ہو گیا ہے، جہاں مظاہرین اسلامی جمہوریہ کی حکمران مذہبی قیادت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو تقریباً پانچ دہائیاں پہلے قائم ہوئی تھی۔
ان احتجاجی مظاہروں کے دوران صورتحال سنگین ہو گئی ہے، کیونکہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے پرتشدد کریک ڈاؤن کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔
ناروے میں قائم این جی او "ایران ہیومن رائٹس" کے مطابق حکومت مخالف احتجاج کے آغاز سے اب تک کم از کم 648 اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔
ملک سے آنے والی رپورٹس اور ویڈیوز کی تصدیق بیرونِ ملک سے اب مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے، کیونکہ واچ ڈاگ نیٹ بلاکس کے مطابق ملک میں گزشتہ 100 گھنٹوں سے انٹرنیٹ بھی بند ہے۔
ٹرمپ غلط اندازے نہ لگائیں، ایران
خیال رہے ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد رضا شاہ پہلوی کی معزولی کے بعد سے ایک مذہبی حکومت قائم ہے۔
دریں اثنا ایران کے آخری شاہ کے بیٹے، رضا پہلوی، جو امریکہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، نے سی بی ایس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ ''جلد‘‘ مداخلت کریں۔
پہلوی نے کہا، ''میرے خیال میں صدر کو بہت جلد ایک فیصلہ کرنا ہو گا۔‘‘
انہوں نے ایرانیوں کو احتجاج میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی ہے اور خود کو ملک کے لیے ایک عبوری رہنما کے طور پر پیش کیا ہے۔
اس دوران ایران نے ملکی صورت حال کے حوالے سے واشنگٹن کو ‘‘غلط اندازے‘‘ کے خلاف خبردار کیا ہے۔
ادارت: صلاح الدین زین