ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘ کیا ہے؟
21 جنوری 2026
یہ بورڈ ابتدا میں غزہ کی تعمیرِ نو کی نگرانی کے لیے تصور کیا گیا تھا، تاہم اس کا چارٹر اس کے کردار کو صرف مقبوضہ فلسطینی علاقوں تک محدود نہیں کرتا۔
یہ کیا کرے گا؟
چارٹر کے مطابق ’بورڈ آف پیس‘ کی سربراہی خود ٹرمپ کریں گے۔
یہ ایک 'بین الاقوامی تنظیم‘ ہو گی جو ’’استحکام کو فروغ دینے، قابلِ اعتماد اور قانونی طرزِ حکمرانی کی بحالی، اور تنازعات سے متاثرہ یا خطرے سے دوچار علاقوں میں پائیدار امن کو یقینی بنانے‘‘ کی کوشش کرے گی۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی جانب سے دیکھی گئی دستاویز کے مطابق یہ بورڈ ''بین الاقوامی قانون کے تحت امن سازی کے فرائض انجام دے گا۔‘‘
اسے کون چلائے گا؟
ٹرمپ اس بورڈ کے چیئرمین ہوں گے اور ساتھ ہی امریکہ کے پہلے نمائندے کے طور پر بھی خدمات انجام دیں گے۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ''چیئرمین کو بورڈ آف پیس کے مشن کو پورا کرنے کے لیے، ضروری یا موزوں سمجھتے ہوئے، ذیلی ادارے قائم کرنے، ان میں ترمیم کرنے یا انہیں ختم کرنے کا خصوصی اختیار حاصل ہو گا۔‘‘
وہ ایگزیکٹو بورڈ کے ارکان کا انتخاب کریں گے جو ''عالمی سطح کے رہنما‘‘ ہوں گے اور ’’دو سالہ مدت کے لیے خدمات انجام دیں گے، تاہم چیئرمین انہیں برطرف بھی کر سکتے ہیں۔‘‘
چیئرمین 'بورڈ آف پیس کی جانب سے‘ قراردادیں یا دیگر ہدایات بھی جاری کر سکتے ہیں۔
چیئرمین کو صرف ''رضاکارانہ استعفیٰ یا نااہلی کی صورت‘‘ میں ہی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کون رکن بن سکتا ہے؟
چارٹر کے مطابق رکن ممالک کو امریکی صدر کی جانب سے دعوت دی جائے گی اور ان کی نمائندگی ان کے سربراہِ مملکت یا حکومت کرے گی۔
ہر رکن ''زیادہ سے زیادہ تین سال کی مدت‘‘ کے لیے خدمات انجام دے گا۔
تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ ''یہ تین سالہ مدت ان رکن ممالک پر لاگو نہیں ہو گی جو چارٹر کے نافذ ہونے کے پہلے سال کے اندر بورڈ آف پیس کو نقد رقم میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ کا تعاون دیں گے۔‘‘
بورڈ کم از کم سال میں ایک بار ووٹنگ اجلاس منعقد کرے گا اور ''ہر رکن ریاست کو ایک ووٹ حاصل ہو گا۔‘‘
لیکن تمام فیصلوں کے لیے''موجود اور ووٹ دینے والے رکن ممالک کی اکثریت‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’چیئرمین کی منظوری‘‘ بھی ضروری ہو گی، اور برابری کی صورت میں چیئرمین اپنے عہدے کی حیثیت سے ووٹ ڈال سکتے ہیں۔
ایگزیکٹو بورڈ میں کون شامل ہے؟
وائٹ ہاؤس کے مطابق ایگزیکٹو بورڈ تنظیم کے مشن کو عملی شکل دے گا اور اس کی سربراہی ٹرمپ کریں گے، جبکہ اس میں سات ارکان شامل ہوں گے:
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
اسٹیو وِٹکوف، ٹرمپ کے خصوصی مذاکرات کار
جیرڈ کشنر، ٹرمپ کے داماد
ٹونی بلیئر، سابق برطانوی وزیر اعظم
مارک روان، امریکی ارب پتی سرمایہ کار
اجے بنگا، عالمی بینک کے صدر
رابرٹ گیبریل، نیشنل سکیورٹی کونسل میں ٹرمپ کے قریبی معاون
درجنوں ممالک اور رہنماؤں کو دعوت
درجنوں ممالک اور رہنماؤں نے کہا ہے کہ انہیں دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔ ان میں چین، بھارت، روس کے صدر ولادیمیر پوٹن، یوکرین کے صدر ولودویمیر زیلنسکی اور کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی شامل ہیں۔
مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور ارجنٹائن کے صدر نے بھی دعوت نامہ موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔
دیگر ممالک جنہوں نے دعوت کی تصدیق کی ہے ان میں اردن، برازیل، پیراگوئے، پاکستان اور یورپ، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک شامل ہیں۔
کون شامل ہو گا؟
البانیہ سے ویتنام تک کئی ممالک نے بورڈ میں شامل ہونے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
یورپی یونین میں ٹرمپ کے سب سے بڑے حامی ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان بھی شامل ہونے پر رضامند ہیں۔
کینیڈا نے کہا ہے کہ وہ شرکت کرے گا، تاہم مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر فیس ادا کرنے سے واضح طور پر انکار کر دیا ہے۔
یہ واضح نہیں کہ مثبت جواب دینے والے دیگر ممالک، جن میں آرمینیا، بیلاروس، قازقستان، مراکش اور ویتنام شامل ہیں، ایک ارب ڈالر ادا کرنے پر آمادہ ہوں گے یا نہیں۔
کون شامل نہیں ہو گا؟
امریکہ کے دیرینہ اتحادی فرانس نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس میں شامل نہیں ہو گا۔ اس ردعمل کے بعد ٹرمپ نے فرانسیسی شراب پر بھاری محصولات لگانے کی فوری دھمکی دی۔
زیلنسکی نے کہا کہ روس کے ساتھ کسی کونسل میں رکن ہونا ''بہت مشکل‘‘ ہو گا، اور سفارت کار ’’اس پر کام کر رہے ہیں۔‘‘
یہ کب شروع ہو گا؟
چارٹر کے مطابق یہ ''تین ریاستوں کی جانب سے اس کے پابند ہونے کی رضامندی ظاہر کیے جانے پر‘‘ نافذ العمل ہو جائے گا۔
ادارت: صلاح الدین زین