1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
اقتصادیاتبھارت

ٹرمپ کا بھارت کے ساتھ ’تجارتی معاہدے‘ کا اعلان

افسر اعوان ویزلی راہن
3 فروری 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکہ بھارت کے لیے ٹیرف میں کمی کرے گا۔ ان کے بقول بھارت روسی تیل کی خریداری بند کرنے پر راضی ہو گیا ہے۔

USA Washington D.C. 2025 | Treffen zwischen Donald Trump und Narendra Modi im Oval Office
تصویر: Ron Sachs/MPI/Capital Pictures/picture alliance

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ٹیلی فون کال کے بعد انہوں نے بھارت کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا، ''وزیر اعظم مودی کے لیے دوستی اور احترام کے ناطے اور ان کی درخواست پر، فوری طور پر ہم نے امریکہ اور بھارت کے درمیان ایک تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت امریکہ 'باہمی ٹیرف‘ کو 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دے گا۔‘‘

ٹرمپ نے مزید کہا کہ بھارت نے روسی تیل کی خریداری بند کرنے پر اتفاق کیا ہے، یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جو وہ ماضی میں بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت امریکی مصنوعات پر اپنی امپورٹ ٹیکس بھی صفر کر دے گا اور 500 ارب ڈالر مالیت کی امریکی توانائی، ٹیکنالوجی اور زرعی مصنوعات خریدے گا۔ امریکی صدر نے تیل کی خریداری کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، سوائے اس کے کہ بھارت امریکہ اور ممکنہ طور پر وینزویلا سے ''بہت زیادہ‘‘ خریداری کرے گا۔

مودی کا ٹیرف میں کٹوتی کا خیر مقدم

بھارتی صدر نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ٹیرف میں کمی کی تصدیق کی ہے۔ مودی نے کہا، ''جب دو بڑی معیشتیں اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریتیں مل کر کام کرتی ہیں، تو اس سے ہمارے عوام کو فائدہ ہوتا ہے اور باہمی تعاون کے بے پناہ مواقع پیدا ہوتے ہیں۔‘‘

بھارت کو کن محصولات کا سامنا رہا ہے؟

جنوری 2025 میں ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے بھارت کو امریکہ کی جانب سے دو مرتبہ ٹیرفس میں اضافے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جولائی میں، ٹرمپ نے بھارتی سامان پر 25 فیصد ٹیرف کا اعلان کیا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ نئی دہلی نے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کیے۔

ٹرمپ نے یوکرین جنگ کے بعد سے بھارت کی جانب سے روسی تیل کی بڑھتی ہوئی خریداری پر بھی نئی دہلی پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ اگست میں، 25 فیصد ٹیرف کے علاوہ، ٹرمپ نے تیل کی خریداری کے معاملے پر مخصوص بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد کا اضافی امپورٹ ٹیکس عائد کر دیا تھا، جس سے مجموعی شرح 50 فیصد ہو گئی تھی، جو امریکی تجارتی شراکت داروں میں سب سے زیادہ تھی۔

پیر کے روز وائٹ ہاؤس نے کہا کہ بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری میں کمی کے جواب میں بھارتی درآمدات پر اضافی 25 فیصد ٹیرف ختم کر دیا جائے گا۔ ٹرمپ نے اپنی 'ٹروتھ سوشل‘ پوسٹ میں مزید کہا، ''اس سے یوکرین میں جنگ کو ختم کرنے میں مدد ملے گی، جہاں ہر ہفتے ہزاروں لوگ مر رہے ہیں!‘‘

جولائی میں، ٹرمپ نے بھارتی سامان پر 25 فیصد ٹیرف کا اعلان کیا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ نئی دہلی نے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کیے۔تصویر: Carlos Barria/REUTERS

تاہم، مودی کے 'ایکس‘ پر جواب میں تیل کے حوالے سے کسی معاہدے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ٹرمپ کے مودی کے ساتھ طویل عرصے سے خوشگوار تعلقات رہے ہیں، لیکن صدر کی دوسری مدت میں بھارت کے روس کے ساتھ تعلقات اور ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کی وجہ سے ان میں پیچیدگیاں آئی ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی آخری ملاقات فروری میں واشنگٹن میں ہوئی تھی، جس کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ بھارت امریکی پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری شروع کرے گا۔ تاہم، وہ تجارتی مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہو گئے تھے جب ٹرمپ نے ٹیرف نافذ کرنا شروع کر دیے تھے۔

ٹرمپ کا یہ اعلان بھارت اور یورپی یونین کے درمیان ایک تاریخی آزاد تجارتی معاہدے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے، جس کے تحت یورپی یونین کے 27 ممالک اور بھارت کے درمیان تقریباً تمام اشیاء پر آزادانہ تجارت ممکن ہو گئی ہے۔

مودی کی چین سے قربت، امریکہ سے دوری ہے؟

01:47

This browser does not support the video element.

ادارت: جاوید اختر

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں