1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتایران

ٹرمپ کے پاس ایران جنگ سے نکلنے کا کوئی آسان راستہ نہیں

جاوید اختر (روئٹرز کے ساتھ)
7 اگست 2026

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف شروع کردہ جنگ چھٹے ماہ میں داخل ہو چکی ہے، اور موجودہ حالات سے لگتا ہے کہ امریکی صدر ایک ایسی پیچیدہ سیاسی اور عسکری مشکل میں گھر چکے ہیں جس سے نکلنے کا ان کے پاس کوئی آسان راستہ موجود نہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ
اگرچہ صدر ٹرمپ بارہا دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور اس کی قیادت کو کمزور کیا گیا ہے، لیکن بیشتر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جنگ کے بنیادی اہداف ابھی تک حاصل نہیں ہو سکےتصویر: Aaron Schwartz/ABACAPRESS/IMAGO

نیوز ایجنسی روئٹرز نے اپنے ایک تجزیے میں لکھا ہے کہ صدر ٹرمپ، جنہوں نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ جنگ چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی، اب ایک ایسے تنازعے سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں جو نہ صرف طول پکڑ چکا ہے بلکہ امریکی عوام میں بھی غیر مقبول بنتا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ اس وقت بنیادی طور پر دو بڑی آپشنز کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔

پہلی یہ کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز  کے حوالے سے زیر غور عبوری معاہدے کو قبول کر لیا جائے، جس کے تحت تہران کو پہلی مرتبہ اس اہم آبی گزرگاہ سے خلیج فارس میں داخل ہونے والے بحری جہازوں پر محدود اختیار حاصل ہو سکتا ہے۔

دوسرا راستہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں مزید شدت لانا ہے، جس میں نئی فضائی کارروائیاں بھی شامل ہو سکتی ہیں، تاہم اس سے جنگ کے مزید طول پکڑ جانے اور خطے میں بحران شدید تر ہو جانے کا خدشہ ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پہلی آپشن ایران کے لیے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی تصور کیا جائے گا، جبکہ دوسرا راستہ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ کے لیے سیاسی طور پر انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکہ میں پٹرول کی بلند قیمتیں، صدر ٹرمپ کی کم ہوتی ہوئی عوامی مقبولیت اور جنگ کے خلاف بڑھتی ہوئی رائے عامہ نے ٹرمپ کے لیے سیاسی گنجائش محدود کر دی ہے۔تصویر: Gent Shkullaku/Matrix Images/picture alliance

تیسری آپشن بھی آسان نہیں

روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کا راستہ بھی اختیار کر سکتے ہیں، یعنی ایران کی بندرگاہوں پر دباؤ برقرار رکھا جائے اور بحری جہازوں پر کسی بھی حملے کا محدود جواب دیا جائے۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی سے بھی صدر ٹرمپ کو اس جنگ سے باعزت انداز میں نکلنے کا موقع نہیں ملے گا، کیونکہ انہوں نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ یہ تنازعہ اپریل کے وسط تک ختم ہو جائے گا۔

امریکی حکومت کے مشرق وسطیٰ کے لیے سابق مذاکرات کار ایرن ڈیوڈ ملر کا کہنا ہے، ''یہ تمام خراب آپشنز کا مجموعہ ہے، لیکن شاید صدر ٹرمپ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ یہ جنگ غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہ سکتی۔ کسی نہ کسی مرحلے پر فیصلہ کرنا ہو گا، اور ممکن ہے کہ انہیں آبنائے ہرمز میں ایران سے متعلق نئی حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے۔‘‘

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کو یہ حقیقت تسلیم کر لینا چاہیے کہ کن معاملات میں اس کے پاس حقیقی اثر و رسوخ موجود ہے اور کن میں نہیںتصویر: Bonnie Cash/UPI Photo/IMAGO

جنگی اہداف تاحال حاصل نہیں ہو سکے

روئٹرز کے مطابق اگرچہ صدر ٹرمپ بارہا دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور اس کی قیادت کو کمزور کیا گیا ہے، لیکن بیشتر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جنگ کے بنیادی اہداف ابھی تک حاصل نہیں ہو سکے۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں کی درخواست پر ایران کے خلاف نئے بڑے حملے مؤخر کر دیے تاکہ سفارت کاری کو ایک اور موقع دیا جا سکے، تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ انتباہ بھی کیا تھا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو سخت فوجی کارروائی کی جائے گی۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ امریکی میزائلوں کے ذخائر میں کمی کے خدشات سے بھی متاثر ہو سکتا ہے، اگرچہ صدر ٹرمپ اس تاثر کو مسترد کر چکے ہیں۔

ادھر ایران نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملہ کیا تو ایران کی طرف سے ان ممالک کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

امریکہ کے سابق انٹیلیجنس عہدیدار جوناتھن پینکاف کا کہنا ہے کہ چین، روس اور شمالی کوریا اس پوری صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ''یہ ممالک دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ کی عملی حدود کیا ہیں۔‘‘

واشنگٹن کے ایران مخالف تھنک ٹینک فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز سے وابستہ بینہم بن ٹیلیبیلو نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کو جلد بازی سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو یہ حقیقت تسلیم کر لینا چاہیے کہ کن معاملات میں اس کے پاس حقیقی اثر و رسوخ موجود ہے اور کن میں نہیں۔

صدر ٹرمپ نےایران کے خلاف جنگ شروع کرتے وقت دعویٰ کیا تھا کہ یہ جنگ چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گیتصویر: Anna Moneymaker/Getty Images/AFP

داخلی سیاسی دباؤ

وائٹ ہاؤس کے بعض حکام اب یہ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات تک کسی نہ کسی شکل میں یہ تنازعہ جاری رہ سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ میں پٹرول کی بلند قیمتیں، صدر ٹرمپ کی کم ہوتی ہوئی عوامی مقبولیت اور جنگ کے خلاف بڑھتی ہوئی رائے عامہ نے ان کے لیے سیاسی گنجائش محدود کر دی ہے۔

ان کے مطابق جنگ کے طویل ہو جانے کے باوجود ایران نے اپنی پوزیشن میں کوئی نمایاں نرمی نہیں دکھائی، جس کے باعث اب امکان بڑھ رہا ہے کہ بڑی رعایتیں شاید خود امریکہ کو دینا پڑیں۔

ایران پر حملہ امریکہ کے لیے کتنا نقصان دہ ہو سکتا ہے؟

01:53

This browser does not support the video element.

ادارت: مقبول ملک

جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں