ٹرمپ کے پاس ایران جنگ سے نکلنے کا کوئی آسان راستہ نہیں
7 اگست 2026
نیوز ایجنسی روئٹرز نے اپنے ایک تجزیے میں لکھا ہے کہ صدر ٹرمپ، جنہوں نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ جنگ چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی، اب ایک ایسے تنازعے سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں جو نہ صرف طول پکڑ چکا ہے بلکہ امریکی عوام میں بھی غیر مقبول بنتا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ اس وقت بنیادی طور پر دو بڑی آپشنز کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔
پہلی یہ کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے حوالے سے زیر غور عبوری معاہدے کو قبول کر لیا جائے، جس کے تحت تہران کو پہلی مرتبہ اس اہم آبی گزرگاہ سے خلیج فارس میں داخل ہونے والے بحری جہازوں پر محدود اختیار حاصل ہو سکتا ہے۔
دوسرا راستہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں مزید شدت لانا ہے، جس میں نئی فضائی کارروائیاں بھی شامل ہو سکتی ہیں، تاہم اس سے جنگ کے مزید طول پکڑ جانے اور خطے میں بحران شدید تر ہو جانے کا خدشہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پہلی آپشن ایران کے لیے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی تصور کیا جائے گا، جبکہ دوسرا راستہ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ کے لیے سیاسی طور پر انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
تیسری آپشن بھی آسان نہیں
روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کا راستہ بھی اختیار کر سکتے ہیں، یعنی ایران کی بندرگاہوں پر دباؤ برقرار رکھا جائے اور بحری جہازوں پر کسی بھی حملے کا محدود جواب دیا جائے۔
تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی سے بھی صدر ٹرمپ کو اس جنگ سے باعزت انداز میں نکلنے کا موقع نہیں ملے گا، کیونکہ انہوں نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ یہ تنازعہ اپریل کے وسط تک ختم ہو جائے گا۔
امریکی حکومت کے مشرق وسطیٰ کے لیے سابق مذاکرات کار ایرن ڈیوڈ ملر کا کہنا ہے، ''یہ تمام خراب آپشنز کا مجموعہ ہے، لیکن شاید صدر ٹرمپ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ یہ جنگ غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہ سکتی۔ کسی نہ کسی مرحلے پر فیصلہ کرنا ہو گا، اور ممکن ہے کہ انہیں آبنائے ہرمز میں ایران سے متعلق نئی حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے۔‘‘
جنگی اہداف تاحال حاصل نہیں ہو سکے
روئٹرز کے مطابق اگرچہ صدر ٹرمپ بارہا دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور اس کی قیادت کو کمزور کیا گیا ہے، لیکن بیشتر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جنگ کے بنیادی اہداف ابھی تک حاصل نہیں ہو سکے۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں کی درخواست پر ایران کے خلاف نئے بڑے حملے مؤخر کر دیے تاکہ سفارت کاری کو ایک اور موقع دیا جا سکے، تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ انتباہ بھی کیا تھا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو سخت فوجی کارروائی کی جائے گی۔
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ امریکی میزائلوں کے ذخائر میں کمی کے خدشات سے بھی متاثر ہو سکتا ہے، اگرچہ صدر ٹرمپ اس تاثر کو مسترد کر چکے ہیں۔
ادھر ایران نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملہ کیا تو ایران کی طرف سے ان ممالک کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکہ کے سابق انٹیلیجنس عہدیدار جوناتھن پینکاف کا کہنا ہے کہ چین، روس اور شمالی کوریا اس پوری صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ''یہ ممالک دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ کی عملی حدود کیا ہیں۔‘‘
واشنگٹن کے ایران مخالف تھنک ٹینک فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز سے وابستہ بینہم بن ٹیلیبیلو نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کو جلد بازی سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو یہ حقیقت تسلیم کر لینا چاہیے کہ کن معاملات میں اس کے پاس حقیقی اثر و رسوخ موجود ہے اور کن میں نہیں۔
داخلی سیاسی دباؤ
وائٹ ہاؤس کے بعض حکام اب یہ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات تک کسی نہ کسی شکل میں یہ تنازعہ جاری رہ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ میں پٹرول کی بلند قیمتیں، صدر ٹرمپ کی کم ہوتی ہوئی عوامی مقبولیت اور جنگ کے خلاف بڑھتی ہوئی رائے عامہ نے ان کے لیے سیاسی گنجائش محدود کر دی ہے۔
ان کے مطابق جنگ کے طویل ہو جانے کے باوجود ایران نے اپنی پوزیشن میں کوئی نمایاں نرمی نہیں دکھائی، جس کے باعث اب امکان بڑھ رہا ہے کہ بڑی رعایتیں شاید خود امریکہ کو دینا پڑیں۔
ادارت: مقبول ملک