1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ٹمبکٹو پرمالی اور فرانسیسی فوج کا قبضہ، انتہا پسند پسپا

29 جنوری 2013

صحارا صحرا میں قدیمی و تاریخی شہر ٹمبکٹو میں مالی اور فرانسیسی افواج داخل ہو گئی ہیں۔ شہر میں داخل ہوتے وقت ان کو انتہا پسندوں کی جانب سے کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیونکہ وہ پسپائی اختیار کر چکے تھے۔

تصویر: picture-alliance/dpa

مغربی افریقہ کے شورش زدہ ملک مالی کے شمال میں واقع تاریخی شہر ٹمبکٹو پر مالی اور فرانس کی افواج نے قبضہ کر لیا ہے۔ پیر کے روز جب یہ فوجیں شہر میں داخل ہوئیں تو قابض انتہا پسند عسکریت پسندوں کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت سامنے نہیں آئی۔ ان فوجیوں نے بغیر کوئی گولی چلائے شہر پر قبضہ کیا۔ گنجان آبادی کے شہر گاؤ پر قبضے کے بعد مالی اور فرانسیسی فوجیوں نے سبک رفتاری کے ساتھ ٹمبکٹو شہر پر قبضہ کیا۔ شہر کو پوری طرح محفوظ بنانے کے لیے انتظامی معاملات کو مکمل کیا جا رہا ہے۔

ٹمبکٹو کے احمد بابا انسٹیٹیوٹ کا اندرونی منظرتصویر: picture-alliance/dpa

ٹمبکٹو شہر میں داخل ہوتی فرنچ اور مالی کی فوجوں کا مقامی لوگوں نے پرزور انداز میں استقبال کیا۔ فرانسیسی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ٹمبکٹو شہر کے اندر ہر ممکن طریقے سے جنگ سے اجتناب کیا جا رہا ہے تا کہ شہر کا بچا کھچا تاریخی ورثہ محفوظ رہ سکے۔ اُدھر فرانسیسی اور مالی فوجیوں کی کوشش ہے کہ پسپائی اختیار کرتے عسکریت پسندوں کو روکتے ہوئے ان کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو حراست میں لے لیا جائے۔

گاؤ اور ٹمبکٹو کے بعد اب کیدال کا شہر رہ گیا ہے جو الجزائر کی سرحد کے قریب ہے۔ ٹمبکٹو کے بعد مالی اور فرانسیسی افواج کی نگاہ اسی مقام پر ہے۔ جس رفتار سے یہ فوجی پیش قدمی کر رہے ہیں، اس مناسبت سے کیدال پر بھی قبضہ جلد ممکن ہے۔ اس شہر پر بھی اتوار کے روز فرانسیسی جنگی طیاروں نے مخصوص ٹارگٹ کو نشانہ بنایا تھا۔ یہ کہا جاتا ہے کہ انصار دین نامی انتہا پسند گروپ کے لیڈر کا مکان بھی اسی شہر میں ہے۔ دوسری جانب توراغ باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام پسندوں کی جانب سے شہر کو خالی کرنے کے بعد اب وہ کیدال پر قابض ہیں۔

گاؤ پر قبضے کے بعد مالی اور فرانسیسی فوجیوں نے سبک رفتاری کے ساتھ ٹمبکٹو شہر پر قبضہ کیاتصویر: Fred Dufour/AFP/Getty Images

مالی میں فرانسیسی فوجی مہم دو ہفتے قبل بماکو حکومت کی درخواست پر شروع کی گئی تھی۔ اس وقت اگلے محاذوں پر ایک ہزار فرانسیسی فوجیوں کے ساتھ دو سو مالی کے فوجی مقبوضہ علاقوں کو عسکریت پسندوں سے واگزار کروانے میں مصروف ہیں۔ اس کا امکان ہے کہ کیدال کی جانب فرانسیسی فوج کی روانگی کے بعد ٹمبکٹو میں بھی افریقی ملکوں کی افواج انتظامی امور کی نگرانی شروع کر دیں گی۔ ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ انتہا پسند شہر سے نکلتے ہوئے احمد بابا انسٹیٹیوٹ کو آگ لگا کر گئے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے تعاون سے تعمیر کیے جانے والے احمد بابا انسٹیٹیوٹ میں قدیم قلمی نسخے یا مخطوطے جمع ہیں۔

مالی میں فرانس کی فوجی مہم جوئی کو یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہے۔ ایسے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ مالی کے صحرائی علاقے میں ٹھکانے بنائے ہوئے انتہا پسند اب اگلے ہفتوں میں افریقہ میں بین الاقوامی تنصیبات اور مقامات کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا شروع کر سکتے ہیں۔ ادھر افریقی یونین کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مالی کے اندر سے انتہا پسند عسکریت پسندوں کو نکالنے کے بعد صحرا میں ان کے ٹھکانوں کا بھی صفایا کر دیا جائے گا۔ مالی سے پسپائی اختیار کرنے کے بعد اب مسلح جنگجو شمالی صحرائی علاقے میں اپنے ٹھکانوں میں پناہ لے رہے ہیں۔

صحرائے صحارا میں ٹمبکٹو شہر کو قدیمی دور سے تجارتی قافلوں کے قیام کا شہر خیال کیا جاتا ہے۔ ماضی میں اس شہر میں آرام کے لیے رکنے والے قافلوں کو قہوہ خانوں میں قصہ گو اپنے دلچسپ انداز میں دیومالائی کہانیوں سے ان کی تواضع کیا کرتے تھے۔ یہی شہر بعد میں مسلم ثقافت اور حصول علم کے ساتھ کئی صوفیا کا مسکن بھی بنا۔

(ah / aba (Reuters

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں