1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ٹیکس فراڈ کے خلاف یورپی یونین کے چھ بڑے متفق

13 اپریل 2013

یورپی یونین کے وزرائے خزانہ کا دو روزہ غیر رسمی اجلاس جمہوریہ آئر لینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں جاری ہے۔ یہ اجلاس آج ہفتے کے روز اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ یورپی مالیاتی معاملات پر کئی فیصلوں کی توقع کی گئی ہے۔

تصویر: picture-alliance/dpa

ڈبلن میں یورپی یونین کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں یورپی یونین کی چھ بڑی اقتصادیات کے حامل ممالک نے ٹیکس فراڈ کے خلاف متحد ہو کر کوششیں شروع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس مناسبت سے ٹیکس چھپانے والوں کی جنت تصور کیے جانے والے ملکوں آسٹریا اور لکسمبرگ پر خاصا دباؤ بڑھ جائے گا۔ ٹیکس چھپانے کے حوالے سے بینکوں میں پائے جانے والے سیکرٹ نظام کو فرانسیسی وزیرخزانہ پیئر ماسکوویسی (Pierre Moscovici) نے بوسیدہ طریقہ قرار دیا ہے۔ ڈبلن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ماسکوویسی کا کہنا تھا کہ ٹیکس بچانے کے خلاف کارگزار حکمت عملی کو متعارف کروانا ازحد ضروری ہو گیا ہے۔ فرانسیسی وزیرخزانہ نے اس مناسبت سے متحرک اور بروقت کارروائی کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

فرانسیسی وزیر خزانہ پیئر ماسکوویسی اور آئرش وزیر خزانہ مائیکل نُونانتصویر: Peter Muhly/AFP/Getty Images

ڈبلن میں چھ بڑی یورپی اقتصادی قوتوں کے اعلان سے آسٹریا پر بھی مزید دباؤ بڑھ گیا ہے اور اب اسے یورپی یونین کے ضوابط کو تسلیم کرنا ہو گا۔ ان ضوابط کے تحت سن 2015 سے یورپی بینکوں کے کھاتہ داروں کی تفصیلات یورپی یونین کی حکومت کو فراہم کرنا ہوں گی۔ لکسمبرگ اس سلسلے ميں اپنی رضامندی کا اظہار کر چکا ہے اور سن 2015 سے وہاں قائم بینک اپنے کھاتہ داروں کی تفصیلات يورپی يونين ميں شامل ديگر ممالک کو فراہم کريں گے۔ دوسری جانب آسٹریا کی وزیر خزانہ ماریا فیکٹر (Maria Fekter) کا کہنا ہے کہ ان کا ملک بینک سیکریسی کی پالیسی کا حامی ہے۔ آج ہفتے کے روز بینک سیکریسی کا موضوع ڈبلن میں جاری وزرائے خزانہ کے اجلاس کا اہم ترین بلکہ انتہائی گرما گرم موضوع قرار دیا گیا ہے۔ ماریا فیکٹر نے بیس ابھرتی اور ترقی یافتہ اقوام کے گروپ جی ٹوئنٹی پر بھی تنقید کی ہے کہ وہ ٹیکس ہیون کے مقامات کے خلاف کوئی بھرپور کارروائی کرنے سے قاصر ہے۔

ڈبلن میں جرمن وزیر مالیات شوئبلے ایک خاتون سے گفتگو کرتے ہوئےتصویر: Peter Muhly/AFP/Getty Images

یورپی یونین کی چھ بڑی اقتصادی قوتوں کے حامل ملکوں برطانيہ، جرمنی، فرانس، اٹلی، اسپين اور پولينڈ کے وزرائے خزانہ نے يورپی يونين کے بقيہ رکن ممالک سميت ديگر ملکوں پر بھی زور ديا کہ وہ ٹيکس چوری کے مسئلے سے سنجيدگی سے نمٹيں۔ اُدھر يورپی کونسل کے صدر ہرمان فان رامپوئے نے کہا ہے کہ ٹيکس چوری کے نتيجے ميں يورپی يونين بلاک کو قريب ايک ٹريلين يورو سالانہ کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور اس باعث اگلے مہينے برسلز ميں ہونے والے يورپی يونين کے سربراہی اجلاس ميں ٹيکس چوری کا معاملہ زير بحث لایا جائے گا۔

یورو زون کے وزرائے خزانہ نے باضابطہ طور پر قبرص کے لیے بیل آؤٹ پیکج کی شرائط کی منظوری دے دی ہے۔ اس پیکج کی حتمی منظوری کے لیے اب یورو زون کے رکن ممالک کی پارلیمانوں سے منظوری لی جائے گی۔ یورو زون کے وزرائے خزانہ نے آئر لینڈ اور پرتگال میں اصلاحاتی اقتصادی عمل کی پذیرائی کرتے ہوئے قرضے کی واپسی کے لیے مزید سات سال کا عرصہ دے دیا ہے۔ ان دونوں ملکوں کو بھی امدادی پیکج فراہم کیے جا چکے ہیں۔ یورو زون کے وزرائے خزانہ کے گروپ کے سربراہ ولندیزی وزیر خزانہ ژیرون ڈائشل بلوم نے قرض واپس کرنے کی مدت میں توسیع کے حوالے سے کہا کہ یہ ڈبلن اور لزبن پر پیدا شدہ اقتصادی دباؤ کم کرنے کا باعث بنے گا۔

(ah/as(AFP, Reuters

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں