پادری نے چرچ میں عبادت کی قیادت کے بجائے اعتراف محبت کر لیا
13 اپریل 2021
وسطی اٹلی کے ایک چھوٹے سے شہر میں عبادت کے لیے ایک چرچ میں جمع باشندوں کو مقامی پادری کے ایک اعلان نے حیران کر دیا۔ اس کیتھولک پادری نے حاضرین کو خطبہ دینے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک خاتون سے محبت ہو گئی ہے۔
کیتھولک کلیسا کے پادریوں کو شادی کرنے کی اجازت نہیں ہوتیتصویر: Colourbox
اشتہار
اطالوی دارالحکومت روم سے منگل تیرہ اپریل کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ واقعہ وسطی اٹلی کے علاقے پیروجیا میں ماسا مارتانا نامی چھوٹے سے شہر کے سان فیلیس نامی چرچ میں پیش آیا۔ اتوار گیارہ اپریل کی صبح حسب روایت بہت سے مقامی باشندے اس کلیسا میں سنڈے سروس کے لیے جمع ہوئے اور انہیں امید تھی کہ 42 سالہ پادری ریکارڈو چیکوبیلی حسب معمول خطبہ دیں گے، پھر اجتماعی عبادت ہو گی اور اس کے بعد دعا مانگ کر وہ سب اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں گے۔
اشتہار
'مجھے محبت ہو گئی ہے‘
لیکن ہوا یہ کہ فادر چیکوبیلی نے سنڈے سروس کی قیادت کرنے کے بجائے ایک ایسا اعلان کر دیا، جو دراصل ان کے زندگی بھر کے لیے ایک جذباتی فیصلے کا اعتراف بھی تھا۔
اس بارے میں آج منگل کے روز اس چرچ کے کلیسائی انتظامی حلقے کی طرف سے شائع کردہ ایک اعلان میں فادر چیکوبیلی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا، ''میں کلیسا کے لیے اپنے فرائض اب اتنے شفاف، درست اور جامع انداز میں انجام نہیں دے سکتا، جس طرح میں اب تک کرتا آیا ہوں۔ میں نے آج تک چرچ سے متعلق اپنے عہد کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔ لیکن اب میرا دل محبت سے بھر گیا ہے۔ میں اپنے دل میں اس محبت کو دبائے یا اسے باہر نکالے بغیر اس کے ساتھ زندہ رہنا چاہتا ہوں۔‘‘
جرمنی ميں کئی ايسے تاریخی کیتھیڈرل موجود ہيں، جو ايک ہزار برس سے بھی زیادہ عرصہ قبل تعمير کيے گئے تھے تاہم ان کی تعمیراتی شان و شوکت اور مذہبی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔
تصویر: picture-alliance/Fotoagentur Kunz
سينٹ پيٹرز کيتھيڈرل، ٹريئر
جرمنی کا سب سے قديم کيتھيڈرل اس ملک کے سب سے پرانے اور تاريخی شہر ميں ہی واقع ہے۔ ٹريئر 313 عيسوی ميں بشپ کی مذہبی عمل داری کا مرکز بنا اور اسی وقت وہاں ايک تاريخی گرجا گھر کا قيام عمل ميں آيا۔ ہائی کيتھيڈرل آف سينٹ پيٹرز کی بنياد نويں صدی ميں رومنوں نے رکھی تھی۔ اسے آج جرمنی کا قديم ترين کيتھيڈرل مانا جاتا ہے۔
تصویر: picture-alliance/Bildagentur Huber
’دا ہولی روب‘
ٹريئر کے کيتھيڈرل ميں سب سے قيمتی شے يسوح مسيح کی چادر يا ان کا لباس ہے، جسے ’دا ہولی روب‘ کہا جاتا ہے۔ تاريخ دان کہتے ہيں کہ رومن شہنشاہ کونسٹينٹين کی والدہ ہيلينا چوتھی صدی ميں يہ چادر ٹريئر لے کر آئی تھيں۔ اسے اس کيتھيڈرل کے بشپ کی دعوت پر شاز و نادر ہی نمائش کے ليے نکالا جاتا ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/O. Dietze
آخن کيتھيڈرل
رومن شہنشاہ شارليمينگے آخن ميں وسيع پيمانے پر تعميرات کے ذريعے وہاں ايک نيا روم قائم کرنا چاہتا تھا۔ آج اس جرمن شہر ميں قائم کيتھيڈرل کا کليدی حصہ ايک گرجا گھر ہے، جسے صرف دس سال کے عرصے ميں مکمل کيا گيا تھا۔ آخن کيتھيڈرل کو سن 1978 ميں يونيسکو کے عالمی ثقافتی ورثوں کی فہرست ميں شامل کيا گيا تھا۔ يہ اس فہرست کا حصہ بننے والا جرمنی کا پہلا ثقافتی مقام تھا۔
تصویر: Fotolia/davis
آخن کيتھيڈرل کا گنبد
آخن کيتھيڈرل کا گنبد، جسے کپولا بھی کہا جاتا ہے، بتيس ميٹر اونچا ہے۔ شاید يہ آج کل کی تعميرات کے لحاظ سے کوئی انہونی بات نہيں ليکن اس قديم وقت کے لوگوں کے ليے يہ ايک انتہائی بڑا شاہکار تھا۔ کئی صدیوں کے دوران جرمنی کے تيس بادشاہوں اور حکمرانوں کی تاج پوشی اسی گنبد تلے ہوئی تھی۔
تصویر: DW/Muhammad Mostafigur Rahman
شارليمانيے کا مقبرہ
رومن شہنشاہ شارليمانيے 814 عیسوی ميں وفات پا گيا تھا، جس کے بعد اسے آخن کيتھيڈرل ميں دفنا ديا گيا تھا۔ سنہرے رنگ کا یہ مقبرہ اسی کا ہے۔ آخری مرتبہ محققين نے يہ مقبرہ سن 1988 ميں کھولا تھا، جس پر انہيں پتہ چلا کہ شارليمانيے کا قد 1.84 ميٹر تھا، جو اس وقت کے لوگوں کی قد کے لحاظ سے کافی اچھا قد تھا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/O. Berg
سينٹ مارٹنز کيتھيڈرل، مائنز
مائنز کيتھيڈرل کے ايک ہزار برس مکمل ہونے پر دو مرتبہ تقريبات کا انعقاد ہو چکا ہے۔ پہلی مرتبہ سن 1975 ميں، جب اس کی بنياد رکھنے کے عمل کو ايک ہزار سال پورے ہوئے۔ پھر دوسری مرتبہ سن 2009 ميں جب کی کی تعمير مکمل ہونے کے ايک ہزار برس پورے ہوئے تھے۔
تصویر: picture alliance/dpa/A. Arnold
بامبرگ کيتھيڈرل
بامبرگ کيتھيڈرل کو جرمن بادشاہ ہينری دوئم کی سالگرہ کے موقع پر چھ مئی سن 1012 کو مذہبی مقاصد کے ليے مختص کر ديا گيا۔ اس وقت اس شاندار تقريب ميں پينتاليس بشپس نے حصہ ليا۔
تصویر: DW/Maksim Nelioubin
میرزےبرگ کيتھيڈرل
يہ کيتھيڈرل جرمن رياست سيکسنی انہالٹ ميں واقع ہے اور سن 2015 ميں اس کے قيام کے ايک ہزار برس مکمل ہوئے۔ اس کيتھيڈرل کی بنياد بشپ تھيٹمار نے سن 1015 ميں رکھی تھی۔ اس کيتھيڈرل کی پرانی ديواريں ہالی ووڈ کی فلموں کے ليے بہترين پس منظر فراہم کرتی ہيں۔ پانچ برس قبل جارج کلونی کی فلم ’دا مونيومنٹس‘ اس مقام پر بھی فلمائی گئی تھی۔
تصویر: Wolfgang Kubak
سينٹ ميريز کيتھيڈرل، ہلڈزہائم
ہلڈزہائم کا کيتھيڈرل خود بھی کافی پرانا ہے ليکن اس کی ديواروں پر گلاب کے پودے اس سے بھی پرانے ہيں۔ اس کيتھيڈرل کی تعمير سن 1061 ميں مکمل ہوئی تھی اور يوں اسے فی الحال ايک ہزار سال پورے نہيں ہوئے ہيں۔
تصویر: picture-alliance/dpa/J. Stratenschulte
وورمز کيتھيڈرل
وورمز کے سينٹ پيٹرز کيتھيڈرل کی تعمير ٹھیک ایک ہزار برس قبل سن 1018 ميں مکمل ہوئی تھی۔ اسے برشارڈ آف وورمز نے تعمير کرايا تھا۔
تصویر: DW / Maksim Nelioubin
10 تصاویر1 | 10
مقامی بشپ کی طرف سے نیک تمنائیں
فادر چیکوبیلی کا یہ اعلان سن کر چرچ میں موجود عبادت گزار ابھی حیرت زدہ ہی تھے کہ باقی وضاحت اس وقت ان کے پاس ہی کھڑے ہوئے مقامی بشپ سیگیس مونڈی نے کردی۔
بشپ سیگیس مونڈی نے فادر چیکوبیلی کی اس لمحے تک کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ چیکوبیلی نے انہیں پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا اور اس کلیسائی اہلکار کو یہ پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دل کی بات سنتے ہوئے اپنی مرضی سے اپنے تمام فیصلے آزادانہ طور پر خود کریں۔
بشپ سیگیس مونڈی نے کہا، ''میں ریکارڈو چیکوبیلی اور ان کی 'محبت‘ کے لیے زندگی میں ہر طرح کی خوشیوں اور کامیابیوں کے لیے دعا گو ہوں۔‘‘ ریکارڈو چیکوبیلی اٹلی کے تقریباﹰ ساڑھے تین ہزار کی آبادی والے اس چھوٹے سے شہر میں گزشتہ چھ سال سے بھی زائد عرصے مقامی پادری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔
وسطی یورپ کا ایک ایسا علاقائی تنازعہ، جو دنیا میں ایک بدترین جنگ کی صورتحال اختیار کر گیا تھا۔ تئیس مئی سن 1618 کو مذہب کی بنیاد پر شروع ہونے والی یہ لڑائی یورپ میں برتری حاصل کرنے کی ایک رزمیہ جنگ بن گئی۔
تصویر: Imago/United Archives
لوٹ مار اور تشدد کا بے جا استعمال
آخری مراحل میں یہ جنگ وسطی یورپ کے ان علاقوں تک محدود ہو گئی جہاں کھانے یا لوٹنے کو کچھ باقی بچا تھا۔ کسانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا کہ وہ اپنے اناج کے خفیہ ذخائر کے بارے میں بتائیں۔ سویڈن کے زر پرست افراد نے عام شہریوں کو تشدد اور دہشت کا نشانہ بنانے کے کئی لرزہ خیز طریقے اختیار کیے۔ ان میں لوگوں کو زبردستی سویڈش ڈرنک‘ پلانا بھی شامل تھا، جس کے اجزا میں پیشاب، پاخانہ اور آلودہ پانی تھا۔
تصویر: picture-alliance/akg-images
کیتھولک اور پروٹسٹنٹ آمنے سامنے
ابتدا میں یہ لڑائی کیتھولک اور پروٹسٹنٹ ریاستوں کے مابین تھی، جو یورپ کے طاقتور ممالک تک پھیل گئی۔ مقدس رومی سلطنت بھی اس میں شامل ہو گئی، جس کا مقابلہ پروٹسٹنٹ مسیحیوں سے تھا۔ سن 1630 میں سویڈش شاہ گستاف الثانی اڈولف بھی اس جنگ کے فریق بن گئے۔ وہ جرمن پروٹسٹنٹ کمیونٹی کو کیتھولک مسیحیوں کے حملوں سے بچانا اور یورپ میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا چاہتے تھے۔ انہوں نے بطور کمانڈر کئی معرکوں میں شرکت کی۔
تصویر: picture-alliance/akg-images
شاہ کی موت
اس جنگ کی سب سے بڑی لڑائی سولہ نومبر سن 1632 کو لؤٹزن کے مقام پر ہوئی۔ اس معرکے میں اطراف کو شدید جانی و مالی نقصان ہوا لیکن فاتح کوئی بھی نہ بن سکا۔ اس جنگ میں سویڈش بادشاہ کی پروٹسٹنٹ افواج کا سامنا البرشت فان والن شٹائن کی قیادت میں کیتھولک رومن افواج کے ساتھ تھا۔ اس لڑائی میں گستاف الثانی اڈولف مارے گئے۔ یوں کیتھولک افواج نے جیت کا اعلان کر دیا لیکن ان کا یہ اعلان صرف پراپیگنڈا پر ہی مبنی تھا۔
تصویر: picture-alliance/akg-images
جنگ سے فائدہ حاصل کرنے والے
اس یورپی جنگ کی وجہ سے کئی فوجی کمانڈروں کو فائدہ بھی ہوا۔ ان میں ایک نام جنرل البرشت فان والن شٹائن کا بھی ہے۔ اس جنگ کے اہم کمانڈر والن شٹائن نے ایک نظام تشکیل دیا، جس کے تحت کسانوں، تاجروں اور عام شہریوں سے زبردستی اشیائے خوردونوش جمع کی جاتی تھی۔ عام لوگوں کو فوج میں بھرتی کیا جاتا، حتیٰ کہ ان کی تنخواہیں بھی عام لوگ ہی ادا کرتے تھے۔ والن شٹائن کا موٹو تھا، ’’جنگ خود ہی لوگوں کو خوراک دے گی‘‘۔
تصویر: picture-alliance / akg-images
سر عام پھانسیاں
اس تیس سالہ جنگ کے دوران تشدد اور لوگوں کو ہلاک کرنا معمول کی بات رہی۔ مشہور مصور ژاک کالوت نے اس جنگ کی تباہ کاریوں کو اپنی متعدد پینٹگز میں عکس بند کیا۔ انہوں نے عوام کو مظلوم اور ظالم دونوں کے ہی روپ میں دکھایا۔ ان کی ایک مشہور پینٹنگ ’دی ہینگنگ‘ ہے، جو سن سولہ سو بتیس اور تینتیس کے دوران بنائی گئی تھی۔
تصویر: picture-alliance / akg-images
جنگ بندی کا تاریخی معاہدہ
تب شاید ہی کسی کو یہ یقین تھا کہ یہ جنگ کبھی ختم بھی ہو سکتی ہے تاہم آخر کار طویل مشاورتی عمل کے نتیجے میں قیام امن ممکن ہو ہی گیا۔ پانچ سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد کیتھولک اور پروٹسٹنٹ حریفوں نے پندرہ مئی سن سولہ سو اڑتالیس کو موجودہ جرمن شہر میونسٹر میں جنگ بندی ڈیل کو حتمی شکل دی۔ اس جنگ نے یورپ کو تباہ کر کے رکھ دیا تھا۔
ریکارڈو چیکوبیلی کے اعلان کے بعد بشپ سیگیس مونڈی نے انہیں ان کی جملہ کلیسائی ذمے داریوں سے فارغ کر دیے جانے کا اعلان بھی کر دیا۔
چیکوبیلی کے اس فیصلے اور ان کے اپنی کلیسائی ذمے داریوں سے دست بردار ہونے کے 'ذاتی انتخاب‘ کی تفصیلات آج منگل کے روز اٹلی کے قومی اخبارات میں خبروں اور رپورٹوں کو موضوع بھی بنیں۔
اس بارے میں سان فیلیس چرچ کے ڈائیوسیس اور خود ریکارڈو چیکوبیلی نے بھی کوئی بھی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا کہ وہ خاتون آخر کون ہے، جس کی وجہ سے اور جس کے ساتھ چیکوبیلی نے اپنا کلیسائی گاؤن اتار کر اپنی زندگی بسر کرنے کا فیصلہ کیا۔
م م / ع ا (اے ایف پی، ڈی پی اے)
دنیا کے مختلف مذاہب میں عقیدت کے طور پر سر کو ڈھانپا جاتا ہے۔ اس کے لیے کِپا، ٹوپی، پگڑی، چادر اور دستار سمیت بہت سی مختلف اشیاء استعمال کی جاتی ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کس مذہب میں سر کو کیسے ڈھکا جاتا ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/D. Dyck
کِپا
یورپی یہودیوں نے سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں مذہبی علامت کے طور پر یارمولکے یا کِپا پہننا شروع کیا تھا۔ یہودی مذہبی روایات کے مطابق تمام مردوں کے لیے عبادت کرنے یا قبرستان جاتے وقت سر کو کِپا سے ڈھانپنا لازمی ہے۔
تصویر: picture alliance/dpa/W. Rothermel
بشپ کا تاج
مائٹر یا تاج رومن کیتھولک چرچ کے بشپس مذہبی رسومات کے دوران پہنتے ہیں۔ اس تاج نما ٹوپی کی پشت پر لگے دو سیاہ ربن بائبل کے عہد نامہ قدیم اور جدید کی علامت ہیں۔
تصویر: picture alliance/dpa/P. Seeger
پگڑی
سکھ مذہب کا آغاز شمالی بھارت میں پندرہویں صدی میں ہوا تھا۔ سکھ مت میں داڑھی اور پگڑی کو مذہبی اہمیت حاصل ہے۔ پگڑی عام طور پر سکھ مرد ہی باندھتے ہیں۔ نارنگی رنگ سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/D. Dyck
چادر
مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں خواتین چادر اوڑھتی ہیں، جسے فارسی میں چادور کہتے ہیں۔ فارسی میں اس کے معنی خیمے کے ہیں۔ اس لباس سے پورا جسم ڈھک جاتا ہے۔ زیادہ تر سیاہ رنگ کی چادر استعمال کی جاتی ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/M.Kappeler
راہباؤں کا حجاب
دنیا بھر میں مسیحی راہبائیں مذہبی طور پر ایک خاص قسم کا لباس پہنتی ہیں۔ یہ لباس مختلف طوالت اور طریقوں کے ہوتے ہیں اور ان کا دار و مدار متعلقہ چرچ کے مذہبی نظام پر ہوتا ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/U. Baumgarten
ہیڈ اسکارف
ہیڈ اسکارف کو حجاب بھی کہا جا سکتا ہے۔ حجاب پہننے پر مغربی ممالک میں شدید بحث جاری ہے۔ ترک اور عرب ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین کی ایک بڑی تعداد اپنے سروں کو ہیڈ اسکارف سے ڈھکتی ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/G. Schiffmann
شیتل
ھاسیدک برادری سے تعلق رکھنے والی شادی شدہ کٹر یہودی خواتین پر لازم ہے کہ وہ اپنے سر کے بال منڈوا کر وگ پہنیں۔ اس وگ کو شیتل کہا جاتا ہے۔
تصویر: picture-alliance/Photoshot/Y. Dongxun
بیرت
رومن کیھتولک پادریوں نے تیرہویں صدی سے بیرت پہننا شروع کیا تھا۔ اس کی تیاری میں کپڑا، گتا اور جھالر استعمال ہوتے ہیں۔ جرمنی، ہالینڈ، برطانیہ اور فرانس میں اس ہیٹ کے چار کونے ہوتے ہیں جبکہ متعدد دیگر ممالک میں یہ تکونی شکل کا ہوتا ہے۔
تصویر: Picture-alliance/akg-images
نقاب یا منڈاسا
کاٹن سے بنا ہوا یہ اسکارف نما کپڑا کم از کم پندرہ میٹر طویل ہوتا ہے۔ اسے زیادہ تر مغربی افریقہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ طوارق جنگجو اپنا چہرہ چھپانے اور سر کو ڈھکنے کے لیے اسے بہت شوق سے پہنتے ہیں۔
یہودی شٹریمل مخمل اور فر سے بنائی جاتی ہے۔ شادی شدہ یہودی مرد اس ہیٹ کو چھٹیوں اور مذہبی تقاریب میں پہنتے ہیں۔ یہ جنوب مشرقی یورپ میں آباد ھاسیدک یہودی برادری نے سب سے پہلے پہننا شروع کیا تھا۔
تصویر: picture-alliance/NurPhoto
ہیٹ
شمالی امریکا کی آمش برادری کا شمار قدامت پسند مسیحیوں میں ہوتا ہے۔ آمش اٹھارہویں صدی میں یورپ سے امریکا جا کر آباد ہوئے تھے۔ ان کی خواتین بالکل سادہ جبکہ مرد تھوڑے مختلف قسم کے فیلٹ ہیٹ پہنتے ہیں۔