پاکستانی انتخابات، تاريخ کے آئینے میں
13 اپریل 2013
گيارہ مئی کو ہونے والے پارليمانی انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومت کو ملک کی سرحدوں کے اندر اور خطے ميں عدم استحکام کے علاوہ اندرون ملک دہشت گردی اور فرقہ ورانہ تشدد ميں اضافے سميت معاشی بدحالی جيسے کئی ديگر مسائل سے بھی نمٹنا ہوگا۔
2013ء کے پارليمانی انتخابات
اگلے مہينے ہونے والے اليکشن پاکستان کی تاريخ کے گيارہويں عام انتخابات ہوں گے۔ ان انتخابات کے ليے اليکشن کميشن آف پاکستان (ECP) نے رواں سال کے آغاز ميں متعدد انتخابی اصلاحات متعارف کرائی ہيں، جن کا مقصد صاف و شفاف اليکشن کا انعقاد ہے۔ کميشن کا ايک اور اہم قدم کمپيوٹرائزڈ اليکٹورل رولز کی پرنٹنگ ہے، جس کے نتيجے ميں قريب 35 ملين ’بوگس‘ يا ناکارہ ووٹر فہرست سے خارج ہو گئے ہيں۔
اس بار پارليمانی انتخابات ميں 40 ملين نوجوان پاکستانی شہری پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔ مجموعی طور پر ملک بھر ميں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد نوے ملين کے لگ بھگ ہے۔
پاکستانی انتخابات کی تاريخ، 1947ء تا 1965ء
پاکستان کی ابتدائی تاريخ ميں ملکی آئين پر عدم اتفاق کا مسئلہ کافی نماياں رہا اور يہی وجہ تھی کہ سن 1947ء ميں پاکستان کے قيام کے بعد سے 1958ء تک عام انتخابات کا انعقاد نہ ہو سکا۔ صوبائی انتخابات البتہ وقت بوقت ہوتے رہے۔
اکتوبر سن 1958 ميں اس وقت کے صدر پاکستان اسکندر مرزا نے مارشل لاء کا اعلان کرتے ہوئے جنرل محمد ايوب خان کو ملکی فوج کا کمانڈر ان چيف اور چيف مارشل لاء ايڈمنسٹريٹر مقرر کيا۔ بعد ازاں اُسی ماہ ستائيس اکتوبر کو ايوب خان نے پاکستان کے دوسرے صدر کے طور پر حلف اٹھايا۔ پھر مارچ 1962ء ميں نيا آئين تشکيل ديا گيا اور اسی نئے آئين کے تحت ملکی تاريخ کے پہلے عام انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکا۔ واضح رہے کہ پاکستان ميں سن 1962 اور سن 1965 ميں کرائے جانے والے انتخابات ميں عوام نے براہ راست رائے شماری ميں حصہ نہيں ليا بلکہ لوکل گورنمنٹ کے اراکين نے پارليمانوں کے چناؤ ميں حصہ ليا۔
سن 1970 کے انتخابات اور بنگلہ ديش کی عليحدگی
مارچ 1969ء ميں پاکستان ميں دوسری مرتبہ مارشل لاء نافذ کيا گيا اور جنرل آغا محمد يحيیٰ خان نے چيف مارشل لاء ايڈمنسٹريٹر اور ملکی صدر کے طور پر ذمہ دارياں سنبھاليں۔ انہوں نے ايک ليگل فريم ورک آرڈر جاری کيا، جس کے تحت دسمبر 1970ء ميں ملکی تاريخ ميں پہلی مرتبہ براہ راست عام انتخابات کا انعقاد ہوا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان اليکشنز ميں 63 فيصد پاکستانيوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کيا اور مجموعی طور پر 24 سياسی جماعتوں نے انتخابات ميں حصہ ليا۔ ملک ميں رجسٹرڈ ووٹروں کی کل تعداد 56,941,500 تھی، جن ميں سے 31,211,220 کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا اور 25,730,280 کا تعلق مغربی پاکستان سے۔ ان انتخابات ميں 1,579 اميدواروں نے قومی اسمبلی کی 300 نشستوں کے ليے اليکشن میں حصہ لیا۔ واضح رہے کہ مشرقی پاکستان )موجودہ بنگلہ ديش( ميں سيلابی صورت حال کے باعث اليکشن کچھ تاخير سے ہوئے تھے۔
انتخابات ميں شيخ مجيب الرحمان کی عوامی ليگ قومی اسمبلی ميں سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری، اس نے قومی اسمبلی کی کل 300 نشستوں ميں سے 160 نشستيں جيتيں تاہم مغربی پاکستان میں عوامی لیگ کی کارکردگی کچھ بھی نہ رہی۔ اس کے برعکس پاکستان پيپلز پارٹی قومی اسمبلی ميں 81 نشستيں جيتنے ميں کامياب رہی اور اس نے مغربی پاکستان کے صوبوں سندھ اور پنجاب ميں بھی بڑے بڑے سیاسی امیدواروں کو شکست سے دوچار کر دیا۔ 1970ء کے انتخابات ميں مذہبی رجحان رکھنے والی جماعتيں کسی حد تک ناکامی سے ہمکنار ہوئیں تھیں۔ انتخابات کے بعد سیاسی حالات ناقابل کنٹرول ہو گئے اور سولہ دسمبر کو سقوطِ ڈھاکا کے بعد بنگلہ دیش معرضِ وجود میں آ گیا۔
مغربی پاکستان میں یحیٰ خان نے اقتدار چھوڑ دیا اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور قائد ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔
1977ء کے انتخابات
جنوری سن 1977 ميں وزير اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قبل از وقت اليکشن کا اعلان کر ديا۔ يوں دو ماہ بعد مارچ ميں اليکشن کرائے گئے، جن ميں 63 فيصد پاکستانيوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کيا۔ ان انتخابات کے ليے رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 30,899,052 تھی۔ انتخابات ميں بھٹو کی پيپلز پارٹی کو شکست سے دوچار کرنے کے ليے کئی چھوٹی و بڑی سياسی جماعتوں نے پاکستان قومی اتحاد (PNA) کے نام سے انتخابی اتحاد قائم کيا۔
نتائج کے مطابق پی پی پی نے 58.1 فيصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی 173 ميں سے 136 سيٹيں جيتيں جبکہ پی اين اے صرف 35.1 فيصد ووٹ اور 36 سيٹيں جيتنے ميں کامياب رہی۔ اس کے علاوہ پی پی پی نے انيس نشستيں بغير کسی مقابلے کے بھی جيتيں۔ پاکستان نيشنل الائنس نے مغربی صوبے بلوچستان ميں جاری ملٹری آپريشن کی سبب وہاں اليکشن ميں حصہ نہيں ليا۔ پاکستان نيشنل الائنس نے اليکشنز ميں دھاندلی کے الزا مات عائد کرتے ہوئے صوبائی انتخابات کا بائيکاٹ کر دیا تھا۔
سن 1988 کے انتخابات
جولائی 1977ء ميں جنرل ضياء الحق نے بھٹو کی حکومت کا تختہ اُلٹ ديا اور نوے ایام کے اندر عام انتخابات کا وعدہ کیا۔ بعد میں انتخابات کا وعدہ پورا نہ ہو سکا اور جنرل ضیا کا اقتدار گیارہ برس سے زائد عرصے تک قائم رہا۔ اس دوران چار اپریل سن 1979 میں قتل کے ایک مقدمے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ ایک ریفرنڈم کے ذریعے جنرل ضیا پاکستان کےغ صدر منتخب ہو گئے۔ سن 1985 ميں ضياء الحق نے سیاسی پارٹیوں کے بغیر پارلیمانی الیکشن کا انعقاد کرايا۔ جنرل ضیا الحق کا اقتدار اگست 1988 ميں ايک ہوائی جہاز کے حادثے پر ختم ہوا۔ فوجی صدر اس حادثے میں ہلاک ہو گیا تھا۔
ضياء الحق کی ہلاکت کے بعد قائم مقام صدر غلام اسحاق خان نے پارلیمانی انتخابات کا عمل آگے بڑھایا۔ سابق وزير اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی بيٹی بے نظير بھٹو نے ان انتخابات میں شرکت کی۔ نومبر 1988 ميں ہونے والے عام انتخابات ميں پاکستان پيپلز پارٹی فاتح رہی اور بے نظير بھٹو نے پاکستان اور مسلم دنيا کی پہلی خاتون وزير اعظم کا حلف اٹھايا۔ تاہم محض بيس ماہ بعد سن 1990ء ميں صدر غلام اسحاق خان نے کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے بے نظير حکومت کو برطرف کر ديا۔
1990ء کے اليکشن
اکتوبر سن 1990 ميں پاکستانی عوام نے دوبارہ پولنگ اسٹيشنز کا رخ کيا اور اس بار پاکستان پيپلز پارٹی کی مرکزی حريف جماعت پاکستان مسلم ليگ نے اليکشن ميں اکثريت حاصل کرتے ہوئے حکومت قائم کی۔ انتخابات میں اس جماعت کی قیادت میاں محمد نواز شریف کر رہے تھے۔ بعد ازاں وزير اعظم نواز شريف اور صدر غلام اسحاق خان کے درميان تنازعات نے جنم لیا اور ايک ڈيل کے تحت 1993ء ميں نواز شریف حکومت کی بساط لپیٹ دی گئی۔ اس وقت کے سپریم کورٹ نے نواز شریف کی حکومت کو بحال بھی کر دیا تھا۔
1993ء کے اليکشن
اکتوبر 1993ء ميں ہونے والے پارليمانی انتخابات ميں مقابلہ کافی سخت رہا۔ ان انتخابات ميں پاکستان پيپلز پارٹی قومی اسمبلی کی مجموعی 207 ميں سے 89 نشستيں جيتنے ميں کامياب رہی جبکہ حريف جماعت پاکستان مسلم ليگ بھی 73 نشستوں پر کامياب رہی۔ اگرچہ پی پی پی زيادہ نشستوں پر کامياب رہی تاہم اس ملنے والے کل ووٹوں کی تعداد پاکستان مسلم ليگ کو ملنے والے ووٹوں سے کم رہی۔
پاکستان پيپلز پارٹی نے کوليشن حکومت قائم کی اور بے نظر بھٹو کو دوسری مرتبہ پاکستان کی وزارت عظمیٰ کے منصب پر براجمان ہو گئیں۔
1997ء کے اليکشنز
صدر فاروق احمد خان لغاری نے سن 1996 ميں کرپشن کے الزام پر بے نظر بھٹو کی حکومت کو برطرف کر دیا۔ بےنظیر بھٹو کو سپریم کورٹ سے ریلیف نہیں مل سکا اور ان کی حکومت بحال کرنے کی اپیل خارج کر دی گئی۔ فروری سن 1997 ميں پاکستانی عوام نے ايک مرتبہ پھر پولنگ اسٹيشنز کا رخ کيا۔ ان انتخابات ميں ووٹر ٹرن آؤٹ صرف 36 فيصد رہا تاہم نواز شريف کی پاکستان مسلم ليگ نے پاکستانی تاريخ ميں پہلی مرتبہ قومی اسمبلی ميں دو تہائی اکثريت حاصل کرتے ہوئے حکومت قائم کی۔ قومی اسمبلی کی کل 207 سيٹوں ميں سے پی ايم ايل نے 137 جيتيں جبکہ پی پی پی اس بار صرف اٹھارہ سيٹيں ہی جيت پائی۔ نواز شريف دوسری مرتبہ پاکستانی وزير اعظم بنے۔
2002ء کے انتخابات
اکتوبر سن 1999 ميں وزير اعظم نواز شريف کی حکومت کو ڈرامائی انداز ميں اس وقت کے آرمی چيف جنرل پرويز مشرف کے ساتھیوں نے ختم کردیا۔ اس کی وجہ جنرل مشرف کے جہاز کو کراچی لينڈنگ کی اجازت نہ دینے کا الزام لگایا۔ آرمی نے ايک مرتبہ پھر سويلين حکومت ختم کر کے اقتدار سنبھال ليا۔ بعد ازاں جنرل مشرف کی ملٹری ليڈرشپ ميں 2002 ميں عام انتخابات کرائے گئے، جن ميں ستر سے زائد سياسی جماعتوں نے حصہ ليا اور ان انتخابات ميں ووٹر ٹرن آؤٹ قريب 42 فيصد رہا۔ اس دوران میاں نواز شریف اور ان کا خاندان ایک ڈیل کے تحت سعودی عرب مہاجرت کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔
پاکستان مسلم ليگ قائد اعظم گروپ نے قومی اسمبلی کی 342 ميں سے 126 سيٹيں جيتتے ہوئے کوليشن حکومت قائم کی۔ اس بار پی پی پی 81 اور نواز گروپ صرف 19 سيٹيں جيتنے ميں کامياب رہا۔ اس الیکشن میں پہلی مرتبہ پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ سامنے آیا۔
جنرل مشرف نے ريفرنڈم کے ذريعے خود کو صدر منتخب کرا ليا۔
2008ء کے پارليمانی انتخابات
سن 2007 ميں صدر جنرل پرويز مشرف نے سبکدوش ہونے والی ملکی پارليمان سے خود کو دوبارہ صدر منتخب کرا ليا۔ اسی سال قومی مصالحتی آرڈينينس يا NRO پر دستخط کے بعد نواز شريف اور بے نظر بھٹو وطن واپس آئے۔
دسمبر 2007ء ميں شمالی شہر راولپنڈی ميں ہوئے ايک حملے ميں پاکستان پيپلز پارٹی کی سربراہ بے نظير بھٹو ہلاک ہو گئيں۔
اگلے سال فروری ميں ہونے والے انتخابات ميں پاکستان پيپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی کل 340 ميں سے 124 سيٹيں جيتيں جبکہ پاکستان مسلم ليگ نواز گروپ 91 سيٹيں اور قائد اعظم گروپ 54 اور متحدہ قومی موومنٹ 25 سيٹوں پر کاميابی حاصل کرنے ميں کامياب رہے۔
اس بار ووٹر ٹرن آؤٹ 44 فيصد رہا۔ وفاق ميں پی پی پی نے حکومت قائم کی اور پاکستان کی تاريخ ميں پہلی مرتبہ سويلين حکومت نے سن 2013 میں اپنے مقررہ پانچ سال مکمل کيے۔
رپورٹ: عاصم سليم
ادارت: عابد حسین