پاکستان میں متوسط اور بالائی متوسط طبقے کی خواتین کا اکیلے یا اپنے بچوں کے ساتھ بیرون ملک تفریحی سفر ایک نئے سماجی رجحان کے ساتھ ساتھ سیاحتی اداروں کے لیے کاروبار کا ایک نیا کامیاب شعبہ بھی بنتا جا رہا ہے۔
اشتہار
امیر طبقے کے باوسائل پاکستانی خاندانوں میں کسی مرد کا اپنی شریک حیات یا سبھی اہل خانہ کے ساتھ اندرون ملک یا بیرون ملک سیاحتی سفر تو کبھی بھی مسئلہ نہیں رہا۔ اس لیے کہ ان کے پاس مالی وسائل کافی ہوتے ہیں اور وہ ہر سال چھٹیاں گزارنے کے لیے کہیں نہ کہیں جاتے ہی ہیں۔ ایسے اپر کلاس گھرانوں کی خواتین کا اپنے رشتہ داروں یا دوست احباب سے ملاقاتوں کے لیے یا پھر صرف سیاحتی پہلو سے ہی شمالی امریکہ یا یورپ کا اکیلے سفر کرنا بھی عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔
تاہم پاکستان کے متوسط طبقے کے بہت سے گھرانے، جن کے پاس بہت زیادہ مہنگائی کے دور میں وسائل کی فراوانی نہیں ہوتی، اکثر ملک کے ٹھنڈے شمالی علاقوں میں سے ہی کسی علاقے کی سیاحت کا فیصلہ کرتے ہیں اور وہ بھی ہر سال تو بالکل نہیں۔ ایسے تفریحی سفر زیادہ تر فیملی گروپ کی صورت میں کیے جاتے ہیں اور خواتین کے ساتھ ان کے شوہر یا گھر کے دیگر مرد ہوتے ہی ہیں۔
اکیلی خواتین کا مسئلہ
تفریح کے لیے سیاحت چاہے ملک کے اندر کی جائے یا کسی دوسرے ملک کی، ایسا کرنا خاص طور پر مڈل اور اپر مڈل کلاس کی ان خواتین کے لیے ہمیشہ ہی ایک مشکل فیصلہ ہوتا تھا، جن کے ہمراہ کوئی مرد نہیں ہوتا۔ ایسی خواتین یا تو غیر شادی شدہ اور زیادہ تر ملازمت پیشہ ہوتی ہیں، یا پھر ایسی مائیں جو اپنے شوہروں سے علیحدگی یا بیوگی کے بعد اکیلی ہی اپنے بچوں کی پرورش کر رہی ہوتی ہیں۔
پاکستانی معاشرہ روایتی طور پر ایک قدامت پسند اور پدر شاہی معاشرہ ہے اور اس ملک کو گزشتہ چند برسوں سے شدید مالیاتی اور اقتصادی بحران کا سامنا بھی ہے۔ ایسے میں اپنی آمدنی میں سے بچت کر کے سفر کے لیے کافی رقوم جمع کرنا، پھر عمومی سماجی رویوں کے برعکس اکیلے یا صرف اپنے بچوں کے ساتھ سیاحت پر نکلنا، اور پھر اس سارے عمل کا آخر تک محفوظ اور خوشگوار بھی رہنا، یہ سب کچھ پہلے مشکل ہوتا تھا مگر اب آسان ہوتا اور ایک نیا رجحان بنتا جا رہا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی پاکستانی خواتین کی اکیلے یا اپنے بچوں کے ساتھ غیر ملکی سیاحت کی خواہش کو ملکی سیاحتی کمپنیوں نے ایک ایسے ذیلی شعبے کے طور پر پہچان لیا ہے، جو مسلسل پھیلتا جا رہا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ برسوں میں بہت ترقی کرے گا۔
کاغان اور ناران: یہ وادیاں یہ پربتوں کی شہزادیاں
کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث دنیا بھر میں جہاں باقی تمام کاروبار متاثر ہوئے وہیں پاکستانی سیاحت کو بھی بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ اس پکچر گیلری میں سیر کیجیے، پاکستان کے دو مشہور سیاحتی مقامات ناران اور کاغان کی۔
تصویر: DW/ I. Jabeen
دھرم سرجھیل اور اس کا دلفریب قدرتی حسن
پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کی سرحدوں کے سنگم پر واقع دھرم سرجھیل تقریباﹰ ساڑے تیرہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہ گلیشیئرز کے پانیوں سے بنی ہوئی جھیل ہے اور اپنی خوبصورتی کے باعث سیاحوں میں بہت مقبول ہے۔ یہاں سیدگئی جھیل، آنسو جھیل، جھیل سیف الملوک، کنڈول جھیل، پائے جھیل، سری جھیل، دریائے پنجکورہ اور کئی دیگر مقامات ایسے ہیں، جن کا حسن دیکھنے والے کو سحر میں لے لیتا ہے۔
تصویر: DW/ I. Jabeen
صوبہ خیبر پختونخوا کا قدرتی حسن اور تاریخی ورثہ
خیبر پختونخوا میں ہزارہا سال پرانی تہذیبی باقیات اور آثار قدیمہ کی کوئی کمی نہیں۔ قدرت نے پاکستان کے اس حصے کو بہت سی وادیوں اور پہاڑوں سے بھی نوازا ہے۔ ناران سے دھرم سر جھیل جانے کا یہ راستہ سیاحوں کے لیے گہری دلچسپی کا باعث اس لیے بھی ہے کہ عموماﹰ وہ دیگر جھیلوں کی طرف جاتے یا آتے ہوئے یہاں کچھ دیر کے لیے ٹھہر جاتے ہیں۔ اکثر سیاح یہاں تصاویر اور ویڈیوز بناتے یا پھر پکنک مناتے بھی نظر آتے ہیں۔
تصویر: DW/ I. Jabeen
کورونا کے باعث ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد بہت کم
اس بار کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے جولائی کے وسط تک غیر ملکی سیاحوں کی بکنگ نہ ہونے کے برابر رہی اور مقامی سیاح بھی بہت ہی کم تعداد میں ان وادیوں کا رخ کر رہے ہیں۔ لیکن جو سیاح اب ان وادیوں کا رخ کر رہے ہیں، ان کی بڑی خوشی سے خاطر مدارت کی جاتی ہے کیونکہ ان خوبصورت وادیوں میں لوگوں کو زیادہ تر آمدنی انہی سیاحوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔
تصویر: DW/ I. Jabeen
لولو سر جھیل تقریباﹰ گیارہ ہزار دو سو فٹ کی انچائی پر واقع
لولو سر جھیل وادی کاغان کی سب سے بڑی جھیل ہے جس کی لمبائی تقریباﹰ تین کلومیٹر ہے اور یہ تقریبا گیارہ ہزار دو سو فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اس جھیل کا شمار دریائے کنہار کے ہیڈ واٹرز میں ہوتا ہے اور یہ وادی ناران سے دو سو ستاسی کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ناران کے زیادہ تر مکین پشتو، اردو اور ہندکو زبانیں بولتے ہیں۔ گھنے جنگلات اور سرسبز چراگاہوں سے بھرا ہوا یہ علاقہ انتہائی خوبصورت ہے۔
تصویر: DW/ I. Jabeen
کاغان کے قلب میں دریائے کنہار
وادی کاغان کو اس کا نام کاغان نامی قصبے کی وجہ سے دیا گیا۔ بابو سر ٹاپ کے قریب سے شروع ہوتا ہوا دریائے کنہار پوری وادی کاغان کو سیراب کرتا ہوا مظفر آباد کے قریب دریائے جہلم میں مل جاتا ہے۔ اس کی لمبائی ایک سو چھیاسٹھ کلو میٹر ہے۔ دلنشیں پہاڑوں سے گزرتا ہوا یہ دریا اپنے انتہائی ٹھنڈے اور صاف پانی کی وجہ سے مشہور ہے اور اس کے ساتھ ساتھ حسین جنگلات اور پہاڑ انتہائی دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔
تصویر: DW/ I. Jabeen
دلفریب پیالہ جھیل کا چمکتا ہو سبز رنگ کا پانی
منفرد ساخت والی پیالہ جھیل وادی ناران سے چالیس کلو میٹر دور ایک پہاڑ پر واقع ہے۔ اس کا چمکتا ہو سبز رنگ کا پانی سیاحوں کا دل اپنی جانب کھینچتا ہے۔ یہ جھیل اپنی خوبصورتی کے اعتبار سے بہت منفرد ہے۔ ناران اور کاغان کی وادیوں کو ان کے حسین نظاروں، جھیلوں، چشموں، آبشاروں اور گلیشیئرز کے باعث سیاحتی حوالے سے بہت پسند کیا جاتا ہے۔
تصویر: DW/ I. Jabeen
کیوائی، پارس، شینو، جرید اور مہانڈی کے خوبصورت قصبات
ناران کاغان کے علاقے میں سترہ ہزار فٹ سے زیادہ بلندی والی کئی چوٹیاں واقع ہیں۔ ان حسین وادیوں کے راستے میں کیوائی، پارس، شینو، جرید اور مہانڈی جیسے بہت سے خوبصورت قصبات آتے ہیں، جن کا حسن دیکھنے والے کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ آج بھی اس خطے میں کئی انتہائی خوبصورت سیاحتی مقامات ایسے ہیں، جنہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق ترقی نہیں دی جا سکی۔
تصویر: DW/ I. Jabeen
کورونا وائرس کے باعث سیاح ان وادیوں میں نہ ہونے کے برابر
آج کل ان وادیوں میں سیاحوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی لیے وہاں رونقیں اور چہل پہل بھی کم ہی دکھائی دیتی ہے۔ جل کھنڈ میں دریائے کنہار کے قریب واقع یہ ریسٹورنٹ بالکل سنسان تھا۔ ریسٹورنٹ کے مالک کے مطابق اس سیزن میں یہاں تل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی تھی لیکن اب تو سیاحوں نے پہلے سے کرائی گئی بکنگز بھی منسوخ کر دی ہیں اور اس وبا نے تو ملکی سیاحت تو دہشت گردی سے بھی زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
تصویر: DW/ I. Jabeen
عدم توجہ کا نتیجہ سہولیات کا فقدان
پاکستان کے پاس قدرتی حسن کا اتنا بڑا خزانہ ہے کہ سیاحت کو جدید خطوط پر ترقی دے کر ملک کے لیے بے تحاشا زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ لیکن مجموعی طور پر سیاحتی شعبہ ملکی معیشت میں اپنی وہ ممکنہ لیکن بہت اہم جگہ نہیں بنا سکا، جس کا وہ اہل ہے۔ ایک طرف سیاحتی شعبے کے سرکاری اداروں کی غفلت ہے تو دوسری طرف سیاحوں کے لیے آمد و رفت کی جدید، تیز اور محفوظ سہولیات کی دستیابی بھی یقینی نہیں بنائی جا سکی۔
تصویر: DW/ I. Jabeen
بیسل نامی گاؤں میں دودھی پتسر اور دیگر مشہور ٹریلز
ایک دریا کے کنارے واقع بیسل نامی چھوٹا سا گاؤں وہ جگہ ہے، جہاں سے دودھی پتسر اور دیگر مشہور ٹریلز کا آغاز ہوتا ہے۔ پاکستان اور دنیا بھر سے سیاح ان ٹریلز پر چلنے کے لیے ہر سال بیسل کا رخ کرتے ہیں۔ اس گاؤں کو ہونے والی آمدنی میں سیاحوں کی آمد و رفت کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ وادی ناران سے شمال کی جانب سفر کرتے ہوئے آخری پولیس چیک پوسٹ بھی بیسل ہی میں واقع ہے۔
تصویر: DW/ I. Jabeen
عوامی اور نجی شعبوں میں اشتراک عمل کی ضرورت
پاکستانی پہاڑ سر کرنے والے آنے والے کوہ پیماؤں اور سیاحت کے لیے اس ملک کا رخ کرنے والے غیر ملکیوں میں سے زیادہ تر کا تعلق اٹلی، اسپین، پولینڈ، جرمنی، جاپان اور جنوبی کوریا سے ہوتا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق سیاحتی شعبے کے لیے بہتر مالیاتی نتائج کی خاطر عوامی اور نجی شعبوں کے مابین مشترکہ سرمایہ کاری اور اشتراک عمل بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔
تصویر: DW/ I. Jabeen
11 تصاویر1 | 11
خواتین کی سیاحتی کمپنیاں
اسلام آباد کی گارڈن کالونی کی رہائشی نائلہ خان ٹریول اینڈ ٹور کے بزنس سے منسلک ہیں۔ وہ پانچ سال تک ایک بڑی کمپنی کے ساتھ بطور ڈومیسٹک ٹور ایگزیکٹیو کام کرتی رہیں۔ پھر تین برس قبل انہوں نے اپنی ایک کمپنی 'خانہ بدوش ٹریولرز‘ کے نام سے رجسٹر کروا لی۔ ان کے اہتمام کردہ زیادہ تر ٹور پرائیویٹ ہی ہوتے ہیں۔ وہ مختلف ٹور آپریٹرز کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں، جس میں نام اگر کسی دوسری کمپنی کا بھی ہو، تو بھی عملاﹰ ساری سروسز ان کی اپنی ہی ہوتی ہے۔
نائلہ خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''میں ٹور آپریٹرز کے ساتھ کام کرتی ہوں۔ لیکن گراؤنڈ ہینڈلنگ سب میری اپنی ہوتی ہے۔ میں مہینے میں دو ایک بار صرف خواتین اور بچوں کے لیے مری اور گلیات وغیرہ کے دوروں کا اہتمام ضرور کرتی ہوں۔"
لیکن کیا ان کے پاس ان جملہ انتظامات کے لیے کوئی بڑی ٹیم موجود ہے؟ اس کے جواب میں نائلہ خان نے کہا، ''بنیادی طور پر یہ ون پرسن شو ہے۔ ایڈورٹائزنگ، ریزرویشن، ہوٹل بکنک، گاڑی، ڈرائیور وغیرہ، میں ہی سب کچھ کر رہی ہوتی ہوں۔ ایسی خواتین جو اپنے بچوں کی اکیلے پرورش کر رہی ہوتی ہیں اور اپنے بچوں کے ساتھ ایک آدھ ہفتے کے لیے کہیں سیاحت کے لیے جانا چاہتی ہیں، میں ان کو قابل بھروسہ ڈرائیور، ہوٹل بکنگ اوردیگرسفری سہولیات دینے کے ساتھ ساتھ خود بھی چوبیس گھنٹے فون پر موجود ہوتی ہوں تاکہ اگر ان کو کسی قسم کا کوئی مسئلہ پیش آئے، تو اسے حل کر سکوں۔‘‘
نائلہ خان کے مطابق وہ زیادہ سستے ہوٹل میں کبھی بکنگ نہیں کرتیں۔ وہ کم از کم بھی آٹھ نو ہزار روپے فی رات والا ہوٹل بک کرتی ہیں تاکہ ان کے کسٹمرز کو بہتر سہولیات مل سکیں۔ ان کے مطابق ایک ہفتے کا سکردو ہنزہ کا زمینی راستے سے سفر والا پیکج تقریباﹰ ڈیڑھ لاکھ روپے فی کس بنتا ہے، لیکن اگر قیام شنگریلا جیسے کسی ہوٹل میں کیا جائے، تو بجٹ خاصا زیادہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جون سے پندرہ ستمبر تک جب سیاحتی سیزن عروج پر ہوتا ہے، زیادہ تر ملکی سیاح ناران جانا چاہتے ہیں۔
چھ سالہ بیٹی کے ہمراہ ایک ماں کا سیاحتی تجربہ
اسلام آباد کے سیکٹر ڈی ایچ اے ون کی رہائشی رائمہ بتول نے بھی نائلہ خان کی کمپنی کی خدمات استعمال کیں۔ ان کو'خانہ بدوش ٹریولرز‘ کے ساتھ کیا گیا مری کا ایک روزہ دورہ بہت پسند آیا۔ ان کے مطابق اپنی چھ سالہ بیٹی کے ساتھ یہ سفر کرنا ان کا خواب تھا مگر اکیلے جانا اور وہ بھی کم لاگت کے ساتھ، یہ ممکن نہیں لگتا تھا۔
رائمہ بتول نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''مجھے انٹرنیٹ سے پتہ چلا کہ کچھ گروپ مل کر سیاحت کرتے ہیں۔ مجھے مری کی ایک دن کی سیر ساڑھے چار ہزار روپے میں پڑی: تین ہزار روپے میرے اور پندرہ سو روپے میری بیٹی کے سفر کی لاگت۔ اس گروپ میں زیادہ تر میری طرح سنگل مدرز تھیں، ٹور کے دوران یوگا کا ایک سیشن بھی ہوا۔ کھانا پینا بھی ایک اچھے ریسٹورنٹ میں، مگر پیکج ہی کا حصہ تھا۔ اس گروپ میں شامل خواتین نے آپس میں خوب گپ شپ کی۔ میری کچھ نئی دوست بھی بن گئیں اور میری بیٹی نے بھی اس گروپ میں شامل دیگر بچوں کے ساتھ مل کر اس سفر سے خوب لطف اٹھایا۔‘‘
پاکستان کے حسین نظارے
پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یوم سیاحت منایا جا رہا ہے۔ جنوبی ایشیائی ملک پاکستان قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ اس پکچر گیلری میں ایک نظر پاکستان کے حسین مقامات پر۔
تصویر: Israr Syed
خوش گوار موسم اور فطری حسن
پاکستان کے شمالی علاقے فطری حسن کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ سطح سمندر سے کافی اونچائی کی وجہ سے ان علاقوں میں گرمیوں کے دوران موسم خوشگوار ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے ملک بھر سے لوگ ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔
تصویر: Israr Syed
جھیل سیف الملوک اور پریوں کی داستانیں
وادی کاغان کے شمالی حصے میں واقع جھیل سیف الملوک کسی عجوبے سے کم نہیں۔ سردیوں میں اس جھیل کا پانی مکمل طور پر جم جاتا ہے۔ سطح سمندر سے تقریباﹰ 3240 میٹر کی بلندی پر واقع یہ جھیل پریوں کی داستانوں کی وجہ سے مشہور ہے۔
تصویر: DW/Danish Babar
بڈاگئی اتڑور پاس
یہ بڈاگئی اتڑور پاس ہے جو سطح سمندر سے 11500 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہ پاس کالام اور کمراٹ ویلی کو آپس میں ملاتا ہے۔ اس کو بڈاگئی میڈوز بھی کہتے ہیں کیونکہ اس کے سرسبز وشاداب پہاڑ آپ کو قدرت کی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔ سردیوں میں برف کی وجہ سے یہ پاس بند ہو جاتا ہے اور صرف جون سے ستمبر تک یہ قابل استعمال ہے۔
تصویر: Shahzeb Baig
مہوڈنڈ جھیل
مہوڈنڈ جھیل کالام سے 40 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ایک خوبصورت قدرتی جھیل ہے۔ مہوڈنڈ جھیل تک کا سفر مکمل جیپ ٹریک ہے۔ اس جھیل کو ٹراؤٹ مچھلیوں کا گھر بھی کہا جاتا ہے۔
تصویر: Shahzeb Baig
خیبرپختونخوا کے لوگ
کہا جاتا ہے کہ خیبرپختونخوا کے لوگ بہت ملنسار اور مہمان نواز ہیں۔ یہ جہاں کہیں آپ کو راستے میں ملیں گے آپ کو کھانے اور چائے کی دعوت ضرور دیں گے۔ اگر آپ وہاں کی مقامی ثقافت کا خیال رکھیں گے تو یہ لوگ آپ کی حفاظت اپنی جان سے بڑھ کر کریں گے۔
تصویر: Shahzeb Baig
دیو مالائی حسن کی حامل وادئ ناران
پاکستان کے شمالی علاقے میں واقع ناران کی وادی دنیا بھر سے فطرت کے دلدادہ افراد کو اپنی جانب کھینچتی ہے۔ سیاح جب تیز و تند دریا اور آبشاروں سے گزرتے ہوئے ناران پہنچتے ہیں تو قدرتی مناظر کی خوبصورتی روح تک اتر جاتی ہے۔
تصویر: Israr Syed
بابو سر ٹاپ
درہ بابو سر یا بابو سر ٹاپ کاغان سے 150 کلومیٹر شمال میں ایک پہاڑی درہ ہے جو چیلاس کو شاہرہ قراقرم سے جوڑتا ہے۔ بابو سر ٹاپ تک خوبصورت آبشاریں، چشمے اور دریائے کنہار یہاں آنے والوں کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
تصویر: Israr Syed
مصر کیوں، موہنجو دڑو کیوں نہیں؟
جرمن ماہر آثار قدیمہ پروفیسر مائیکل یانزن چالیس سال سے زائد عرصے سے موہنجودڑو کے کھنڈرات پر تحقیق اور ان کے بچاﺅ میں لگے ہوئے ہیں۔ یانزن کا کہنا ہے کہ ساری دنیا مصر کے آثار قدیمہ کو تو جانتی ہے لیکن موہنجودڑو کو نہیں جانتی۔ اس صورتحال کو اب تبدیل ہونا چاہیے۔
تصویر: Getty Images/AFP/A. Hassan
چلم جوشٹ میلہ
کیلاش میں چلم جوشٹ میلے کے آخری روز قبیلے کے مرد اور خواتین ایک ساتھ رقص کرتے ہیں۔ موسیقی اور ناچنا ان کے مذہب کا حصہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کیلاش قبیلے کے صرف سات ہزار افراد باقی رہ گئے ہیں۔ یہ کلچر، مقامی لوگ اور ان کی رسومات آہستہ آہستہ معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔
تصویر: DW/M. Shah
روہتاس قلعہ، عالمی ثقافتی ورثے کی زبوں حالی
پاکستانی ضلع جہلم میں دینہ کے قریب تاریخی روہتاس قلعہ دہلی کے افغان حکمران شیر شاہ سوری نے سولہویں صدی میں تعمیر کرایا تھا۔ آج اس قلعے کی باقیات عالمی ثقافتی میراث کا حصہ ہیں۔
تصویر: DW/I. Jabeen
کھیوڑہ اور کوہستانِ نمک، ایک ارضیاتی عجوبہ
سالٹ رینج کا پہاڑی سلسلہ تحصیل پنڈ دادن خان کے شمال میں کھیوڑہ سے لے کر دریائے سندھ کے کنارے کالا باغ کے مقام تک پھیلا ہوا ہے۔ یہیں کھیوڑہ کے مقام پر خوردنی نمک کی وہ کان بھی ہے، جو دنیا کی دوسری سب سے بڑی کان ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/Omer Saleem
11 تصاویر1 | 11
اسلام آباد ہی کی ایک تیس سالہ رہائشی حوریا طارق نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''دو ہفتے پہلے ہم گیارہ دوستوں نے مل کر ٹور آپریٹر کے ذریعے ناران کاغان کا ایک ہفتے کا ٹور بنایا، جو بتیس ہزار روپے فی کس میں پڑا۔ اس میں گاڑی بمع پٹرول اور ڈرائیور، اس کے علاوہ اچھے ہوٹلوں کی بکنگ، مختلف سیاحتی مقامات کی سیر، سبھی کچھ شامل تھا لیکن کھانا پینا نہیں۔ یہ تجربہ بہت اچھا رہا۔ ہم نے خوب سیر کی۔ اب ہم سب دوست جلد ہی ملائشیا جانے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔‘‘
اشتہار
سستے ٹور پیکجز
بحریہ ٹاؤن کے رہائشی سبیل احمد بھی سیاحت کے شوقین ہیں۔ امریکہ، کینڈا، یورپ اور متحدہ عرب امارات کے سفر کر چکے ہیں۔ اپنے اسی شوق کو روزگار کا ذریعہ بنانے والے سبیل احمد اب سستے ٹور پیکجز بنا کر دینے کے ماہر ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''میں نے اپنی کمپنی اس لیے رجسٹر نہیں کرائی کہ ٹیکس اور کئی دیگر مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ خاصی تعداد میں لوگ مجھ سے سیاحتی پیکجز بنواتے ہیں، جو میں بہت کم شرح منافع پر بنا دیتا ہوں۔ زیادہ منافع تو بڑی بڑی سیاحتی کمپنیاں کماتی ہیں۔‘‘
سوات وادی میں سفید محل سیاحوں کے لیے جنت
04:36
سبیل احمد نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ وہ کسٹمر کی خواہش کے مطابق بہت سستا یا کافی مہنگا پیکج بنا کر دیتے ہیں، '' عموماﹰ کسٹمر کہتے ہیں کہ ان کے پاس دو لاکھ روپے فی کس تک ہیں، جس میں باہر کا کوئی ٹور بنا دوں۔ تو میں انہیں پانچ دن کا دبئی، تھائی لینڈ یا شرم الشیخ کا ٹور بنا دیتا ہوں۔ کچھ دیگر ممالک کا ایسا ہی ٹور ڈھائی لاکھ روپے تک میں ممکن ہوتا ہے۔ اس میں ڈالر کے قیمت بھی بہت اہم ہوتی ہے۔ اگر ڈالر مہنگا ہو تو ٹور بھی مہنگا، ورنہ سستا۔‘‘
راولپنڈی کی رہنے والی نمرہ خالد کہتی ہیں کہ ان کہ شادی ہوئی لیکن بچے نہ ہونے کی وجہ سے یہ شادی چل نہ سکی۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''مجھے گھومنے پھرنے کا بہت شوق ہے۔ امریکہ، کینیڈا دیکھنے کے بعد اب یورپ گھومنے کا ارادہ ہے۔ باوسائل ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے میں معاشی مشکلات کا شکار تو نہ ہوئی، لیکن اکیلے سفر کرنا مشکل ضرور ہے۔ خیر اب ٹور آپریٹرز کی وجہ سے بہت آسانی ہو گئی ہے۔ ادھر رقم جمع کروائیں، ادھر ویزا، ٹکٹ اور ہوٹل کی بکنگ سب کچھ ہو جاتا ہے۔‘‘
بہت پہلے بکنگ کم قیمت
کئی برس قبل مختلف فضائی کمپنیوں کے ساتھ منسلک رہنے والی شگفتہ اسد کہتی ہیں کہ پہلے جب انٹرنیٹ کی سہولت اتنی عام نہیں تھی، فضائی سفر زیادہ تر ای میلز اور فون کالز کے ذریعے بک کیے جاتے تھے۔ اب تو اگر کسی کے پاس دو چار ٹور آپریٹرز اور متعلقہ افراد کے رابطے ہوں، تو اس بزنس کو چلانا کوئی مشکل کام نہیں۔ کئی کمپنیوں کے ساتھ مل کر بہت اچھے سیاحتی پیکج بنائے جا سکتے ہیں اور وہ بنائے بھی جا رہے ہیں۔
جرمنی: برلن کے سیاحتی میلے میں سجا بلوچستان کا خصوصی پویلین
05:40
This browser does not support the video element.
شگفتہ اسد نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''چونکہ خواتین کے لیے تفریح کا سامان ہمارے ہاں قدرے کم ہے، تو میں خاص طور سے ان کے لیے سکردو، ہنزہ، گلگت اور کاغان ناران کے اسپیشل پیکجز آفر کرتی ہوں۔ ابھی حال ہی میں تیس خواتین ٹیچرز کے ایک گروپ کے لیے پندرہ ہزار فی کس پر ٹور بک کیا تھا، جبکہ انٹرنیشنل سیاحوں کے لیے یہی پیکج پانچ سو امریکی ڈالر فی کس کے حساب سے بنا کر دیا۔ بیرون ملک سفر کی خواہاں زیادہ تر خواتین آج کل فرانس، اٹلی، تھائی لینڈ، ملائشیا اور مصر کے لیے پیکجز طلب کرتی ہیں۔‘‘
شگفتہ اسد اب پاکستان سے دبئی شفٹ ہو چکی ہیں اور وہیں سے اپنا پرائیویٹ بزنس جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ باقی تمام چیزوں کی طرح اب سفر اور سیاحت بھی بہت مہنگے ہو چکے ہیں، لیکن انٹرنیشنل ٹور اگر کافی دیر پہلے ہی بک کروا لیے جائیں، تو قیمتیں کافی کم ہو جاتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک سیاحت کے خواہش مند پاکستانیوں کے لیے ویزے کی بکنگ جیسے کام کافی مشکل اور پیچیدہ مرحلہ ثابت ہوتے ہیں۔ پھر بھی پاکستانیوں کی بڑی تعداد اب تھائی لینڈ، مصر، متحدہ عرب امارات اور مختلف یورپی ممالک کے سیاحتی سفر کرنے لگی ہے۔