پاکستان، امریکی یرغمالی کا نیا ویڈیو پیغام
26 دسمبر 2013
واشنگٹن پوسٹ کی آج کی اشاعت کے مطابق وائن سٹین القاعدہ سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے قبضے میں ہے اور اگر یہ ویڈیو اصلی ہے تو پھر 2012ء کے بعد یہ وائن سٹین کے بقید حیات ہونے کی پہلی علامت ہو گی۔ اُنہیں پاکستانی شہر لاہور میں اُن کی رہائش گاہ سے اغوا کیا گیا تھا۔
یہ ویڈیو کسی گمنام ذریعے سے اُن بہت سے صحافیوں کو ای میل میں روانہ کی گئی ہے، جو افغانستان سے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ اس ویڈیو میں با رِیش وارن وائن سٹین کو گرے رنگ کا ٹریک سوٹ اور ٹوپی پہنے دیکھا جا سکتا ہے۔ پس منظر میں صرف تاریکی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ویڈیو کب تیار کی گئی۔ اس کے اوپر القاعدہ کے میڈیا یونٹ السحاب کا پیلے رنگ کا نشان دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی واضح نہیں ہے کہ پوسٹ کی گئی یہ ویڈیو وصول کب کی گئی۔
اس ویڈیو کے ساتھ ایک خط بھی ہے، جو غالباً وائن سٹین کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔ اس پر تین اکتوبر کی تاریخ ہے تاہم آیا یہ خط بھی اصلی ہے، یہ بات بھی غالباً یقین سے نہیں کہی جا سکتی۔ اس ویڈیو پیغام اور اس خط کے حوالے سے امریکی دفتر خارجہ کی ایک خاتون ترجمان کا کہنا یہ تھا کہ اس ویڈیو کے اصلی ہونے کے بارے میں جانچ پڑتال کا کام ابھی جاری ہے۔ ساتھ ہی ترجمان نے اغوا کنندگان پر زور دیا کہ وہ وائن سٹین کو رہا کر دیں۔
اپنے اِس پیغام میں وائن سٹین نے صدر باراک اوباما کی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ القاعدہ کے اُن عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کرے، جنہوں نے دو سال سے زائد عرصہ قبل اُسے پاکستان میں اغوا کر لیا تھا۔
72 سالہ وائن سٹین نے، جو ترقیاتی امور کے ماہر کے طور پر کام کرتے تھے، اوباما پر زور دیا ہے کہ وہ اُن کی رہائی کے لیے از سرِ نو کوششیں کریں اور اُن نامعلوم القاعدہ عسکریت پسندوں کو رہا کرنے پر غور کریں، جو امریکی حراست میں ہیں۔ وائن سٹین کے مطابق ایسا ہو جانے کی صورت میں اُن کے یرغمال کنندگان اُنہیں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ملنے کی اجازت دے دیں گے۔ وائن سٹین نے اس ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ وہ خود کو ’بہت ہی اکیلا اور فراموش کر دیا گیا‘ محسوس کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ اُنہیں دل کا عارضہ ہے اور ساتھ ساتھ دمے کی بھی شکایت ہے۔
اگر اس ویڈیو کا اصل ہونا ثابت ہو گیا تو اغوا ہو جانے کے بعد سے وائن سٹین کی طرف سے جاری کی گئی یہ تیسری اپیل ہو گی۔ وائن سٹین بین الاقوامی ترقی کی امریکی ایجنسی یو ایس ایڈ کی ایک کنٹریکٹر فرم جے ای آسٹن ایسوسی ایٹس کے لیے کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرتے تھے۔
اس سے پہلے وائن سٹین کا، جو ایک یہودی ہیں، آخری ویڈیو پیغام ستمبر 2012ء میں منظر عام پر آیا تھا، جس میں اُنہوں نے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے اپیل کی تھی کہ ’ایک یہودی ہونے کے ناتے‘ وہ اُن کی مدد کریں۔ اپنے تازہ پیغام میں وائن سٹین نے میڈیا پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اُن کے کیس کو اپنے ہاں جگہ دیتا رہے اور اُنہیں فراموش نہ کرے۔