1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان: انتخابات میں شریک سیاستدان خواتین

10 مئی 2013

گزشتہ چند برسوں سے پاکستانی سیاست میں نیا رجحان یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ خواتین سیاسی عمل میں سرگرم نظر آ رہی ہیں، حتیٰ کہ قدامت پسند قبائلی علاقوں میں بھی اب ایک خاتون بادام زری انتخابات میں امیدوار کے طور پر شریک ہے۔

تصویر: STR/AFP/Getty Images

پاکستانی میڈیا کے مطابق بادام زری گیارہ مئی کے انتخابات میں ایک آزاد امیدوار کی حیثیت سے شریک ہیں اور اپنے قبائلی علاقے باجوڑ کی نمائندگی کرنا چاہتی ہیں۔ افغان سرحد سے ملحقہ باجوڑ بد امنی کی لپیٹ میں ہے اور طالبان اور القاعدہ جنگجوؤں کی پناہ گاہ تصور کیا جاتا ہے۔ بادام زری کا یہ سفر خطرات سے بھرپور ہے۔ جس کا اندازہ پندرہ سالہ ملالہ یوسف زئی کی مثال سے لگایا جا سکتا ہے، جسے گزشتہ سال اسکول کے راستے میں گولی مار کر شدید زخمی کر دیا گیا تھا۔

خواتین کے کردار سے متعلق قدامت پسندانہ تصور

خاص طور پر شمال مغربی پاکستان میں زیادہ تر باشندے اِس بارے میں قدامت پسندانہ تصورات کے حامل ہیں کہ کسی معاشرے میں مرد و زن کو کیا کردار ادا کرنا چاہیے۔ وہاں خواتین زیادہ تر گھر کے اندر ہی رہتی ہیں اور صرف پردے میں ہی گھر سے باہر نکلتی ہیں۔ اُن میں سے صرف تین فیصد خواتین ہی پڑھ لکھ سکتی ہیں تاہم بادام زری اُن میں سے نہیں ہے لیکن پاکستانی قانون کی رُو سے اَن پڑھ ہونا امیدوار کے طور پر انتخابات میں شرکت کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔ ایک پریس کانفرنس میں انتخابات میں اپنی شرکت کا جواز بتاتے ہوئے زری نے کہا:’’میرے اس فیصلے سے نہ صرف خواتین کی عمومی حوصلہ افزائی ہو گی اور اُن کے مسائل پر توجہ مرکوز ہو گی بلکہ ہمارے معاشرے کے بارے میں پائے جانے والے غلط تاثر کو بھی دور کرنے میں مدد ملے گی۔‘‘

انتخابات میں امیدوار کے طور پر شرکت کی خواہاں خواتین پشاور میں الیکشن کمیشن کے سامنےتصویر: A. Majeed/AFP/Getty Images

اقتصادی فورم کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو برطانیہ یا امریکا کے مقابلے میں پاکستانی پارلیمان میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ سائنس اور ثقافت کی جرمن فاؤنڈیشن سے وابستہ کرسٹیان واگنر کے مطابق ’پاکستانی سیاست میں خواتین کا مسئلہ ویسے ہی حل طلب ہے، جیسے کہ کئی دیگر ملکوں میں بھی ہے‘۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران سیاست میں خواتین کی شرکت کے حوالے سے ایک مثبت رجحان نظر آ رہا ہے، جس سے سیاسی جماعتیں بھی فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ واگنر کے مطابق ’پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس چند ایک مضبوط خواتین امیدوار ہیں، جو رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں‘۔

پاکستانی کی قومی اسمبلی کی 342 نشستوں میں سے اصولاً 60 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔ جرمنی کی ہائنرش بوئل فاؤنڈیشن کے اسلام آباد دفتر کی انچارج خاتون بریٹا پیٹرسن کے مطابق ’پارلیمان میں تو خواتین کے لیے کوٹہ مخصوص ہے لیکن خود سیاسی جماعتوں کے اندر ایسا کوئی کوٹہ نہیں ہے‘۔ ڈوئچے ویلے سے باتیں کرتے ہوئے پیٹرسن نے کہا کہ ’اب حالات بدل رہے ہیں اور میرے خیال میں اس سے خواتین کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے‘۔

گزشتہ پانچ سال برسرِاقتدار رہنے والی حکومت نے بہت سے خواتین دوست قوانین متعارف کروائے۔ مزید برآں تمام سیاسی جماعتوں کی خواتین نے خواتین کا ایک پارلیمانی گروپ بھی تشکیل دیا، جہاں خواتین کی دلچسپی کے امور پر تبادلہء خیال کیا جاتا رہا ہے۔

مساوی حقوق کی منزل ابھی دور ہے

بریٹا پیٹرسن کے مطابق پاکستانی سیاست پر جاگیردارانہ چھاپ نظر آتی ہے اور پارلیمان پر چند ایک طاقتور اور دولت مند خاندانوں ہی کا غلبہ ہے۔ یہی بات پاکستانی سیاست میں موجود خواتین کے حوالے سے بھی کہی جا سکتی ہے۔

انتخابات میں پہلی مرتبہ ایک قبائلی خاتون کی بطور امیدوار شرکت تبدیلی کے عمل کا آغاز ہےتصویر: A. Majeed/AFP/Getty Images

ڈوئچے ویلے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے معروف پاکستانی تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے بتایا:’’قومی اسمبلی میں یا پھر بڑی سیاسی جماعتوں کے سرکردہ عہدوں پر موجود زیادہ تر خواتین کا تعلق طویل سیاسی روایات کے حامل خاندانوں سے ہے۔‘‘ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ چھوٹی جماعتوں میں بھی، جو متوسط طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں، اب زیادہ سے زیادہ خواتین نظر آنے لگی ہیں۔

ڈاکٹر رضوی کے مطابق تعلیم و تربیت کی کمی اور سماجی روایات خواتین کے سیاسی کیریئر کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ پاکستانی خواتین میں خواندگی کی شرح محض تقریباً چالیس فیصد بتائی جاتی ہے۔ اس کے باوجود گزشتہ برسوں کے دوران پاکستانی خواتین نے زبردست حوصلے سے کام لیا ہے۔ بریٹا پیٹرسن کے مطابق ’ان خواتین نے گزشتہ آئینی مدت میں ایک مسودہء قانون پیش کیا ہے، جس کا مقصد پارلیمنٹ میں خواتین کے کوٹے میں اضافہ کروانا ہے‘۔

درست سمت میں ایک قدم

ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کے مطابق پاکستان میں تبدیلی کا عمل سست رفتار لیکن مستقل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خواتین سیاست میں کافی زیادہ سرگرم ہیں اور قبائلی علاقوں سے کسی خاتون کا امیدوار کے طور پر سامنے آنا ایک حیران کن امر ہے۔ رضوی کے مطابق بادام زری ’انتخابات تو شاید نہ جیتیں لیکن اُنہوں نے ایک سگنل دے دیا ہے‘۔ اُن کے خیال میں امیدوار کے طور پر اس قبائلی خاتون کی انتخابات میں شرکت پاکستان میں تبدیلی کے آغاز کی علامت ہے۔

R.Baig/aa/ah

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں