1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان اور چین کا اقتصادی و تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق

رابعہ بگٹی روئٹرز
5 جنوری 2026

چینی وزیر خارجہ یانگ ژی نے بیجنگ میں اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان ’دوستی اور اسٹریٹیجک شراکت داری‘ کا اعادہ کیا گیا۔

پاکستان اور چین کا جھنڈا ایک ساتھ ایک ہی تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے۔
پاکستان اور چین کا جھنڈاتصویر: MAXPPP/dpa/picture alliance

گزشتہ روز ملاقات کے بعد جاری کیے گئے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ چین اور پاکستان اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے، ایک دوسرے کے فائدے کے لیے تعاون مضبوط کریں گے اور مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے قریبی سطح پر مل کر کام کرتے رہیں گے۔

پاکستان چین کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک ہے اور خطے میں تائیوان کی حیثیت، سنکیانگ، تبت، ہانگ کانگ اور بحیرہ جنوبی چین سمیت متعدد حساس معاملات پر بیجنگ کی سفارتی حمایت کرتا رہا ہے۔

اس کے بدلے میں بیجنگ نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے پراجیکٹ میں پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ پراجیکٹ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ تجارتی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کا ایک اہم حصہ ہے۔

تاہم حالیہ برسوں میں پاکستان میں سی پیک اور دیگر منصوبوں پر کام کرنے والے چینی شہریوں پر شدت پسند عناصر کے حملے اسلام آباد اور بیجینگ کے تعلقات میں کشیدگی کا ایک بڑا سبب بنے ہیں۔

چین اور پاکستان کے تعلقات مزید پیچیدہ تب ہوئے جب ایک سال قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ وائٹ ہاؤس آنے کے بعد امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی۔

تاہم اس ملاقات کے بعد دونوں ممالک نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ سی پیک کا ایک اپ گریڈڈ ورژن متعارف کرائیں گے، جس میں صنعت، زراعت اور مائننگ کے شعبوں میں تعاون پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جبکہ مالیاتی اور بینکاری شعبے میں اشتراک کو بھی تیز کیا جائے گا۔

پاکستان کے قدرتی وسائل پر چین اور امریکہ کی نظریں

08:22

This browser does not support the video element.

بیان کے مطابق بیجنگ نے چینی ورکرز اور منصوبوں کی سکیورٹی صورتحال بہتر بنانے کے لیے پاکستان کی جانب سے کیے گئے 'جامع اقدامات‘ کو بھی سراہا۔

دونوں ممالک نے افغانستان میں موجود تمام دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کے لیے کابل سے مزید ''واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات‘‘ کرنے پر بھی زور دیا۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

اسٹریٹیجک شراکت داری

پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے، جنہیں چین اپنا ''اسٹریٹیجک پارٹنر‘‘ تصور کرتا ہے اور دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔

تاہم 2025 میں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی گرمجوشی چین کے لیے سفارتی طور پر ایک پریشان کن بات ثابت ہوئی۔ تاہم اس حالیہ ملاقات کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے یہ ارادہ ظاہر کیا گیا کہ چین اور پاکستان اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے، ایک دوسرے کے فائدے کے لیے تعاون کو فروغ دیں گے اور مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے مستقبل میں بھی قریبی سطح پر مل کر کام کرتے رہیں گے۔

ادارت: امتیاز احمد

روئٹرز کے ساتھ

 

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں