پاکستان اور یورپی یونین کا جامع شراکت داری پر اتفاق
25 جون 2014
اس اجلاس میں پاکستان کی جانب سے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری جبکہ یورپی یونین کی ایکسٹرنل ایکسشن سروس کے چیف آپریٹنگ آفیسر ڈیوڈ سالیوان شریک ہوئے۔
اجلاس کے اختتام پر یورپی یونین کے وفد کے اسلام آباد میں قائم دفتر کی طرف سے منگل کی شام جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں اطراف سے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان قائم مضبوط تعلقات کو سراہا گیا۔ اجلاس میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان پانچ سالہ منصوبے کے نفاز پر زور دیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق یورپی یونین نےخوشحال،جمہوری اور محفوظ پاکستان کے لیے اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے جمہوریت، گڈ گورننس اور قانون کی حکمرانی کے لیے پاکستان کی مدد جاری رکھنے کا بھی اظہار کیا۔
دونوں جانب سے انسداد دہشت گردی، دفاع، تخفیف اسلحہ اور جوہری عدم پھیلاؤ کے لیے تعاون کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں پاکستان کو یورپی منڈیوں تک رسائی اور ترجیحی تجارت کے لیے جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کو خوش آئند قرار دیا گیا اور امید ظاہر کی گئی کہ اس سے پاکستانی برآمدات میں اضافے کے ساتھ ساتھ اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔
اجلاس میں یورپی یونین کے نمائندوں نے پاکستان کی جانب سے بعض اشیاء پر برآمدی ڈیوٹی ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
سابق ویزر خزانہ اور اقتصادی امور کے ماہر ڈاکٹر سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام کو یورپی یونین کا یہ مطالبہ جلد پورا کر دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا،
"برآمدی ڈیوٹی جو ہے وہ لگانے سے آپ کوئی مصنوعی فائدہ لیتے ہیں مسابقت کا تو وہ میرے خیال میں نہیں لینا چاہیے۔ کیونکہ اگر آپ مسابقت کر سکتے ہیں تو آپ کو برآمدات سے زیادہ مقامی مارکیٹ میں فائدہ ہو سکتا ہے۔ برآمد اسی وقت کی جاتی ہے جب آپ مقامی طور پر مقابلہ بازی نہیں کر سکتے اور اچھی قیمت پر مال باہر لے جارے ہیں"۔
ڈاکٹر سلمان شاہ کے مطابق پاکستان کے پاس ایک بہترین موقع ہے کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ تجارت کو فروغ دے سکے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس سکیم کے تحت پاکستان تین سالوں میں اپنے برانڈز بھی یورپ میں متعارف کرا سکتا ہے۔ ڈاکٹر سلمان شاہ کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے ساتھ تجارت کو مستحکم بنانے کے لیے قومی سطح پر کوششوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ اس وقت اشیاء کی رسد میں جو بڑی روکاوٹیں ہیں ان میں خاص طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹری جو پنجاب میں ہے اس پر بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ نے بہت گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور اگر انڈ سٹری کو ترجیح بنیادوں پر گیس اوربجلی فراہم کی جاتی ہے تو پھر اس میں دو اڑھائی ارب ڈالرز کا اضافہ کوئی بڑی بات نہیں ہے"۔
پاکستان نے مشترکہ کمشن کے اجلاس میں یورپی یونین کے نمائندوں کو جی ایس پی پلس سکیم سے منسلک ستائیس بین الاقوامی کنونشن نافذ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔
اس اجلاس میں پاکستانی حکومت کے اقتصادی اصلاحات کے پروگرام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے اور ٹیکسوں کے حصول کو وسعت دینے کی کوششوں کو سراہا گیا۔
دونوں جانب سے توانائی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے اور معلومات کے تبادلے کے لیے ڈائیلاگ شروع کرنے کی بھی حمایت کی گئی۔