پاکستان: فلم ’دھُرندھر‘ کے خلاف مقدمہ کرنے کی کوشش ناکام
24 دسمبر 2025
پولیس نے منگل کے روز کراچی کی ایک سیشن عدالت کو آگاہ کیا کہ بالی وڈ فلم ’دھُرندھر‘ کے ہدایت کار، پروڈیوسر اور اداکاروں کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی مبینہ بدنامی کے الزام میں فوجداری مقدمہ درج کرنا قانونی طور پر ممکن نہیں ہے کیونکہ درخواست گزار الزامات کی تصدیق میں ناکام رہا، اس لیے مقدمے کا اندراج بنتا ہی نہیں۔
پاکستانی میڈیا میں اس حوالے سے شائع ہونے والی خبروں کے مطابق پی پی پی کے ایک کارکن محمد عامر کھوسو نے بالی وڈ فلم 'دھُرندھر‘ کے ہدایت کار، پروڈیوسر اور دیگر عملے کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست دی تھی۔
درخواست کے جواب میں کراچی کے درخشاں تھانے کے ایس ایچ او نے عدالت کو بتایا کہ انکوائری کے دوران پولیس نے یہ پایا کہ تمام نامزد ملزمان بھارتی شہری ہیں اور پاکستان میں ان کی کوئی رہائشی، کاروباری یا قانونی موجودگی نہیں ہے۔
انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ، ''متنازع فلم بھارت میں ہی تیار، فلم بند اور ریلیز کی گئی، اور تمام مبینہ اقدامات پاکستان کی علاقائی حدود سے باہر انجام پائے۔ ایسا کوئی مواد یا ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے یہ ظاہر ہو کہ مذکورہ فلم پاکستان میں نمائش، ترسیل یا دستیابی میں آئی ہو۔‘‘
ایس ایچ او کے مطابق درخواست گزار یہ بھی ظاہر کرنے میں ناکام رہا کہ درخشاں تھانے کی حدود یا مجموعی طور پر پاکستان میں کسی قابلِ گرفت جرم کا ارتکاب ہوا ہو۔
پولیس نے موقف اختیار کیا کہ 'علاقائی دائرۂ اختیار اور قانونی تقاضوں کی عدم موجودگی میں ایف آئی آر کا اندراج نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی قانون کے تحت جائز۔‘
پی پی پی کو فلم پر کیوں اعتراض ہے؟
پی پی پی کے کارکن عامر کھوسو نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ فلم 'دھُرندھر‘ میں پارٹی کی ایک ریلی اور سابق چیئرپرسن پی پی پی بے نظیر بھٹو کی تصاویر بغیر اجازت دکھائی گئی ہیں۔
انہوں نے اپنے الزام میں مزید کہا تھا کہ فلم میں کراچی، خصوصاً لیاری کو دہشت گردی کا گڑھ بنا کر پیش کیا گیا ہے، جس سے پاکستان کی ساکھ کے ساتھ ساتھ پی پی پی کی شہرت کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
درخواست گزار نے پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کے بعد عدالت سے رجوع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم کے ٹریلر میں پی پی پی کو دہشت گردوں کا ہمدرد دکھایا گیا ہے اور لیاری کو "دہشت گردوں کا جنگی علاقہ" قرار دیا گیا ہے۔
عامر کھوسو کے مطابق ''یہ ایک اشتعال انگیز، گمراہ کن اور نقصان دہ عکاسی ہے جس سے ملک اور اس کے عوام کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے فلم کا آفیشل ٹریلر اور تشہیری مواد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دیکھا، جس میں بے نظیر بھٹو کی تصاویر کے ساتھ پی پی پی کے جھنڈے اور ریلی کے مناظر قانونی اجازت کے بغیر استعمال کیے گئے۔
درخواست گزار نے فلم کے ہدایت کار آدتیہ دھر، پروڈیوسرز لوکیش دھر اور جیوتی دیش پانڈے، نیز اداکار رنویر سنگھ، سنجے دت، اکشے کھنہ، آر مادھون، ارجن رامپال، سارا ارجن اور راکیش بینی کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کی استدعا کی تھی۔
انہوں نے سنیماٹوگرافر وکاس نولکھا، ایڈیٹر شِو کمار وی پانی کر اور دیگر نامعلوم عملے کے ارکان کو بھی درخواست میں نامزد کیا تھا۔
خیال رہے کہ 'دھُرندھر‘ پر خلیجی خطے کے چھ ممالک، بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات،میں مبینہ طور پر "پاکستان مخالف" مواد کے باعث فی الحال پابندی عائد ہے۔
ادارت: صلاح الدین زین