پاکستان: بجٹ کی نئی تاریخ سامنے آگئی
6 جون 2026
اسحاق ڈار، جو پاکستانی وزیر خارجہ بھی ہیں، کا بجٹ کی نئی تاریخ کے اعلان کے حوالے سے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سامنے آیا۔ حکومت نے بجٹ میں تاخیر کی کوئی باضابطہ وجہ بیان نہیں کی۔ پاکستان کی وزارت خزانہ نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا کوئی فوری جواب نہ دیا۔ پروگرام کے مطابق نیا وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش کیا جانا تھا۔
تاہم ذرائع کے مطابق اب بھی آئی ایم ایف کے ساتھ بعض مالی امور پر بات چیت جاری ہے، خصوصاً وہ مالی گنجائش، جس میں صوبوں کی جانب سے وفاقی اخراجات کے لیے کچھ فنڈز سے دستبردار ہونے سے متعلق معاملات شامل ہیں۔
پاکستان کو کافی عرصے سے مالی خسارے، بڑھتے ہوئے قرضوں اور کمزور ٹیکس نظام جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی مالیاتی اداروں خاص طور پر آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے بھی بجٹ پر بڑا اثر ڈالتے ہیں۔ اسی وجہ سے حکومت کو اکثر ایسے فیصلے کرنا پڑتے ہیں جو عوام میں مقبول نہیں ہوتے، جیسے نئے ٹیکس لگانا یا سبسڈی کم کرنا۔
واضح رہے کہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے اربوں کے بیل آؤٹ پروگرام میں شامل ہے، جس نے معیشت کو استحکام اور بحالی میں مدد دی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے بجٹ کا سب سے بڑا حصہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں خرچ ہوتا ہے۔ اس کے بعد سب سے زیادہ رقم دفاع کے لیے مختص کی جاتی ہے۔ پاکستان کا دفاعی بجٹ مالی سال 26 /2025 میں تقریباً 2550 ارب روپے تھا ، جو 2024/25 کے مقابلے میں تقریبا بیس فیصد زیادہ تھا۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس مرتبہ خطے کی صورتحال کے پیش نظر اس میں مزید اضافہ کر دیا جائے گا۔
پاکستان میں حکومت تقریباً ہر سال ہی وفاقی بجٹ کو معاشی کامیابی قرار دے کر یہ دعوے کرتی ہے کہ یہ ''عوام دوست‘‘ بجٹ ہے۔
ادارت: مقبول ملک