1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتپاکستان

پاکستان: بلوچستان میں سکیورٹی صورتحال مزید خراب

افسر اعوان ہارون جنجوعہ
4 فروری 2026

پاکستان کے معدنیات سے مالا مال صوبہ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں نے اسلام آباد کے لیے ایک سنگین چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ یہ صوبہ طویل عرصے سے علیحدگی پسند شورش کا شکار ہے۔

کوئٹہ میں 31 جنوری کو ہونے والے حملے کے بعد ایک ایمبولیس اور سکیورٹی اہلکار ایک سڑک پر موجود ہیں۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں نے اسلام آباد کے لیے ایک سنگین چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔تصویر: Asad/Xinhua/IMAGO

31 جنوری کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اسکولوں، بینکوں اور سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے بیک وقت مسلح حملوں اور خودکش دھماکوں میں 50 افراد ہلاک ہوئے، جن میں خواتین اور بچوں سمیت اکثریت عام شہریوں کی تھی۔

اٹلانٹک کونسل کے جنوبی ایشیا کے سینئر فیلو مائیکل کوگلمین کے مطابق، ان حملوں کی منظم نوعیت اور وسعت خطے کو درپیش بڑے سکیورٹی خطرات کو بے نقاب کرتی ہے۔ کوگلمین نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''یہ انتہائی سنگین اور اہم حملے ہیں۔ یہ بلوچستان میں کافی عرصے کے بعد سب سے زیادہ پرتشدد دن بھی تھا۔‘‘

برلن میں مقیم صحافی اور محقق سحر بلوچ نے بھی اسی رائے کا اظہار کیا۔ بلوچستان کے معاملات پر نظر رکھنے والی سحر بلوچ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''یہ اکا دکا چھوٹے واقعات نہیں ہیں۔ یہ پورے صوبے میں پھیلے ہوئے مربوط حملے ہیں، جو حالیہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ آپریشنل صلاحیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔‘‘

اسلام آباد کا بھارت پر بی ایل اے کی مدد کا الزام

پاکستانی سکیورٹی فورسز نے کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے ) کے ارکان کے خلاف مختلف علاقوں میں چھاپے مارے ہیں۔ حکام نے پیر کے روز بتایا کہ 177 بی ایل اے جنگجو مارے جا چکے ہیں۔صوبائی حکومت نے عوامی اجتماعات اور چہرہ ڈھانپ کر شناخت چھپانے پر بھی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

31 جنوری کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اسکولوں، بینکوں اور سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے بیک وقت مسلح حملوں اور خودکش دھماکوں میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔تصویر: Adnan Ahmed/AFP/Getty Images

پاکستان کا موقف ہے کہ بی ایل اے کو بھارت کی حمایت حاصل ہے، تاہم اس کے ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔ نئی دہلی نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ ان الزامات کے باوجود، دونوں ایٹمی حریفوں کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے، جن کے درمیان گزشتہ مئی میں دہائیوں کا بدترین مسلح تنازع دیکھا گیا تھا۔

مقامی شکایات اور بڑھتا ہوا تشدد

بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور غریب ترین صوبہ ہے۔ جنوبی ایشیا کے اس ملک کا یہ پہاڑی اور معدنیات سے مالا مال خطہ خشک صحرائی آب و ہوا رکھتا ہے اور یہاں کی آبادی بہت کم ہے۔ یہاں کی آبادی کا کہنا ہے کہ انہیں اسلام آباد کی مرکزی حکومت کی جانب سے امتیازی سلوک اور استحصال کا سامنا ہے۔

اس صورتحال نے علیحدگی پسند شورش کو ہوا دی ہے جس میں بلوچستان کے لیے زیادہ خود مختاری، یا مکمل آزادی اور قدرتی وسائل میں بڑے حصے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ حکام کئی دہائیوں سے ایسے مطالبات کو طاقت کے ذریعے دباتے آئے ہیں۔

بی ایل اے بلوچ علیحدگی پسند گروہوں میں سب سے مضبوط مسلح دھڑا ہے۔ بی ایل اے کے عسکریت پسند اکثر پاکستانی سکیورٹی فورسز اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو نشانہ بناتے ہیں، جو بیجنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سے منسلک اربوں ڈالر کا ایک منصوبہ ہے۔

امریکہ میں مقیم غیر منافع بخش ادارے ''آرمڈ کنفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا پراجیکٹ‘‘ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ گزشتہ پانچ سالوں میں بلوچ علیحدگی پسند تشدد میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ 2025ء کے دوران پرتشدد واقعات اور ہلاکتوں میں 60 فیصد اضافہ ہوا، جو اسے ریکارڈ پر سب سے مہلک سال بناتا ہے۔

کوگلمین کا کہنا ہے کہ بڑھتا ہوا تشدد زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ بلوچستان پہلے ہی ایک انتہائی عسکری علاقہ ہے۔ انہوں نے زور دیا، ''پاکستان کی فوج وہاں بہت گہرائی تک موجود ہے، اور میرا ماننا ہے کہ ان حملوں کی وسعت اور مہارت پاکستان کی جانب سے انٹیلی جنس کی ایک بڑی ناکامی کی نشاندہی کرتی ہے۔‘‘

بی ایل اے کی 'اپنا وجود برقرار رکھنے کی صلاحیت‘

سحر بلوچ کا کہنا ہے کہ بی ایل اے مقامی سطح پر ایک سنگین خطرہ ہے جس کے پاس بڑے پیمانے پر حملے کرنے کی آپریشنل صلاحیت موجود ہے۔ گروپ نے دکھایا ہے کہ وہ پورے صوبے میں بیک وقت حملے کر سکتا ہے، جس سے فوجی اور سویلین دونوں کا جانی نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا: ''اصل خطرہ اس کی برقرار رہنے، شکایات کا فائدہ اٹھانے اور تشدد کے اس چکر کو جاری رکھنے کی صلاحیت میں ہے جو وسائل کو ختم کرتا ہے اور استحکام کو نقصان پہنچاتا ہے۔‘‘

بلوچستان میں کئی مقامات پر عسکریت پسندوں کے حملے

01:23

This browser does not support the video element.

تاہم، انہوں نے یہ بھی اشارہ کیا کہ جوابی کارروائیوں میں بڑی تعداد میں عسکریت پسندوں کی ہلاکت یہ ظاہر کرتی ہے کہ ''پاکستان کی سکیورٹی فورسز اب بھی بڑا نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہیںِ۔‘‘

مذاکرات کا ایک موقع؟

کوگلمین نے کہا کہ پاکستان نے اب تک فوجی ذرائع سے بلوچ شورش کو ختم کرنے کا راستہ اپنایا ہے، لیکن یہ کارگر ثابت نہیں ہوا۔ ان کا استدلال تھا کہ اسلام آباد کو اس کے بجائے مذاکرات کرنے چاہییں اور بنیادی شکایات کو حل کرنا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا، ''ان دیرینہ اور گہری شکایات نے ہی گزشتہ چند سالوں میں عسکریت پسندوں کے لیے بھرتیوں میں اضافے میں مدد دی ہے۔ میرے خیال میں اس مسئلے کو مذاکرات سے حل کیا جا سکتا ہے، جس میں ریاست کے نمائندے عسکریت پسندوں سے نہیں بلکہ مقامی برادریوں سے ان کے دکھ سنیں اور کسی سیاسی حل تک پہنچنے کی کوشش کریں۔‘‘

ہارون جنجوعہ

ادارت: جاوید اختر

 

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں