1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان: ریڑھ کی ہڈیوں کا پانی نکالنے والا گروہ پکڑا گیا

شمشیر حیدر اے ایف پی
13 فروری 2018

پاکستانی پولیس نے انسانی جانوں سے کھیلنے والے ایک ایسے گروہ کو گرفتار کر لیا ہے جو مریضوں کو دھوکا دے کر ان کی ریڑھ کی ہڈیوں سے پانی نکال لیتا تھا۔

Wellcome Image Awards Developing spinal cord
تصویر: Gabriel Galea/University College London

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی اسلام آباد سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق پاکستانی حکام نے مریضوں کو دھوکا دے کر ان کی ریڑھ کی ہڈی کا پانی نکال لینے والے اس جرائم پیشہ گروہ کے پانچ ارکان کو پاکستانی صوبہ پنجاب کے ضلع حافظ آباد سے گرفتار کیا ہے۔ پاکستان میں انسانی جانوں سے کھیلتے ہوئے دھوکے سے مریضوں کے اعضا چوری کر کے طب کی مقامی بلیک مارکیٹ میں فروخت کیے جانے کے ایسے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں۔

پاکستانی علماء نے فتوے پر افغان صدر کے اعتراضات مسترد کر دیے

پاکستان میں ذیابیطس کے سات ملین سے زائد مریض

پولیس کے مطابق اس گروہ کے مشتبہ ارکان کی گرفتاری ان کا نشانہ بننے والی ایک خاتون کے رشتہ دار کی جانب سے دی گئی اطلاع کے بعد عمل میں آئی۔ جرائم پیشہ گروہ کے یہ ارکان اپنے متاثرین کو مفت جہیز دینے کا لالچ دے کر انہیں بتاتے تھے کہ اس پروگرام میں شرکت کے بعد مفت جہیز کی فراہمی اس عمل سے گزارے جانے سے مشروط ہے۔

بعد ازاں انسانوں کی ریڑھ کی ہڈیوں سے نکالا گیا یہ مائع طب کی مقامی بلیک مارکیٹ میں فروخت کر دیا جاتا تھا جسے ’بون میرو ٹرانسپلانٹ‘ کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ آباد پولیس کے تفتیشی افسر عبدالمجید کا کہنا تھا، ’’گرفتار کیے گئے افراد نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اس علاقے میں کم از کم دس خواتین کی ریڑھ کی ہڈیوں سے مائع نکالا جسے مقامی سرکاری ہسپتال میں کام کرنے والے ایک خاکروب کو فروخت کر دیا گیا۔ اس شخص کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔‘‘

محمد عمران نامی ایک اور پولیس اہلکار نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ اس ضمن میں تفتیشی عمل جاری ہے۔

ایک مقامی اخبار روزنامہ جنگ نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس گروہ نے کم از کم نوے خواتین کی ریڑھ کی ہڈیوں سے پانی نکالا جن میں سے کئی مفلوج ہو چکی ہیں۔

پاکستان گردوں کے ٹرانسپلانٹ کے غیر قانونی کاروبار کے حوالے سے بدنام ہے اور کئی غیر ملکی ایسے علاج کے لیے پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔ گزشتہ برس پاکستانی حکام نے دو عمانی باشندوں کا غیر قانونی ’کڈنی ٹرانسپلانٹ‘ آپریشن کرنے کے الزام میں طب سے وابستہ جرائم پیشہ گروہ کے کچھ ارکان کو گرفتار کیا تھا۔

پاکستانی قوانین کے مطابق انسانی اعضا کی خرید و فروخت پر پابندی عائد ہے اور علاج کے لیے مریض کے قریبی رشتہ دار ہی اعضا کا عطیہ کر سکتے ہیں۔

کراچی ميں گٹکے اور مين پوری کی وجہ سے بڑھتے ہوئے طبی مسائل

کسان آلودہ پانی سے سبزیاں کاشت کرنے پر مجبور

02:45

This browser does not support the video element.

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں