1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان میں ایچ آئی وی کا بحران، پھیلاؤ روکنے میں ناکامی

کشور مصطفیٰ اے ایف پی، ڈی پی اے، مقامی میڈیا | ادارت | عاصم سلیم
1 دسمبر 2025

پاکستان میں انجیکشن کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والے، ہم جنس پرست مرد، قیدی، ٹزانسجنڈر اور خواتین جنسی کارکنان پر مشتمل گروہوں میں ایچ آئی وی پھيلنے کا خطرہ زیادہ پایا جاتا ہے۔

پاکستانی خواجہ سرا شمعیں روشن کر رہے ہیں۔
پاکستانی خواجہ سرا عالمی ایڈز ڈے کے موقع پر کراچی میں ریلی کے دوران شمعیں روشن کر رہے ہیں۔تصویر: AP

پاکستان  گزشتہ دو دہائیوں میں کئی ایچ آئی وی وباؤں کا مرکز رہا ہے ، جن میں 2018 ء سے اب تک چار بڑی وبائیں ریکارڈ کی گئیں۔ حالیہ برسوں میں ایچ آئی وی انفیکشنز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انجیکشن کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والے افراد، ہم جنس پرست مرد، قیدی،  ٹرانسجنڈر اور خواتین جنسی کارکنان زیادہ خطرے  سے دوچار ہیں ان وباؤں کے بنیادی اسباب میں شامل ہیں: انفیکشن کنٹرول کے ناقص طریقے، غیر منظم اور غیر محفوظ خون کی منتقلی، صحت کے شعبے میں اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی، عوامی سطح پر آگاہی کی شدید کمی اور غیر تربیت یافتہ طبی عملے کی موجودگی۔

پاکستان: ’ایچ آئی وی سے زیادہ، لوگوں کے رویے تکلیف دہ‘

04:52

This browser does not support the video element.

 

یہ انتظامی مسائل وائرس کو کلیدی گروہوں سے آگے پھیلنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں، جو عوامی صحت کا ایک سنگین چیلنج ہے۔ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو مؤثر اور پائیدار طریقے سے روکنے  کے لیے جارحانہ اور کثیر سطحی اقدامات درکار ہیں۔ ان اقدامات میں نہ صرف ٹیسٹنگ، ٹریسنگ اور علاج کی صلاحیت بڑھانا شامل ہونا چاہیے بلکہ بنیادی سماجی و انفراسٹرکچر سے جڑے مسائل کو بھی حل کرنا ہو گا، جنہیں اب تک نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔

2013۔ عالمی ایڈز ڈے ہر سال یکم دسمبر کو منایا جاتا ہے تاکہ ایچ آئی وی/ایڈز کے بارے میں آگاہی پیدا کی جا سکے اور وبا کے مقابلے میں بین الاقوامی یکجہتی کا مظاہرہ کیا جا سکے۔تصویر: Asif Hassan/AFP/Getty Images

عالمی صورتحال کيا ہے؟

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق سن 2024 میں دنیا بھر میں تقریباً 13 لاکھ افراد ہيومن امیونو ڈیفیشنسی وائرس (ایچ آئی وی) سے متاثر ہوئے، جس کا اگر علاج نہ کیا جائے، تو ایڈز کا سبب بن سکتا ہے۔

2024ء کے اختتام تک دنیا بھر میں 4 کروڑ 8 لاکھ افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے، جن میں سے تین چوتھائی سے زیادہ کو وائرس سے لڑنے کے لیے ادویات دستیاب تھیں۔ تقریباً 6 لاکھ 30 ہزار افراد ایڈز سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث ہلاک ہوئے۔

یورپ کے بارے میں دلچسپ حقائق

ایک تحقیق کے مطابق یورپ میںایچ آئی وی انفیکشن کی تشخیص اکثر بہت دیر سے ہوتی ہے اور علاج بھی تاخیر سے شروع ہوتا ہے۔ یورپ میں سن 2024 میں 54 فیصد نئے ایچ آئی وی کیسز کی تشخیص اس وقت ہوئی جب علاج کی گنجائش نہ بچی۔

خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے یونیسف کے تعاون سے عالمی ایڈز ڈے 2024 کی تقریبات کے حصے کے طور پر ایک مقامی ہوٹل میں ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کے لیے عشائیے کا اہتمام کیا۔تصویر: Faridullah Khan/DW

 

بیماریوں کی روک تھام اور کنٹرول کے یورپی مرکز (ECDC) اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کے یورپی دفتر کی مشترکہ رپورٹ عالمی ایڈز ڈے کے موقع پر پیر کو شائع کی گئی۔ ایچ آئی وی  کے بڑھتے ہوئے غیر تشخیص شدہ کیسز 2030 تک ایڈز کو عوامی صحت کے خطرے کے طور پر ختم کرنے کے ہدف کے حصول میں بھی مشکلات پیدا کر  رہے ہیں۔ اسٹاک ہوم میں قائم ECDC اور کوپن ہیگن میں قائم WHO یورپ نے اس بارے میں خبردار کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2024ء میں WHO یورپ کے خطے میں تقریباً 106,000 نئے ایچ آئی وی کیسز کی تشخیص ہوئی۔ ڈبليو  ايچ او کے اس خطے میں کل 53 ممالک شامل ہیں جو یورپی یونین سے آگے وسطی ایشیا تک پھیلے ہوئے ہیں۔

 

 

 

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں