چند روز پہلے ہونے والے جوہر ٹاؤن دھماکےکے فورا بعد غیر رسمی طور پر میڈیا کے لوگوں کو بتایا گیا کہ یہ دھماکہ گیس سلنڈر پھٹنے کی وجہ سے ہوا ہے، پھر سنا گیا کہ گیس پائپ لائن پھٹ گئی ہے۔
جناح ہسپتال کی انتظامیہ کی طرف سے جب یہ اعلان سامنے آیا کہ ہسپتال لائے جانے والے زخمی افراد کے زخموں سے لوہے کے ذرات ملے ہیں ، پھر جا کر سرکار کی طرف سے یہ معلوم ہوا کہ یہ 'سلنڈر دھماکا‘ دراصل دہشت گردی کی ایک واردات تھا۔
لاہور کے علاقے نیو گارڈن ٹاؤن کی معروف برکت مارکیٹ میں ہونے والے گیارہ دھماکوں کو بھی ابھی تک ایک حادثہ ہی قرار دیا گیا ہے۔ لیکن عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تفصیلی چھان بین ہونی جانی چاہیے۔ کیونکہ ملک آج کل جس قسم کے حالات سے گزر رہا ہے ان میں دہشت گردانہ وارداتوں کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سلنڈر کیوں پھٹ رہے ہیں؟
پاکستان میں سلنڈر کیوں پھٹتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں پاکستان ایل پی جی انڈسٹری ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا کہ پاکستان میں گیس سلنڈر غیر معیاری ہونے کی وجہ سے پھٹتے ہیں۔
ان کے بقول اوگرا نے سلنڈر بنانے کے لیے جن کمپنیوں کو لائسنس جاری کیے ہوئے ہیں وہ بھی مستند عالمی معیارات اور ایس او پیز کو نظر انداز کرکے غیر معیاری سلنڈر بنا رہی ہیں اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔
پنجاب کا شہر گوجرانوالا ایسے سلنڈروں کو بنانے والی فیکٹریوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔
سن 2019 کے ’گلوبل ٹیررازم انڈیکس‘ کے مطابق گزشتہ برس پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد سن 2013 کے مقابلے میں 81 فیصد کم رہی۔ اس انڈیکس کے مطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ دہشت گردی کے شکار ممالک یہ رہے۔
تصویر: Reuters/E. Suدنیا بھر میں دہشت گردی سے متاثر ممالک میں افغانستان اس برس سر فہرست رہا۔ سن 2018 کے دوران افغانستان میں 1443 دہشت گردانہ واقعات ہوئے جن میں 7379 افراد ہلاک اور ساڑھے چھ ہزار افراد زخمی ہوئے۔ 83 فیصد ہلاکتیں طالبان کے کیے گئے حملوں کے سبب ہوئیں۔ طالبان نے پولیس، عام شہریوں اور حکومتی دفاتر کو نشانہ بنایا۔ داعش خراسان کی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا۔ افغانستان کا جی ٹی آئی اسکور 9.60 رہا۔
تصویر: Getty Images/AFP/S. Maraiعراق دہشت گردی کے شکار ممالک کی فہرست مسلسل تیرہ برس سے سر فہرست رہنے کے بعد دوسرے نمبر پر آیا۔ رواں برس کے گلوبل ٹیررازم انڈیکس کے مطابق 2018ء کے دوران عراق میں دہشت گردی کے 1131 واقعات پیش آئے جو اس سے گزشتہ برس کے مقابلے میں 57 فیصد کم ہیں۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں ہلاکتوں میں 75 فیصد کمی دیکھی گئی۔ دہشت گرد تنظیم داعش نے سب سے زیادہ دہشت گردانہ کارروائیاں کیں۔ عراق کا جی ٹی آئی اسکور 9.24 رہا۔
تصویر: picture-alliance/APدہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں جی ٹی آئی اسکور 8.59 کے ساتھ نائجیریا تیسرے نمبر پر ہے۔ اس افریقی ملک میں 562 دہشت گردانہ حملوں میں دو ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 772 زخمی ہوئے۔ سن 2001 سے اب تک نائجیریا میں 22 ہزار سے زائد افراد دہشت گردی کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔
تصویر: Reuters/Stringerجی ٹی آئی انڈیکس کے مطابق خانہ جنگی کا شکار ملک شام دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔ شام میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں زیادہ تر داعش، حیات تحریر الشام اور کردستان ورکرز پارٹی کے شدت پسند ملوث تھے۔ شام میں سن 2018 کے دوران دہشت گردی کے 131 واقعات رونما ہوئے جن میں 662 انسان ہلاک جب کہ سات سو سے زائد زخمی ہوئے۔ جی ٹی آئی انڈیکس میں شام کا اسکور 8.0 رہا۔
تصویر: Getty Images/AFPپاکستان اس فہرست میں پانچویں نمبر پر ہے جہاں گزشتہ برس 366 دہشت گردانہ واقعات میں 537 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ گزشتہ برس دہشت گردی کی زیادہ تر کارروائیاں داعش خراسان اور تحریک طالبان پاکستان نے کیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے باعث ہلاکتوں کی تعداد سن 2013 کے مقابلے میں 81 فیصد کم رہی۔
تصویر: Getty Images/AFP/A. Hassan
دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں صومالیہ چھٹے نمبر پر رہا جہاں الشباب تنظیم سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے نوے فیصد سے زائد حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ صومالیہ میں دہشت گردی کے 286 واقعات ریکارڈ کیے گئے جن میں 646 افراد ہلاک ہوئے۔ جی ٹی آئی انڈیکس میں شام کا اسکور 7.8 رہا۔
تصویر: picture alliance/dpa/AAS. Mohamed
اس برس کے عالمی انڈیکس میں بھارت آٹھویں سے ساتویں نمبر پر آ گیا۔ بھارت میں دہشت گردی کے قریب ساڑھے سات سو واقعات میں 350 افراد ہلاک جب کہ 540 زخمی ہوئے۔ بھارت کے مشرقی حصے میں ہونے والی زیادہ تر دہشت گردانہ کارروائیاں ماؤ نواز باغیوں نے کیں۔ 2018ء کے دوران کشمیر میں 321 دہشت گردانہ حملوں میں 123 افراد ہلاک ہوئے۔ کشمیر میں دہشت گردانہ حملے حزب المجاہدین، جیش محمد اور لشکر طیبہ نے کیے۔
تصویر: Getty Images/AFP/N. Seelamیمن میں متحارب گروہوں اور سعودی قیادت میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے علاوہ اس ملک کو دہشت گردانہ حملوں کا بھی سامنا ہے۔ مجموعی طور پر دہشت گردی کے 227 واقعات میں 301 افراد ہلاک ہوئے۔ دہشت گردی کے ان واقعات میں حوثی شدت پسندوں کے علاوہ القاعدہ کی شاخ AQAP کے دہشت گرد ملوث تھے۔ تاہم سن 2015 کے مقابلے میں یمن میں دہشت گردی باعث ہلاکتوں کی تعداد 81 فیصد کم رہی۔
تصویر: Reuters/F. Salmanفلپائن نویں نمبر پر رہا جہاں سن 2018 کے دوران دہشت گردی کے 424 واقعات پیش آئے جن میں قریب تین سو شہری مارے گئے۔ سن 2001 سے اب تک فلپائن میں تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ رواں برس جی ٹی آئی انڈیکس میں فلپائن کا اسکور 7.14 رہا۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/A. Favilaتازہ انڈیکس میں دسویں نمبر پر جمہوریہ کانگو رہا جہاں الائیڈ ڈیموکریٹک فورسز اور دیگر گروہوں کے دہشت گردانہ حملوں میں اٹھارہ فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا۔ ان گروہوں کے حملوں میں زیادہ تر عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔
تصویر: DW/J. Kanyunyu ان کے بقول پاکستان میں زیر استعمال زیادہ تر سلنڈر غیر معیاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ہر روز سلنڈر پھٹنے کے اوسطا دو واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ ان واقعات میں اوسطا چار سے چھہ افراد ہلاک یا زخمی ہو رہے ہیں۔
یاد رہے ایل پی جی گیس سلنڈر پاکستان میں گھروں، رکشوں اور ریسٹورانٹس میں بڑی تعداد میں استعمال ہو رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں عرفان کھوکھر نے بتایا کہ معیاری سلنڈر دھوپ، ٹھوکر اور بعض اوقات آگ سے بھی نہیں پھٹتا۔ دوسری طرف غیر معیاری سلنڈر ذرا سی بے احتیاطی سے پھٹ سکتا ہے کوئی شخص سگریٹ بغیر بھجائے سلنڈر کے پاس پھینک دے تو اس سے بھی حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا، '' میں نے متعدد بار وزیراعلی پنجاب کو اس مسئلے سے آگاہ کرنے کے لیے وقت مانگا ہے لیکن یوں معلوم ہوتا کہ کہ ان حادثات کو روکنا حکومت کی ترجیحات میں ہی شامل نہیں۔ ‘‘
آپریشن شروع
سلنڈر کے تازہ دھماکوں کے بعد لاہور میں ایل پی جی گیس سلنڈروں کے خلاف ایک بڑا آپرہیشن شروع کر دیا گیا ہے اورگیس سلنڈر بیچنے والی زیادہ تر دوکانیں بند کر دی گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق پولیس کے خوف سے سلنڈر بیچنے کا کام اگر خفیہ طور پر گھروں میں منتقل ہو گیا تو یہ مزید خطرناک ہو گا۔
ایک دفاعی تجزیہ نگار برگیڈئیر (ر) فارووق حمید خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ پاکستان کے تحقیقاتی ادارے اور متعلقہ ایجنسیاں گیس سلنڈر کے تازہ دھماکوں کے پیچھے چھپے دہشت گردی کے خدشات کی چھان بین کر رہی ہوں گی، ''جب سے پاکستان نے امریکا کو اڈے دینے سے انکار کیا ہے، تب سے دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی آ گئی ہے۔ ‘‘
فاروق حمید کا کہنا ہے کہ جوہر ٹاؤن بم دھماکوں کا ملزم ڈیوڈ پال یو اے ای کی جیل سے رہائی پا کر پاکستان آیا تھا۔ ان کے بقول جب سے اسرائیل اور یو اے ای کے تعلقات میں قربت آئی ہے۔ ایک پاکستانی کے طور پر مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یو اے ای پاکستان کے خلاف کارروائیوں کا نیا مرکز نہ بن جائے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکا کو اڈے دے کر ایران، چین، اور روس کو ناراض کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا،''اسے افغانستان سے ردعمل کا بھی خوف لاحق ہے۔ اس لیے عمران حکومت نے فوجی اڈوں کے معاملے پر جو اصولی موقف اپنایا ہے۔ اس کی قیمت پاکستان کو چکانی پڑ سکتی ہے، کئی سلیپنگ سیلز ایکٹو ہو سکتے ہیں، آئی ایم ایف کی شرائط مزید کڑی ہو سکتی ہیں، ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی مشکلات مزید بڑھائی جا سکتی ہیں اور بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کو درست اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔‘‘