1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان میں مشترکہ مفادات کی کونسل سیاسی مفادات کے نرغے میں

17 اکتوبر 2021

پاکستان میں صوبوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے اور اختلافات کو دور کرنے کا سب سے بڑا سیاسی فورم ’مشترکہ مفادات کی کونسل‘ اپنے کئی اہم فیصلوں پرعملدرآمد میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔

Pakistan Islamabad Senat
تصویر: Imago/Xinhua

 

اس کونسل میں موجود پاکستان میں عوامی اہمیت کے ایک درجن سے زائد کیسز ایسے ہیں جو صوبوں کی عدم دلچسپی، بیوروکریسی کے گریز اور سیاسی وجوہات کی بنا پر کئی برسوں سے التوا میں پڑے ہوئے ہیں۔ اس بات کا انکشاف سینٹ کی کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کو جمع کروائی جانے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ بین الصوبائی رابطوں کی سینٹ کی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رضا ربانی نے سینیٹر رانا مقبول احمد کی سربراہی میں ایک تین رکنی ذیلی کمیٹی تشکیل دی تھی جسے مشترکہ مفادات کی کونسل کے فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی چھان بین کرنے اور اصلاح احوال کے لیے تجاویز دینے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے بزرگ شہریوں کے لیے مراعات کا کیس دو ہزار اٹھارہ سے مشترکہ مفادات کی کونسل میں زیر التوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کونسل آف کامن انٹریسٹ کے معاملات کی چھان بین کرنے والی ذیلی کمیٹی کو بتایا گیا کہ انسانی حقوق کی وزارت نے اس پر کام کرنا تھا لیکن ابھی تک اس ضمن میں کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ کمیٹی نے اس صورتحال کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے دو ہفتوں میں متعلقہ وزارت سے رپورٹ طلب کرنے کی سفارش کی ہے۔

اسی طرح قومی پالیسی برائے بین المذاہب ہم آہنگی کا کیس بھی مشترکہ مفادات کی کونسل کے پاس دو ہزار اٹھارہ سے زیر التوا ہے، کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ وفاقی وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے اس ضمن میں پالیسی کا نیا نظر ثانی شدہ مسودہ کونسل کو جمع کرانا تھا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ کمیٹی نے متعلقہ وزارت سے اس بارے میں دو ہفتوں میں جواب طلب کرنے کی سفارش کی ہے۔

سینئر سیاستدان اور غیر اخلاقی ویڈیو، سیاسی حلقوں میں ہلچل

اسی طرح سب کمیٹی کو بتایا گیا کہ وفاقی اداروں میں صوبائی نمائندگی کا کیس دو ہزار بارہ سے عملدرآمد کا منتظر ہے۔ کمیٹی کی رپورٹ کے بقول مشترکہ مفادات کی کونسل کے فیصلے کے مطابق اس حوالے سے کونسل کے سیکریٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی جانی تھی جس نے تین ہفتوں میں اپنی رپورٹ پیش کرنا تھی لیکن نو سال گذر جانے کے بعد نہ تو اس کمیٹی کی کوئی کارکردگی سامنے آئی ہے اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی رپورٹ پیش کی گئی ہے۔

اٹھارہ سو اٹھانوے کے کوڈ آف کرمنل پروسیجر میں ترامیم  کا کیس بھی گذشتہ سات سالوں سے زیر التوا ہے۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں وزارت قانون اور وزارت داخلہ سے چار ہفتوں کے اندر جواب طلب کرنے کی سفارش کی ہے۔

ایل این جی گیس کی درآمد کے حوالے سے پاکستان کے آئین کے آرٹیکل ایک سو اٹھاون  اور آرٹیکل ایک سو بہتر پر عمل درآمد کا معاملہ بھی مشترکہ مفادات کی کونسل کے سامنے زیر التوا ہے۔ سب کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس ضمن میں وفاقی وزارت پٹرولیم نے ایک رپورٹ پیش کرنا تھی لیکن اس حوالے سے وفاقی وزارت توانائی کی ایک کمیٹی ابھی اس ایشو پر کام کر رہی ہے۔ سینٹ کمیٹی نے متعلقہ وزارت سے جواب طلب کرنے اور ذمہ دار عناصر کا تعین کرنے کی سفارش کی ہے۔

مشترکہ مفادات کی کونسل میں انیس سو اکانوے کے پانی کے معاہدے کے ضمن میں اٹارنی جنرل کی سفارشات کا کیس بھی زیر التوا ہے ۔ اس ضمن میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ سابق اٹارنی جنرل نے اس ایشو کو حل کرنا تھا لیکن اس معاملے کی سیاسی نوعیت کے پیش نظر انہوں نے اس معاملے کو تازہ رہنمائی کے لیے دوبارہ مشترکہ مفادات کی کونسل کے سامنے پیش کرنے کی سفارش کی تھی۔ اس پر سینٹ کی ذیلی کمیٹی نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے اس صورتحال کا نوٹس لے کر متعلقہ افراد سے جواب طلبی کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

پاکستان کا ’تھرتھلی مچا‘ دینے والا سیاست دان!

کراچی شہر کو بارہ سو کیوسک اضافی پانی کی فراہمی کے معاملے کو تین ہفتوں میں حل ہونا تھا لیکن یہ مسئلہ  تین سال گذرنے کے بعد بھی حل نہیں ہوسکا۔ کمیٹی نے اس معاملے کی سمری وزیر اعظم پاکستان ، وزیر اعلٰی سندھ اور دیگر متعلقہ افراد کو بھجوانے کی سفارش کی ہے۔

اسی طرح گوادر بلوچستان کے توانائی کے مسائل ، قاضی کمیٹی کی میتھڈالوجی پر عمل درآمد، مشترکہ مفادات کی کونسل کے لیے الگ سیکرٹیریئٹ کے قیام ، چشمہ رائیٹ بنک کینال سے پانی کا پورا حصہ پنجاب کو دینے، نیشل کمیشن فار ہیومن ڈیویلپمنٹ کے مستقبل اور اس کے کام کے طریقہ کارکے حوالے سے بھی کیسز التوا کا شکار ہیں۔

تین رکنی ذیلی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر رانا مقبول احمد نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کی کونسل کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے  تمام حل طلب معاملات کی ترجیحات طے کرنے کی سفارش کی ہے اور کہا ہے کہ کونسل کے فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے مؤثر فالو اپ ضروری ہے اس لیے کونسل کا الگ سیکرٹیریئٹ قائم کرنے اور الگ سیکریٹری و مطلوبہ اسٹاف تعینات کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔

سینیٹر رانا مقبول احمد کے مطابق ان کی کمیٹی نے مشترکہ مفادات کی کونسل کے فیصلوں پر عمل درآمد میں تاخیر کی وجوہات جاننے کے لیے کونسل کے ممبران کو بلانے کی تجویز بھی دی ہے اور کہا ہے کہ اس ضمن میں سینٹ کے چیئرمین کی طرف سے وزیر اعظم پاکستان اور تمام وزرائے اعلی کو خط بھی لکھا جانا چاہیے۔ ایک سوال  کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹ اب سینٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کو جمع کروا دی گئی ہے۔ اگلے مرحلے پر اس کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔  

تحریک انصاف کا جن اور جہانگیر ترین کی بوتل 

ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ممتاز ماہر سیاسیات پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری نے  بتایا کہ مشترکہ مفادات کی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے جو قومی معاملات کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنے اور اختلافات کو دور کرنے کا سب سے بڑا سیاسی فورم ہے ۔'' یہ ادارہ پارلیمنٹ کو جواب دہ ہوتا ہے اور وزیراعظم پاکستان یا ان کا کوئی نمائندہ اس کا سربراہ ہوتا ہے جبکہ تمام وزرائے اعلٰی بھی اس کے رکن ہوتے ہیں۔ اس فورم کے فیصلوں کے خلاف اپیل یا ریفرنس کو پارلیمنٹ کے جوائنٹ سیشن میں پیش کیا جاتا ہے۔ ‘‘

ڈاکٹر عسکری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ مشترکہ مفادات کی کونسل  میں مسائل کے حل نہ ہونے کی ایک وجہ حکومت اور اپوزیشن کے تعلقات کی خرابی بھی ہے۔ حکومت اپوزیشن لڑائی کی وجہ سے اختلافات اور تنازعات کے خاتمے کا سب سے بڑا فورم بھی غیر موثر ہو کر رہ گیا ہے۔ ان کے بقول، '' افسوسناک بات یہ ہے کہ عوام کے مفادات پر ذاتی اور سیاسی مفادات غالب آ چکے ہیں۔ اگر حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے اختلافات سے اوپر اٹھ کر ملکی مسائل حل کرنا چاہیں تو یہ حل ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر ایک فریق اصولی بات کرتا ہے تو دوسرا فریق پوائینٹ سکورنگ کے لیے دوسرا موقف اپنا لیتا ہے۔‘‘

سینیٹ چیئرمین اور ڈپٹی، دونوں عہدوں پر حکومتی امیدوار کامیاب

اس سوال کے جواب میں کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے ڈاکٹر عسکری کا کہنا تھا کہ حل تو یہ ہے کہ سارے متعلقہ سیاسی رہنما عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کے حق میں تمام فیصلے کریں لیکن اس کا امکان بہت کم ہے۔ دوسرا حل یہ ہے کہ معاشرہ ان لوگوں پر دباؤ بڑھائے  لیکن وہ بھی اس قابل نہیں ہے۔ عام زندگی میں عوامی سطح پر پولرائزیشن اتنی بڑھ چکی ہے کہ ہم رات کو ٹی وی مباحثوں میں جو تلخی دیکھتے ہیں وہ انداز بیاں اور غصہ اب عوام میں بھی آتا جا رہا ہے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد لاہور 

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں