گوئٹے انسٹی ٹیوٹ گزشتہ ساٹھ برسوں سے پاکستان میں ثقافت اور فنون لطفیہ کی ترقی اور ترویج کے لئے مصروف عمل ہے جس کے باعث پاکستان اور جرمنی کے درمیان ثقافتی تعلقات کو مزید وُسعت ملی ہے۔
کراچی میں تعینات جرمن قونصل جنرل رائنر شمیڈشن سالگرہ کی تقریب کے شرکا کے ساتھتصویر: Goethe Institut
اشتہار
کراچی میں قائم گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کو غیر معمولی ثقافتی سرگرمیوں کے باعث ہی امریکا، جاپان اور ایران سمیت دیگر ممالک کے ثقافتی مراکز کے مقابلے میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔
گوئٹے انسٹی ٹیوٹ نے سولہ اور سترہ دسمبر کو پاکستان میں اپنے قیام کی ساٹھ ویں سالگرہ منائی جس میں فنکاروں نے منفرد انداز میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ انسٹی ٹیوٹ کی ساٹھویں سالگرہ کی تقریبات میں ایسے پراجیکٹس بھی پیش کئے گئے جو امید ہے کہ پاکستانی اور جرمن فنکاروں کیلئے منفرد مواقع فراہم کرنے کا باعث ہونگے۔ تخلیقی نوعیت کے یہ منصوبے ثقافتی اور تاریخی مواد بھی رکھتے ہیں۔
سالگرہ کی دو روزہ تقریبات میں شرکاء کے لئے ڈرامے اور ڈانس پرفارمنس کے علاوہ موسیقی، اور بصری نمائش سمیت دلچسپی کا بہت سا سامان موجود تھا۔
اس حوالے سے شرکاء کی سب سے زیادہ توجہ جنوبی کوریا کے ’ گیمنگ آؤٹ فٹ‘ اور گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کوریا کی جانب سے تیار کردہ انٹرایکٹو فزیکل کھیلوں پر مرکوز رہی۔ ان کھیلوں کی بنیاد یوہان وولفگانگ فان گوئٹے کے معروف ڈرامے’ فاؤسٹ ‘ کو بنایا گیا ہے جس کیلئے چار بنیادی راؤنڈز میں سے ایک کی رجسٹریشن ضروری تھی۔
ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے شرکاء کا کہنا تھا کہ گوئٹے انسٹی ٹیوٹ گزشتہ ساٹھ برسوں سے پاکستانی اور جرمن ثقافت اور فنون لطیفہ کے فروغ کیلئے مسلسل کام کررہا ہے جس سے کراچی کے تاثر کو بہتر بنانے میں بھی مدد مل رہی ہے۔
کراچی میں تعینات جرمن قونصل جنرل رائنر شمیڈشن نے گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کے 60 سال مکمل ہونے پر شرکاء اور جرمن ثقافتی مرکز کے ساتھ کام کرنے والوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مشکل ترین حالات میں بھی اس ادارے نے جرمن زبان سکھانے کے مرکز اور پاک جرمن ثقافت کو اجاگر کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں۔
سالگری کی تقریبات کے شرکاء کے بقول گوئٹے انسٹی ٹیوٹ بطورِ ادارہ نہ صرف خود شہر کی ثقافتی سرگرمیوں کی بحالی کے لئے سرگرم ہے بلکہ کراچی لٹریچر فیسٹیول جیسے بین الاقوامی سطح کے پروگراموں میں بھی اس کا کردار کلیدی ہے جو اس کو دیگر ممالک کے ثقافتی مراکز سے ممتاز بناتا ہے۔
رومان پرور دریائے رائن، فطرت اور فن
رائن کے کناروں پر اتنا حسن؟ اس سوال کا جواب 18 ویں اور 19 ویں صدی میں قدرتی ماحول کے محققین تلاش کرتے رہے۔ وہ جوق در جوق جرمنی کے اس خوبصورت ترین دریا کی سیر و تفریح کو آیا کرتے تھے، تصاویر بناتے تھے اور شاعری کرتے تھے۔
تصویر: Siebengebirgsmuseum
پُر کشش تفریحی مقام
اُنیس ویں صدی میں رائن ایک مقناطیس کی طرح مصوروں، شاعروں اور قدرتی ماحول کے محققین کو اپنی طرف کھینچتا تھا۔ اس دریا کے دونوں کناروں پر موجود چٹانیں، قدرتی ماحول، قلعے، گہری وادیاں اور اونچے پہاڑ آنکھوں کو خیرہ کر دیتے تھے۔ آنٹون ڈیٹسلر کی 1820ء اور 1830ء کے درمیان بنائی گئی اس تصویر ’ناساؤ کا نظارہ‘ میں ایک پُر امن دنیا کی تصویر کشی کی گئی ہے۔
تصویر: Museum Wiesbaden
پہل ولندیزیوں نے کی
رائن کو دریافت کرنے کا سلسلہ 18 ویں صدی سے شروع ہو گیا تھا لیکن اس دریا پر کھنچے چلے آنے کا سلسلہ جرمنوں نے نہیں بلکہ سفر کے دلدادہ ولندیزی مصوروں نے شروع کیا، جو بالخصوص پیسہ کمانے کے لیے اس دریا کا رخ کیا کرتے تھے۔ انہیں ایمسٹرڈم کے وہ جغرافیہ دان بھیجتے تھے، جو مختلف مقامات کی درست تصویر کشی کے خواہاں تھے۔ انہی میں Herman Saftleven بھی شامل تھے، جنہوں نے اس منظر کو کینوس پر محفوظ کیا۔
تصویر: Ed Restle/Museum Wiesbaden
سنہری کرنوں سے سجے کنارے
جرمن مصور کرسٹیان گیورگ شُٹس سینئر کو ہالینڈ کے Saftleven ہی کی طرز پر رائن کے مناظر محفوظ کرنے کا کام سونپا گیا۔ فرینکفرٹ کے اس مصور کی تصویر سے پتہ چلتا ہے کہ رائن کے لیے پسندیدگی بتدریج قدرتی ماحول کے لیے پسندیدگی میں بدلتی چلی گئی۔ اس تصویر میں رائن اور اُس کے کنارے کا قدرتی ماحول بے پناہ دلکشی، گرم جوشی اور احساسِ قربت لیے ہوئے ہے۔
تصویر: Museum Wiesbaden
رائن کے سفر نامے
رائن کا وسطی حصہ اس علاقے کے ابتدائی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا۔ اٹھارویں صدی میں اُس دور کے بے شمار امراء نے رائن کا سفر اختیار کیا۔ اُن میں سے زیادہ تر اس خطے کی خوبصورتی سے بیرن یوہان اساک فان گیئرنگ کے ذریعے واقف ہوئے، جنہوں نے مائنز سے کولون تک کے سفر کی روداد اتنے دلکش انداز میں قلم بندی کی کہ اُن کا سفر نامہ ہاتھوں ہاتھ بکا اور اُس کے انگریزی اور ہسپانوی میں تراجم بھی ہوئے۔
تصویر: Museum Wiesbaden
تمام تر جزیات کے ساتھ تصویر کشی
آبی رنگوں سے بنائی گئی یہ تصویر کرسٹیان گیورگ شُٹس جونیئر کی تخلیق ہے، جنہوں نے فان گیئرنگ کے مشہور سفر نامے کے لیے تصاویر بنائی تھیں۔ اس مصور کی تصاویر میں فطرت اور تعمیرات کو تمام تر جزیات کے ساتھ پیش کیا جاتا تھا۔ اُن کے شاہکاروں میں رائن کے کنارے تعمیر کیے گئے قلعوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
تصویر: Museum Wiesbaden
ایک تصویر، ایک یاد
سن 1774ء کی یہ تصویر کرسٹیان گیورگ شُٹس سینئر کی تخلیق ہے، جس میں سیاحوں میں خاص طور پر مقبول مقام ایلٹول اَم رائن کی منظر کشی کی گئی ہے۔ اُس دور کے امراء کو اپنی سیاحت کے دوران جب کوئی خاص مقام زیادہ اچھا لگتا تھا تو وہ آرڈر دے کر مہنگے داموں اس طرح کی تصاویر بنواتے تھے۔ یہ کام بڑھتا چلا گیا تو اس جرمن مصور نے اپنے خاندان کے دیگر افراد کو بھی اپنی ورکشاپ میں کام پر لگا دیا۔
تصویر: Museum Wiesbaden
مصور خاندان شُٹس
دریائے رائن کی خوبصورت تصاویر کے ذریعے پیسہ کمانے والے مصور خاندانوں میں ایک نام فرانس شُٹس کا بھی ہے، جن کے ہاں جزیات سے زیادہ جذبات کی اہمیت ہوا کرتی تھی۔ اُن کی اس تصویر میں اس دریا کو باد و باراں کی زَد میں آتا دکھایا گیا ہے۔ اس طرح اُنہوں نے ایک طرح سے اُس دور کے بدلتے سیاسی رجحانات کی بھی نشاندہی کی ہے۔ اُن کے مداحوں میں نامور جرمن فلسفی اور شاعر یوہان وولفگانگ فان گوئٹے بھی شامل تھے۔
تصویر: Museum Wiesbaden
فطرت اپنے پورے جوبن پر
رائن خواب دیکھنے کے ساتھ ساتھ تحقیق کی بھی ترغیب دیتا تھا۔ اس کے لیے بِنگن اور کوبلنز کے درمیان کا علاقہ خاص طور پر موزوں تھا۔ وسطی یورپ کے کسی بھی دوسرے خطے میں انواع کی اتنی بڑی تعداد نہیں تھی، جتنی کہ یہاں کے بے شمار جنگلات اور پتھریلے پہاڑوں میں۔ اٹھارویں صدی میں ان انواع سے متعلق تفصیلات درج کرنے اور اُنہیں جمع کرنے کا رجحان شروع ہوا۔
تصویر: Museum Wiesbaden
سٹرجیئن کا دور ختم ہوا
یہ سٹرجیئن یا سنگ ماہی اپنی نسل کی آخری مچھلی تھی، جسے 1840ء میں دریائے رائن سے پکڑا گیا۔ یہ مچھلی تین میٹر لمبی تھی اور اس کا وزن تین سو کلوگرام تھا۔ اس مچھلی کے ناپید ہو جانے کی وجوہات میں سے ایک یہ تھی کہ اس کا بہت زیادہ شکار کیا گیا۔ ایک اور وجہ یہ تھی کہ 1810ء سے اس دریا کو سیدھا کرنے کا کام شروع کر دیا گیا اور یہ ایک مصروف آبی راستے کی شکل اختیار کرتا چلا گیا۔
تصویر: Museum Wiesbaden
ویزباڈن میں رائن کی یادیں
یوہان وولفگانگ فان گوئٹے کے ایماء پر فان گیئرنگ کے شاہکار اکٹھے کرنے والے نے یہ سارے شاہکار ویزباڈن کے ایک مرکز میں جمع کروا دیے۔ یہی مرکز بعد میں ویزباڈن میوزیم کی شکل اختیار کر گیا، جہاں آج بھی سترہویں اور اٹھارویں صدی کے فن پارے اور دیگر اَشیاء دیکھی جا سکتی ہیں۔