1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان میں ہزاروں مسافر آف لوڈ کیوں؟

عثمان چیمہ | ادارت | عاطف توقیر
7 جون 2026

پاکستانی حکام نے ایسے چالیس ہزار مسافروں کو آف لوڈ کیا جو بیرون ملک سفر کر رہے تھے، اور ان کے مستقبل کے ارادوں پر شبہ کی بنیاد پر انہیں روکا گیا۔ ماہرین شہریوں کے سفر کے حق کی واضح خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔

ایک ہوائی اڈے پر پرواز کے منتظر مسافر
ایف آئی اے نے حالیہ عرصے میں ہزاروں افراد کو سفر سے روکا ہےتصویر: Ismat Jabeen/DW

بیرون ملک سفر سے روکے جانے والوں میں مختلف قسم کے مسافر شامل ہیں۔ ان میں وزٹ ویزا ہولڈرز، طلبہ اور ورک ویزا کےحامل افراد بھی شامل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر خلیجی ممالک جا رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ مسافر اس بنیاد پر روکے گئے کہ ایف آئی اے کو خدشہ ہے کہ وہ اپنے منزل کے ملک سے غیر قانونی طریقے سے کسی اور ملک جانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

ایف آئی اے کی جانب سے مسافروں کو بڑی تعداد میں روکنے کی وجہ کیا ہے؟

مسافروں کی سخت جانچ پڑتال میں اس وقت اضافہ ہوا جب پاکستانیوں سے متعلق تارکین وطن کی کشتیوں کے کئی المناک حادثات پیش آئے۔ خاص طور پر 2023 میں یونان کے قریب ہونے والا کشتی حادثہ جس میں غیر قانونی راستوں سے سفر کرنے کی کوشش میں متعدد پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے بعد حکام نے انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی تیز کی اور ان مسافروں کی نگرانی بھی بڑھا دی جو ہائی رسک سمجھے جانے والے ممالک کا سفر کر رہے تھے۔

تاہم یہ پالیسی اب ایک بڑے سوال کو جنم دے رہی ہے کہ اگرچہ غیر قانونی ہجرت کو روکنا حکومت کا کام ہے، لیکن کیا ہزاروں عام مسافر، طلبہ اور محنت کش، چند افراد کے غیر قانونی اقدامات کی وجہ سے اجتماعی سزا کا سامنا کر رہے ہیں؟

حکومتی اقدامات عام شہریوں کو کیسے متاثر کر رہے ہیں؟

کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ ایف آئی اے کو مسافروں کو آف لوڈ کرنے یا سفر سے روکنے کے اختیارات دینا رشوت، عوام کے استحصال اور بڑے مالی، جذباتی اور ترقی میں رکاوٹ جیسے نقصان کا باعث بن رہا ہے۔

شہباز احمد اس کی ایک مثال ہیں۔ وہ ترکی کے درست ویزے پر سفر کر رہے تھے تاکہ وہاں سے سلووینیا کے سفارت خانے میں اسٹوڈنٹ ویزا کے لیے پیش ہو سکیں۔ انہوں نے سلووینیا کی ایک یونیورسٹی میں داخلہ بھی حاصل کر لیا تھا اور اس لیے ترکی جا رہے تھے کیونکہ سلووینیا کا سفارت خانہ پاکستان میں موجود نہیں۔

شہباز نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ انہیں ایف آئی اے حکام نے ایئرپورٹ پر غیر ضروری طور پر ہراساں کیا۔ وہ کہتے ہیں، ’’میرے پاس ویزا تھا، 280,000 روپے کا واپسی ٹکٹ تھا اور سلووینیا یونیورسٹی کے داخلے کے کاغذات تھے اور حکام  نے کہا کہ میں نہیں جا سکتا۔ کیوں؟ وہ کیسے فیصلہ کرتے ہیں کہ میں جائز مسافر ہوں یا نہیں؟ اب وہ کہتے ہیں کہ میں جا سکتا ہوں، لیکن میں اب بھی خوفزدہ ہوں۔ میں نے اپنی جیب سے دوبارہ ٹکٹ خریدا ہے۔ انہیں میرے ٹکٹ کے پیسے دینے چاہئیں، لیکن وہ ہماری مشکلات سے بالکل لاتعلق ہیں۔‘‘

مسافروں کو شکایت ہے کہ درست دستاویزات کے باوجود انہیں سفر سے روکا جا رہا ہےتصویر: Asif Hassan/AFP/Getty Images

پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکن اس صورتحال پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں اور اسے ایک خطرناک رجحان قرار دیتے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل حارث خلیق کہتے ہیں کہ کسی شخص کو صرف شک کی بنیاد پر بیرون ملک سفر سے روکنے کی کوئی قانونی اجازت موجود نہیں۔ حارث سوال اٹھاتے ہیں، ’’کوئی کیسے کسی کے دل کو پڑھ سکتا ہے کہ وہ واقعی غیر قانونی طور پر جانا چاہتا ہے یا ایک صحیح مسافر ہے؟ اصل چیز صرف درست سفری دستاویزات ہیں۔‘‘

امیگریشن اور قانونی حلقوں کی رائے کیا ہے؟

کچھ ایسے ماہرین جو پہلے مسافروں کو سفر سے روکنے کے فیصلوں کے عمل کا حصہ رہ چکے ہیں، حکومت کے حالیہ اقدامات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں اور ایف آئی اے کی اس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔

سابق ڈپٹی چیئرمین نیب اور سابق ڈائریکٹر ایف آئی اے حسین اصغر کہتے ہیں کہ ایف آئی اے کسی شخص کو بیرون ملک سفر سے صرف اس وقت روک سکتی ہے جب اس کے پاس جعلی یا مشکوک دستاویزات ہوں۔

حسین کا کہنا ہے، ’’یہ ایف آئی اے کا کام نہیں کہ وہ لوگوں کے دلوں میں جھانکے اور یہ جاننے کی کوشش کرے کہ وہ مستقبل میں کیا کرنے والے ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کے اختیارات بدعنوانی اور عام شہریوں کے استحصال کا دروازہ کھولتے ہیں، اور اس عمل کو روکا جانا چاہیے۔

حسین کہتے ہیں، ’’میں نے خود ایئرپورٹ آپریشنز سر انجام دیے ہیں اور کبھی بھی بغیر ٹھوس وجہ کے کسی مسافر کو آف لوڈ نہیں ہونے دیا۔ آف لوڈ کرنے وجہ صرف احساسات پر مبنی نہیں ہو سکتی۔‘‘

کیا ان اقدامات کا کوئی قانونی جواز ہے؟

سوال یہ ہے کہ اگر ایف آئی اے کے مسافروں کو آف لوڈ کرنے کا عمل غیر قانونی ہے، تو کیا ہزاروں افراد کو روکنے کے ان اقدامات کا کوئی قانونی جواز موجود ہے؟

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات کا کوئی قانونی جواز نہیں، جبکہ ایف آئی اے نے اس معاملے پر مؤقف دینے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

ثقافتی طائفوں کے نام پر جسم فروشی کے لیے انسانی اسمگلنگ

12:36

This browser does not support the video element.

انسانی حقوق کی وکیل رابعہ باجوہ کہتی ہیں کہ درست سفری دستاویزات رکھنے والے افراد کو سفر سے روکنا غیر قانونی ہے اور اسے فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ لاہور ہائی کورٹ کے ایک حالیہ حکم کی بھی خلاف ورزی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے کسی مسافر کو بغیر تحریری قانونی جواز کے سفر سے نہیں روک سکتی۔

ایف آئی اے کے جواز پر سوالات

متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ اب ایف آئی اے اکثر کمزور اور غیر سنجیدہ جواز استعمال کر رہی ہے۔ شہباز احمد کہتے ہیں کہ ان سے یونیورسٹی کے آفیشل ای میل ایڈریس سے تصدیق مانگی گئی، حالانکہ طلبہ کے پاس اکثر یہ ای میل موجود نہیں ہوتی کیونکہ داخلہ کرنے والی ایجنسیاں یہ معاملات دیکھتی ہیں۔

 شہباز کا کہنا تھا، ’’میرے پاس یونیورسٹی کی فیس کی رسید تھی، لیکن انہوں نے مجھے روکنے کے لیے بہانے بنائے۔ اب ایک خاتون افسر کہتی ہیں کہ میں جا سکتا ہوں، لیکن مجھے آفیشل ای میل تو اب بھی نہیں ملی۔ میں نے کسی اور نمائندے سے میل حاصل کی۔ تو اب کیا بدل گیا ہے؟ یہ صرف ایک بہانہ ہے۔ انہوں نے مجھے بڑا نقصان پہنچایا اور ادارے کو کوئی افسوس بھی نہیں۔‘‘

حکومتی اقدامات کا معاشی اثر

کاروباری اور لیبر ایکسپورٹ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بیرون ملک روزگار کے خواہشمند افراد کو متاثر کر رہے ہیں کیونکہ ان کا اعتماد کم ہو رہا ہے کہ اگر انہیں بیرون ملک نوکری مل بھی جائے تو کیا وہ واقعی ملک سے باہر جا سکیں گے؟

آل پاکستان اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین سرفراز ظہور چیمہ کہتے ہیں کہ اوورسیز منسٹری بھی بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والے افراد کی تعداد میں کمی پر تشویش ظاہر کر چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا، ’’اگرچہ سب لوگوں کو نہیں روکا جا رہا اور آف لوڈ ہونے والوں کی تعداد کے باوجود بہت سے لوگ اب بھی جا رہے ہیں، لیکن مجموعی طور پر ایف آئی اے کا رویہ لوگوں کی بیرون ملک نوکریوں کے لیے درخواست دینے کی بھی حوصلہ شکنی کر رہا ہے۔‘‘

 

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں