پاکستان نے ابھی تک غزہ فورس میں شمولیت کا فیصلہ نہیں کیا
19 دسمبر 2025
اسلام آباد میں پاکستانی دفتر خارجہ نے جمعرات کے روز غزہ کے لیے منصوبہ بند بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) میں پاکستانی فوجیوں کی شمولیت کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے، تاہم بات چیت جاری ہے۔
بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت کے لیے اسلام آباد پر واشنگٹن کے دباؤ کے بارے میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں جاری ہیں اور حکام نے اس بیان سے انہیں قیاس آرائیوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران کہا، "جہاں تک آئی ایس ایف میں پاکستان کی شمولیت کی بات ہے، تو ہم نے ابھی تک آئی ایس ایف میں شرکت کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔"
دفتر خارجہ نے مزید کیا کہا؟
بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) میں پاکستان کی ممکنہ شراکت کے بارے میں دفتر خارجہ کے ترجمان کی وضاحت اس بڑھتے ہوئے قیاس کے درمیان سامنے آئی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان پر اپنی افواج کی تعیناتی کے لیے دباؤ بڑھا رہی ہے۔
ایسی اطلاعات کو خبر رساں ادارے رؤئٹرز کی حالیہ ایک رپورٹ سے مزید تقویت ملی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر دفاعی افواج کے سربراہ کی حیثیت سے آنے والے ہفتوں میں صدر ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کے لیے واشنگٹن کا سفر کرنے والے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ اس ملاقات میں غزہ استحکام فورس کی شمولیت کے بارے میں نمایاں طور پر بات چیت ہونے کا امکان ہے۔
اسی رپورٹ سے متعلق جب دفتر خارجہ سے سوال کیا گیا، تو طاہر حسین اندرابی نے پہلے تو واضح جواب دینے سے پہلو تہی کی، تاہم اصرار کرنے پر انہوں نے کہا واشنگٹن کے لیے ایسے کسی بھی سفر کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا، "جیسا کہ روئٹرز نے چیف آف آرمی سٹاف / چیف آف ڈیفنس فورسز کے دورے کے بارے میں رپورٹ کیا ہے، میں روئٹرز کی اس کہانی کی تردید کر سکتا ہوں، جس سے ایسا لگتا ہے کہ اس دورے کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے اور اس پر کوئی حتمی فیصلہ ہو گیا ہے، اس لیے میں اس کی تردید کر رہا ہوں۔"
ان کا مزید کہنا تھا، "ہمیں ایسے دورے کی صورت میں حکومت پاکستان کی جانب سے باضابطہ اعلان کا انتظار کرنا چاہیے۔ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت مختلف دارالحکومتوں کا دورہ کرتی ہے، اور جب کوئی سرکاری دورہ منعقد ہوتا ہے تو اس سے پہلے باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، جو اس معاملے میں نہیں کیا گیا ہے۔"
دریں اثنا، وائٹ ہاؤس نے بھی صدر ٹرمپ اور عاصم منیر کے درمیان ایسی کسی ملاقات کی تردید کی ہے۔
دی ڈان کی اطلاع کے مطابق ٹرمپ اور منیر کے درمیان ممکنہ ملاقات کے بارے میں عرب نیوز کے نمائندے نے وائٹ ہاؤس کے ترجمان سے ایک سوال کیا تھا، جس کا جواب دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا، "اس وقت صدر کے کیلنڈر میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔"
فوج کی تعیناتی پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں
غزہ کے لیے بین الاقوامی فورس میں شمولیت کے بارے میں دفتر خارجہ کے ترجمان اندرابی نے کہا کہ اس بارے میں بات چیت جاری ہے لیکن انہوں نے زور دیا کہ فوجیوں کی تعیناتی کے لیے پاکستان کو کوئی باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ "آئی ایس ایف پر بات چیت بعض دارالحکومتوں میں جاری ہے، مجھے فوج بھیجنے کے لیے پاکستان سے کی گئی کسی خاص درخواست کے بارے میں علم نہیں ہے۔ جیسا کہ کہا جا رہا ہے، ہم نے ابھی تک اس موضوع پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔"
پاکستان کے متضاد بیانات
تاہم دفتر خارجہ کے یہ بیانات نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے پہلے کے بیانات کے بالکل برعکس دکھتے ہیں، جنہوں نے کہا تھا کہ پاکستان اس فورس میں حصہ لینے کے لیے "اصولی طور پر" تیار ہے۔ لیکن یہ مینڈیٹ اور شرائط کی وضاحت سے مشروط ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا تھا، "ہم یقینی طور پر فورس میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہیں، وزیر اعظم نے بھی فیلڈ مارشل سے مشاورت کے بعد اصولی طور پر اعلان کر چکے ہیں کہ ہم اپنا حصہ ڈالیں گے، لیکن یہ فیصلہ اس وقت تک نہیں کیا جا سکتا جب تک یہ فیصلہ نہ کر لیا جائے کہ اس کا طور طریقہ اور شرائط کیا ہوں گی۔"
ڈار نے حماس کو غیر مسلح کرنے سے متعلق کسی بھی کردار پر بھی سرخ لکیر کھینچی اور کہا، "ہم اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ ہمارا کام نہیں ہے، بلکہ فلسطینی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہے۔ ہمارا کام امن قائم کرنا ہے، امن کو نافذ کرنا نہیں۔"
واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے منگل کے روز قطر میں درجنوں شراکت دار ممالک کے ساتھ ایک کانفرنس کی میزبانی کی تھی، جس میں آئی ایس ایف کے کمانڈ اسٹرکچر اور دیگر حل طلب آپریشنل مسائل پر بات چیت کی گئی۔ اس اجلاس میں بھی پاکستان دیگر تقریباً 45 ممالک کے ساتھ شامل تھا۔
بین الاقوامی استحکام فورس (آئي ایس ایف) غزہ تنازعہ کو ختم کرنے کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کا ایک اہم جزو ہے، جس کا ستمبر میں اعلان کیا گیا تھا۔ اسی فریم ورک کے تحت اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی ہوئی۔
اس سے متعلق 17 نومبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کی اور اسی میں اس منصوبے کی توثیق کی گئی تھی۔ اس میں غزہ کی سکیورٹی، غیر مسلح کرنے اور تعمیر نو میں مدد کے لیے ایک عارضی کثیر القومی فورس کی تعیناتی کی بات کہی گئی تھی۔ پاکستان نے بھی اس قرارداد کی حمایت کی تھی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے مجوزہ فورس کے لیے فوج یا فنڈنگ کے لیے 70 سے زائد ممالک سے باضابطہ طور پر رابطہ کیا ہے۔ مبینہ طور پر اب تک تقریباً 19 ممالک نے غزہ میں ممکنہ طور پر اگلے ماہ کے اوائل سے شروع ہونے والے بین الاقوامی تعیناتی کے ساتھ فوجیوں، لاجسٹکس یا آلات کے ذریعے مدد کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
ادارت: جاوید اختر