1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان: پولنگ جاری، تشدد کے متعدد واقعات

11 مئی 2013

پاکستان میں پولنگ جاری ہے۔ انتخابات میں ملک کے تقریباً آٹھ کروڑ عوام اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں پرتشدد واقعات کی بھی اطلاعات ہیں۔

تصویر: DW

پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات میں لوگ اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ ملک بھر میں مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے شروع ہونے والی پولنگ بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہے گی۔ دوسری جانب ملک کے جنوبی شہر اور تجارتی مرکز کراچی کے ایک علاقے میں عوامی نیشنل پارٹی کے ایک دفتر کے باہر ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم نو افراد ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب ہفتے کی صبح بلوچستان کے ضلع بارکھان میں ایک اسکول میں بنائے گئے پولنگ اسٹیشن کو راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں یہ اسکول تباہ ہو گیا۔

اس موقع ہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیںتصویر: picture-alliance/dpa

کراچی میں ہفتے کے روز ہونے والے بم دھماکے میں تقریبا 36 افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ دھماکا اس وقت ہوا جب عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی اسمبلی کے لیے امیدوار امان اللہ محسود بھی اس دفتر میں موجود تھے، تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے، جس کی جانب سے پہلے ہی یہ دھمکی دی گئی تھی کہ وہ لبرل جماعتوں کو نشانہ بنائے گی۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے اس حملے کے بعد خبر رساں اداروں کو ٹیلی فون پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا، ’ہم فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ حملہ ہم نے کیا۔‘

پاکستان میں قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے لیے ووٹنگ کے اس عمل میں ماضی کے مقابلے میں ووٹروں کے زیادہ ٹرن آؤٹ کی توقع کی جا رہی ہے اور اس کی وجہ ملک کے تقریبا چالیس فیصد نوجوان ووٹروں کی ان انتخابات میں ممکنہ شمولیت کے رجحان کو قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز ملکی الیکشن کمیشن کی جانب سے توقع ظاہر کی گئی تھی کہ ان انتخابات میں ووٹرز ٹرن آؤٹ ساٹھ فیصد تک ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ سن 2008ء میں یہ ٹرن آؤٹ چوالیس فیصد کے قریب تھا۔

پاکستان میں ان انتخابات سے قبل مختلف پارٹیوں کی جانب سے چلائی جانے والی انتخابی مہم کے دوران تشدد کے مختلف واقعات میں 120 سے زائد افراد ہلاک جب کہ درجنوں زخمی ہوئے۔

(at/shs (AP, AFP

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں