پاکستان: پولنگ جاری، تشدد کے متعدد واقعات
11 مئی 2013
پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات میں لوگ اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ ملک بھر میں مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے شروع ہونے والی پولنگ بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہے گی۔ دوسری جانب ملک کے جنوبی شہر اور تجارتی مرکز کراچی کے ایک علاقے میں عوامی نیشنل پارٹی کے ایک دفتر کے باہر ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم نو افراد ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب ہفتے کی صبح بلوچستان کے ضلع بارکھان میں ایک اسکول میں بنائے گئے پولنگ اسٹیشن کو راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں یہ اسکول تباہ ہو گیا۔
کراچی میں ہفتے کے روز ہونے والے بم دھماکے میں تقریبا 36 افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ دھماکا اس وقت ہوا جب عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی اسمبلی کے لیے امیدوار امان اللہ محسود بھی اس دفتر میں موجود تھے، تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے، جس کی جانب سے پہلے ہی یہ دھمکی دی گئی تھی کہ وہ لبرل جماعتوں کو نشانہ بنائے گی۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے اس حملے کے بعد خبر رساں اداروں کو ٹیلی فون پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا، ’ہم فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ حملہ ہم نے کیا۔‘
پاکستان میں قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے لیے ووٹنگ کے اس عمل میں ماضی کے مقابلے میں ووٹروں کے زیادہ ٹرن آؤٹ کی توقع کی جا رہی ہے اور اس کی وجہ ملک کے تقریبا چالیس فیصد نوجوان ووٹروں کی ان انتخابات میں ممکنہ شمولیت کے رجحان کو قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز ملکی الیکشن کمیشن کی جانب سے توقع ظاہر کی گئی تھی کہ ان انتخابات میں ووٹرز ٹرن آؤٹ ساٹھ فیصد تک ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ سن 2008ء میں یہ ٹرن آؤٹ چوالیس فیصد کے قریب تھا۔
پاکستان میں ان انتخابات سے قبل مختلف پارٹیوں کی جانب سے چلائی جانے والی انتخابی مہم کے دوران تشدد کے مختلف واقعات میں 120 سے زائد افراد ہلاک جب کہ درجنوں زخمی ہوئے۔
(at/shs (AP, AFP