1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان کے روس کے ساتھ تعلقات پر یورپی یونین کے تحفظات

شکور رحیم، اسلام آباد4 دسمبر 2014

یورپی یونین کے پاکستان میں سفیر لارس گنر ویگ مارک نے یوکرائن کی موجودہ صورتحال میں پاکستان کے روس کے ساتھ تعلقات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو روسی جارحیت کی مذمت کرنی چاہیے۔

تصویر: imago/Xinhua

مسٹر ویگ مارک نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے ارکان سے خطاب میں کیا۔ قائمہ کمیٹی کے ارکان نے یورپی یونین کے سفیر کو پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات کی موجودہ صورتحال اور ان میں مزید مضبوطی لانے کے لیے اقدامات کے حوالے سے اظہار خیال کے لیے خصوصی طور پر مدعو کیا تھا۔

کمیٹی کے ایک رکن اور حکمران جماعت کے راہنما رانا محمد افضل خان کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مسٹر ویگ مارک نے واضح کیا کہ ان کے کہنے کا مقصد یہ نہیں کہ پاکستان روس کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے "ہنگامی اقدامات" اٹھائے بلکہ ان کا مقصد روس کے بارے میں یورپی یونین میں پائی جانے والی حساسیت اور تشویش سے آگاہ کرنا تھا۔

یورپی سفیر کی جانب سے روس کے بارے میں ان خیالات کا اظہار ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب سرد جنگ کے خاتمے کے بعد گزشتہ ماہ پہلی مرتبہ روسی وزیر خارجہ نے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا۔ روس اور پاکستان کے درمیان گرمجوشی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں ممالک نے دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا تھا۔

روس کے بارے میں ان خیالات کا اظہار ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب سرد جنگ کے خاتمے کے بعد گزشتہ ماہ پہلی مرتبہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اسلام آباد کا دورہ کیا تھاتصویر: picture-alliance/AP Images

خارجہ امور کمیٹی کے ایک رکن رانا محمد افضل خان نے یورپی یونین کے سفیر کی گفتگو پر رد عمل میں کہا کہ یورپی یونین کا پاکستان اور روس کے تعلقات پر رد عمل یوکراین کی صورتحال کے پس منظر میں غیر فطری نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی سفیر نے اس بارے میں انہیں اپنے اتحاد میں شامل ملکوں کی سوچ سے آگاہ کیا ہے۔ کیا پاکستان یورپی یونین کی وجہ سے روس کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کرے گا اس سوال کے جواب میں رانا افضل نے کہا،

’’دیکھیں یہ فیصلہ ہم نےاپنے مفادات کے تحت کرنا ہے۔ اس حد تک ہم فیصلہ کرتے جائیں جہاں تک ان کی (یورپی یونین) کی حساسیت نہ بڑھے اور وہ اس پر ہمارے ساتھ سنجیدہ ڈائیلاگ نہ کریں۔ یہ تو ایک ڈرائنگ روم ٹاک تھی ہم نے یورپی یونین کے سفیر کو مدعو کیا وہ آکر کہہ گئے۔ قوموں کے درمیان جو باتیں ہوتی ہیں وہ الگ ہیں اگر وہ زیادہ محسوس کریں گے تو یورپی یونین کے سفیر کو ہمارے وزیر خارجہ کے پاس بھیجیں گے"۔

بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر مونس احمر کا کہنا کہ پاکستان کو یورپی یونین کےسفیر کے ان ریمارکس کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کو دونوں جانب اپنے تعلقات میں ایسا توازن قائم کرنا ہو گا جس سے اس کی پوزیشن غیر جانبدار رہے۔ انہوں نے کہا،

"یورپی یونین یہ سمھجتی ہے میرے خیال میں کہ پاکستان کی طرف سے ایک مذمت آ جائے تو اس کی وجہ سے روس پر تھوڑا اخلاقی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ مگراس دباؤ کے بھی مضمرات ہوں گے کیونکہ روس قطعا اس چیز کی تائید نہیں کرے گا۔"

خیال رہے کہ یورپی یونین میں شامل ممالک نہ صرف پاکستان کی امداد کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہیں بلکہ یورپی یونین پاکستان کا بڑا تجارتی پارٹنر بھی ہے۔ گزشتہ برس یورپی یونین کے ممالک اور پاکستان کے درمیان 8٫35 ارب یورو کی تجارت ہوئی جو پاکستان کی مجموعی تجارت کا بیس فیصد تھی۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں