پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد 20 ہو گئی
12 جون 2026
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 20 ہو گئی ہے۔ اور یہ تعداد سرکاری اعداد و شمار پر مبنی ہے۔
حکومت مخالف یہ تحریک معاشی مسائل کے حل اور حکومتی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے جے اے اے سی کو انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت کالعدم قرار دیے جانے کے باوجود اس کے حامی احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سرکاری حکام نے پیر کے روز اے ایف پی کو بتایا تھا کہ جھڑپوں میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں تین شہری اور چار پولیس اہلکار شامل تھے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے۔ تاہم جمعے کو جاری ہونے والے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 20 تک پہنچ گئی ہے۔
مقامی حکومت کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم ملک ظفر نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کے کوٹلی میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کے نتیجے میں اس ہفتے سات افراد جان کی بازی ہار گئے۔
دوسری جانب راولاکوٹ کے کمشنر سردار وحید نے بتایا کہ ان کے علاقے میں جھڑپوں کے دوران 12 افراد ہلاک ہوئے، جن میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ادھر میرپور کے ایک سینئر پولیس افسر خرم اقبال کے مطابق بدھ کے روز پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں مظاہرین میں شامل ایک شخص ہلاک ہو گیا۔
بیشتر دکانیں بند، انٹرنیٹ سروسز معطل
عینی شاہدین اور اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق مظفرآباد میں اس ہفتے متعدد دکانیں عوامی ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کی اپیل کے حق میں بند رہیں جبکہ علاقے میں موبائل انٹرنیٹ سروسز بھی زیادہ تر وقت معطل یا شدید متاثر رہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے تنظیم کو دہشت گرد قرار دیے جانے کے حکومتی فیصلے کو ''ظلم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد جائز معاشی اور سیاسی حقوق کے حصول کے لیے ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں بھی اسی تنظیم کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان کئی روز تک پرتشدد جھڑپیں جاری رہیں، جن میں تصدیق شدہ اطلاعات کے مطابق نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔
مسلم اکثریتی خطے کشمیر پر بھارت اور پاکستان دونوں ہی مکمل ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں تاہم برطانوی راج سے آزادی کے بعد سے یہ خطہ دونوں ممالک کے درمیان منقسم ہے۔ اس علاقے کو انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے، جہاں دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان ماضی میں متعدد سرحدی جھڑپیں اور باقاعدہ جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔
ادارت: شکور رحیم