1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان کے ساتھ سرمایہ کاری میں جرمنی کی دلچسپی

14 اکتوبر 2009

جرمنی اور پاکستان کے مابین دو طرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے کی تجدید آخری مرحلوں میں ہے۔ رواں سال کے آخر تک اس سلسلے میں ایک نئے معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔

تصویر: bilderbox

یہ بات جرمن وزارت برائے معیشت اور ٹیکنالوجی کے انٹرنیشنل انویسٹمنٹ اینڈ فنانس ڈویژن کے سربراہ یواخم اسٹیفنس نے کہی۔ وہ منگل کو برلن میں جاری ایشیا پیسیفک ویک کے موقع پر منعقدہ پاکستان بزنس ڈے کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کر رہے تھے۔

پاکستان اور جرمنی کے درمیان 20 ملین ڈالر کا ایک بینکنگ پروجیکٹ طے پایا ہے جس کے تحت سرمایہ کاری کے متعدد منصوبے شروع کئے جائیں گے۔ یواخم اسٹیفنس کے مطابق جرمنی کے پاکستان کے ساتھ ٹیکسٹائل اور اس سے متعلقہ مشینری کے شعبے میں مضبوط تعلقات ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور کاروبار کے شعبے میں نہایت دوستانہ ماحول پایا جاتا ہے۔

جرمن شہر ڈیوزبرگ کی بندرگارتصویر: Stephanie Raison

یواخم اسٹیفنس نے بتایا کہ اس سال دو اور تین دسمبر کو فرینکفرٹ میں ’انویسٹمنٹ ٹریٹیز‘ یا سرمایہ کاری کے معاہدوں سے متعلق پہلی بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے، جس میں پاکستان کو پارٹنر ملک کی حیثیت سے مدعو کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ جرمنی نے دوسری عالمی جنگ کے بعد 1959ء میں پاکستان کے ساتھ پہلے دوطرفہ سرمایہ کاری کے لئے پہلے باہمی معاہدے پر دستخط کئے تھے۔

اس مرتبہ ایشیا پیسیفک ویک کے موقع پر برلن میں منعقد ہونے والی پاکستان بزنس ڈے کانفرنس میں مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے برلن میں متعین پاکستانی سفیر شاہد کمال نے کہا کہ پاکستان کی جمہوری حکومت سیکیورٹی اور اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تمام تر قوت صرف کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کے لئے یہ امر غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ حکومت اقتصادی ترقی کی کوششوں کی طرف بھر پور توجہ دے۔

شاہد کمال نے کہا کہ پاکستان کو درپیش گوناگوں مسائل اور ملکی نظام میں پائے جانے والے نقائص کے باوجود ’بزنس میں آسانیوں کے حوالے سے ورلڈ بینک کی رینکنگ رپورٹ میں پاکستان جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سرفہرست ہے۔ شاہد کمال نے مزید کہا کہ ان کا ملک غیر ملکی سرمایہ کاروں کو متعدد اقتصادی شعبوں میں بے شمار مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کو 20 سے 30 فیصد تک ’انویسٹمنٹ رٹرن ریٹ "IRR دیتا ہے۔

جرمنی اس وقت پاکستان کا چوتھا بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ شاہد کمال نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین اقتصادی تعلقات کو مضبوط تر بنانے کے لئے ہر شعبے میں جرمن سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی سفیر نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے یا ’فری ٹریڈ اگریمنٹ FTA ‘ کے بارے میں مذاکرات جلد شروع ہو جائیں گے۔ شاہد کمال نے اپنی گفتگو کا دائرہ سمیٹتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا چین کے ساتھ FTA معاہدہ ہے اور جرمن حکومت اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتی ہے کیونکہ چین نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی بلکہ تیزی سے ترقی کرنی والی اقتصادی قوت ہے۔

اس موقع پر موجود ’پاک جرمن بزنس فورم‘ کے صدر صلاح الدین احمد نے پاکستان اور جرمنی کے مابین اقتصادی تعلقات کے فروغ کے لئے اس فورم کی اہمیت کو اجاگر کیا جبکہ پاکستان کے ’بورڈ آف انویسٹمنٹ BOI کے ڈائرکیٹر سیف الدین نے ا’ن اصلاحات پر روشنی ڈالی جن کی مدد سے پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: ندیم گِل

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں