پاکستان کے شمال مغربی حصے میں دو بم دھماکے، سات ہلاک
20 جون 2026
پاکستانی صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے ایک پولیس افسر یاسر آفریدی نے دیسی ساختہ بم کا مخفف استعمال کرتے ہوئے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ''مسافروں کو لے جانے والے ایک نجی پک اپ ٹرک کو ریموٹ کنٹرولڈ آئی ای ڈی (IED) کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''زخمیوں کو ہنگامی علاج کے لیے کار میں ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ دوسرا آئی ای ڈی دھماکہ ہو گیا۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ تین افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ان دھماکوں کی ذمہ داری فوری طور پر کسی نے قبول نہیں کی لیکن اس خطے میں تحریک طالبان پاکستان اور دیگر عسکریت پسند گروپ سرگرم ہیں۔
وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے حملے کی مذمت کی اور قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ''دہشت گردی کے خاتمے‘‘ اور ''ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے‘‘ کے لیے پرعزم ہے۔
پاکستان ایسے حملوں میں اضافے کا ذمہ دار پڑوسی ملک افغانستان کو ٹھہراتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
کابل میں طالبان حکومت نے پاکستان کے ان الزامات کی بارہا تردید کی ہے کہ افغان سرزمین کو عسکریت پسندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
حالیہ مہینوں میں دونوں ملکوں کے مابین سرد مہری کے تعلقات مہلک مسلح تصادم میں بدل چکے ہیں، جس میں افغانستان کے شہروں پر پاکستانی فضائی حملے بھی شامل ہیں۔
رواں ماہ مشترکہ سرحد کے قریب افغانستان میں پاکستانی حملوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے۔ 19 جون کو افغانستان کی وزارت دفاع نے بتایا کہ اس کی فوج نے پاکستان میں داعش کے خفیہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، تاہم پاکستان کی طرف سے اس کی تردید کی گئی۔
گزشتہ برس اکتوبر میں تشدد کے آغاز کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحد زیادہ تر بند رہی ہے، جس سے دوطرفہ تجارت معطل ہو کر رہ گئی ہے۔
ادارت: کشور مصطفیٰ