1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں شدید زلزلہ

DW staff30 اکتوبر 2008

پاکستانی صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں بدھ کی صبح شدید زلزلے سےدو سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئےجب کہ درجنوں مکانات اور عمارتیں شدید متاثر ہوئیں۔

ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.4تھیتصویر: AP

زلزلے سے متاثرہ پاکستانی صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک صوبائی وزیر کے مطابق اس زلزلے میں آٹھ دیہاتوں میں کم سے کم دو سو پندرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہلاک شدگان کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ زلزلے سے سب سے زیادہ زیارت کا علاقہ متاثر ہوا جہاں ایک سو پچاس افراد جاں بحق اور دو سو ستاون زخمی ہوئے۔

زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہےتصویر: AP

امریکی جغرافیائی سروے کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 6.4 تھی اور اس کا مرکزصوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے شمال مشرق مین تقریبا ساٹھ کلو میٹر دور تھا۔ زلزلے سے متاثرہ قلعہ عبداللہ، پشین، لورالائی، ہرنائی، زیارت، سبی، مستونگ اور دیگرعلاقوں میں فرنٹئیر کانسٹیبلری اور فوج امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں تاہم ذرائع مواصلات کا نظام بری طرح متاثرہونے کی وجہ سے نقصان کا صحیح اندازہ لگانے اورامدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

صبح سویرے آنے والے اس زلزلے میں 150سے زائد افراد کی ہلاکتوں کا خدشہ ہےتصویر: AP

پاکستان فوج کے ترجمان کے مطابق امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لئے دو ہیلی کاپٹر متاثرہ علاقوں میں بھیج دیئے گئے ہیں۔


زلزلے کی وجہ سے پہاڑی تودے گرنے سے زیارت کے پانچ گاؤں تباہ ہوگئے۔ قریبی دیہات ورچوم اور کہان سے ملبے سے درجنوں لاشیں نکال لی گئیں ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل محکمہ موسمیات پاکستان قمر الزمان نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زلزلے کا مرکز کوئٹہ شہر سے ساٹھ کلومیٹر دور شمال مشرق میں تھا اور اس کی گہرائی دس کلومیٹر تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک تیرہ کے لگ بھگ آفٹر شاکس ریکارڈ کئے جاچکے ہیں اور آفٹر شاکس کا یہ سلسلہ مزید ایک ہفتے تک جاری رہے گا جس کے بعد ان میں کچھ کمی آنا شروع ہوگی۔

زلزلے سے زخمی ایک عورت کو طبی امداد دی جا رہی ہےتصویر: AP

قمر الزمان نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں اگلے ایک ہفتے تک بارش کا امکان نہیں ہے جو امدادی سرگرمیوں میں شریک لوگوں کے لئے کچھ آسانی کا باعث ہو گا تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ علاقے پہلے سے ہی شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں اور یہاں درجہ حرارت نقطہ انجماد کے آس پاس ہے اس لئے امدادی ٹیموں کو اس طرف توجہ دینی ہو گی کہ زلزلہ سے بچ جانے والے افراد کو شدید سردی کی وجہ سے مزید نقصان نہ اٹھانا پڑے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں