پاک بھارت امن کی منزل ابھی دور
30 دسمبر 2014
اس سال مئی کے عام انتخابات میں منتخب ہونے والے قوم پرست رہنما نریندر مودی نے پہل کرتے ہوئے اپنی حلف برداری کی تقریب میں اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کو مدعو کیا تھا، جس کا پاکستانی وزیر اعظم نے بھی مثبت جواب دیا اور ’امن کے پیغام‘ کے ساتھ چھبیس مئی کی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے ایک غیر متوقع اقدام کیا۔
ڈوئچے ویلے سے باتیں کرتے ہوئے جرمنی کی فریڈرش ایبرٹ فاؤنڈیشن سے وابستہ سارہ ہیز کے مطابق نئی دہلی میں ایک نئی حکومت قائم ہونے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں، جو اپنی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکے تھے، بہتری کی قوی امیدیں لگائی جا رہی تھیں۔
لندن میں مقیم پاکستانی صحافی اور محقق فاروق سلہریا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ نئی دہلی میں مودی اور شریف کی تاریخی ملاقات کو دو ماہ سے بھی کم عرصہ گزرا تھا کہ کشمیر کی سرحد پر دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ شروع ہو گیا اور یوں باہمی تعلقات پھر سے اپنی پرانی سطح پر واپس پہنچ گئے۔
بھارت غالباً اُس وقت تک پاکستان پر اعتبار نہیں کر سکتا جب تک کہ اُن عناصر کے خلاف کارروائی نہ کی جائے، جنہوں نے 2008ء میں اُن ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی، جن کے نتیجے میں 160 افراد مارے گئے تھے۔ ڈی ڈبلیو سے باتیں کرتے ہوئے پاکستانی میں بھارت کے ایک سابق سفیر اور سیاسی مبصر جی پارتھا سارتھی نے کہا کہ ’بھارت ابھی تک اس بات کا قائل نہیں ہو سکا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک جامع جنگ شروع کر رہا ہے‘۔
پارتھا سارتھی کے مطابق بھارتی حکومت کے خیال میں پاکستان ابھی تک صرف اُن دہشت گردوں کے خلاف سرگرمِ عمل ہے، جو خود پاکستانی سرزمین پر دہشت گردانہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس بھارت توقع کرتا ہے کہ پاکستانی حکومت حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے ساتھ ساتھ ممبئی حملوں کے منصوبہ ساز گروپ لشکرِ طیبہ کے خلاف بھی کارروائی کرے۔ یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں جب کالعدم لشکر طیبہ کے کمانڈر ذکی الرحمان لکھوی کو ضمانت پر رہا کیا گیا تو بھارت کی طرف سے سخت رد عمل ظاہر کیا گیا۔ واضح رہے کہ لکھوی کو اب چھ سال پہلے ایک پاکستانی شہری انور خان کے مبینہ اغوا کے الزام میں پھر سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
نواز شریف حکومت کو درپیش چیلنج
اُدھر نواز شریف کی حکومت کو خود گوناگوں چیلنوں کا سامنا ہے۔ ملک کے اندر جاری ایک حکومت مخالف تحریک کے ساتھ ساتھ شریف حکومت اس بارے میں بھی شکوک و شبہات کا شکار ہے کہ آیا ملک کے سلامتی کے ادارے مکمل طور پر اُس کے کنٹرول میں بھی ہیں۔ دوسری طرف اُسے یہ بھی ڈر ہے کہ افغانستان سے نیٹو کے فوجی دستوں کے انخلاء کے بعد اُس کی مغربی سرحدوں پر بھارت کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
فاروق سلہریا کے مطابق بھی افغانستان میں اپنے اپنے اثر و رسوخ کو قائم رکھنے اور بڑھانے کے لیے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمکش آئندہ بھی جاری رہتی نظر آتی ہے۔ اسلام آباد میں مقیم صحافی عبدل آغا کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارت اور پاکستان افغانستان کے معاملات میں مداخلت بند کرتے ہوئے تمام متنازعہ معاملات پر آپس میں جامع مذاکرات کا سلسلہ بحال کریں، تجارتی تعلقات بڑھائیں اور دونوں ملکوں کے شہریوں کے درمیان روابط کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیں۔
ڈی ڈبلیو سے باتیں کرتے ہوئے آغا کا کہنا تھا کہ ’اب یہ اسلام آباد اور نئی دہلی پر منحصر ہے کہ آیا 2015ء ایک اچھا یا پھر ایک برا سال ثابت ہو گا‘۔ آغا کے مطابق ’بھارت اور پاکستان چاہیں تو افغانستان میں اپنی پراکسی جنگ کے ساتھ ساتھ کشمیر کی سرحد پر گولہ باری بھی جاری رکھ سکتے ہیں لیکن ایسا کرتے ہوئے اُنہیں یہ بات بھی ضرور ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اس کا فائدہ صرف اور صرف انتہا پسندوں کو ہی ہو گا‘۔