پاک بھارت تنازعہ، دہلی کی جانب سے چین کی ثالثی کا دعوی مسترد
31 دسمبر 2025
گزشتہ روز جب چین نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی میں ہونے والے مختصر فوجی تنازعے کے دوران جنگ بندی کرانے میں اپنی ثالثی کے کردار کا ذکر کیا ہے، تب سے بھارتی میڈیا وسیع پیمانے پر اس خبر کی ترید کے لیے مسلسل خبریں نشر کر رہا ہے۔
تاہم حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے ایک بار پھر مودی حکومت پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ "بھارت کی مذاکرات کی پوزیشن کو کمزور کر دیا گیا ہے" اور حکومت سے اس معاملے پر وضاحت طلب کی ہے۔
نئی دہلی عام طور پر ایسی خبروں کی تردید میں جلد بازی سے کام لیتا ہے تاہم چینی دعوے پر ابھی تک باقاعدہ حکومت کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ بھارت کے تقریبا سبھی میڈیا ادارے حکومتی ذرائع کے حوالے سے لکھ رہے ہیں کہ چین کا دعوی درست نہیں ہے اور اس تنازعے میں، "کسی بھی تیسرے فریق نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔"
این ڈی ٹی وی اور انڈیا ٹوڈے گروپ نے بھارتی حکومت کے حوالے سے لکھا، "اسلام آباد نے آپریشن سندور کے دوران جنگ بندی کی درخواست کی تھی اور اس میں کسی تیسرے فریق نے کوئی ثالثی نہیں کی تھی۔"
این ڈی ٹی وی نے حکومت کے حوالے لکھا، "ثالثی کے بارے میں بھارت کا موقف ہمیشہ واضح رہا ہے۔ آپریشن سندور کے دوران کوئی ثالثی نہیں ہوئی تھی۔ بھارت نے ہمیشہ کہا ہے کہ کسی تیسرے فریق کی مداخلت نہیں ہو سکتی۔ پاکستان نے بھارتی ڈی جی ایم او (ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشن) سے جنگی بندی کی درخواست کی تھی۔"
چین کا کیا کہنا ہے؟
بھارتی میڈیا کی جانب سے یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب چین نے یہ کہا کہ اس نے بھی مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان فوجی کشیدگی کم کرنے میں اہم رول ادا کیا تھا۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے ایک بیان میں بھارت اور پاکستان، کمبوڈیا اور تھائی لینڈ سمیت متعدد خطوں میں ہونے والی لڑائی میں امن کے قیام کے لیے اپنی ثالثی کے کردار کی بات کہی تھی۔
وانگ یی نے بین الاقوامی صورتحال اور چین کی خارجہ پالیسی پر ایک چینی سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد رواں برس سب سے زیادہ مقامی سطح کی جنگی اور سرحدی تنازعے رونما ہوئے اور جغرافیائی سیاسی انتشار پھیلتا رہا۔ دیرپا امن قائم کرنے کے لیے ہم نے ایک مقصد کے تحت منصفانہ موقف اختیار کیا اور علامات اور بنیادی وجوہات دونوں کو حل کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔"
انہوں نے مزید کہا، "مسائل کو حل کرنے کے لیے اسی چینی نقطہ نظر کے تحت، ہم نے شمالی میانمار، ایران کے جوہری مسئلے، پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ، فلسطین اور اسرائیل کے درمیان مسائل، نیز کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان حالیہ تنازعات میں ثالثی کی۔"
بھارت کا موقف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تو متعدد بار یہ بات کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان فوجی تنازعے میں اہم رول ادا کیا تھا اور اسی وجہ سے دونوں کے درمیان فوری طور پر جنگ بندی ہوئی۔
تاہم نئی دہلی اس کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ سات مئی سے پاکستان اور بھارت کے درمیان شروع ہونے والے فوجی تنازعے میں کسی نے بھی کوئی ثالثی نہیں کی اور دونوں ممالک کی فوجوں کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان براہ راست بات چیت کے ذریعے اسے حل کیا گیا۔
بھارت کا اصرار اس بات پر ہے اس کے اور پاکستان سے متعلق معاملات میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی کوئی جگہ نہیں ہے اور اسی لیے وہ چین اور امریکہ کی ان کوششوں کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔
کانگریس کا مودی حکومت سے مطالبہ
کانگریس پارٹی کے سرکردہ رہنما اور ترجمان جے رام رمیش نے بدھ کے روز ایکس پر اپنی ایک طویل پوسٹ میں لکھا کہ صدر ٹرمپ تو طویل عرصے سے آپریشن سندور کو روکنے کے لیے ذاتی طور پر مداخلت کی بات کرتے رہے ہیں اور انہوں نے کم از کم سات مختلف ممالک میں کئی فورمز پر 65 مواقعوں پر ایسا کہہ چکے ہیں۔ تاہم وزیر اعظم نریندر مودی اپنے نام نہاد اچھے دوست کے ان دعوؤں پر کبھی اپنی زبان تک نہیں کھولی۔
انہوں نے مزید لکھا کہ اب چینی وزیر خارجہ بھی ایسا ہی دعویٰ کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ چین نے بھی ثالثی کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ چار جولائی 2025 کو ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ نے کھلے عام کہا تھا کہ آپریشن سندور کے دوران بھارت اصل میں چین کا بھی مقابلہ کر رہا تھا۔
انہوں نے لکھا کہ یہ دیکھتے ہوئے کہ چین پاکستان کے ساتھ فیصلہ کن طور پر ہے، تو "بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کرنے کے چینی دعوے تشویشناک ہیں۔ اس لیے کہ یہ خود ہماری قومی سلامتی کا مذاق اڑاتے ہیں۔"
ان کا مزید کہنا ہے، "ہم نے چین کے ساتھ دوبارہ بات چيت شروع کی ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ سب چینی شرائط پر رہا ہے۔ بھارت کی مذاکرات کی پوزیشن کو کافی حد تک کمزور کر دیا گیا ہے۔ ہمارا تجارتی خسارہ بھی ریکارڈ بلندیوں پر ہے اور ہماری برآمدات کا زیادہ تر انحصار چین سے درآمدات پر ہے۔"
جے رام رمیشن نے کہا، "اروناچل پردیش کے سلسلے میں چین کی اشتعال انگیز کارروائیاں بلا روک ٹوک جاری ہیں۔ اس طرح کے یک طرفہ اور متضاد تعلقات کے درمیان، بھارت کے لوگوں کو اس بات کی وضاحت کی ضرورت ہے کہ آیا چین نے آپریشن سندور کو اچانک روکنے میں کیا کردار ادا کیا؟"
ادارت: رابعہ بگٹی