پا کستان کی کابل پر بمباری: ’ہمیں لگا زلزلہ آگیا ہے‘
27 فروری 2026
پاکستانی فضائی حملوں نے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب کابل کے مغربی علاقے دارالامان میں واقع ایک اسلحہ گودام کو نشانہ بنایا، جس کے بعد کئی گھنٹوں تک ہونے والے ثانوی دھماکوں سے افغان دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور رہائشی مزید تشدد پھیلنے کے خدشات میں مبتلا ہو گئے۔
یہ حملے پاکستان اور افغانستان کے طالبان حکام کے درمیان کشیدگی میں تیزی سے اضافے کا حصہ تھے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر سرحد پار حملوں کے الزامات عائد کیے ہیں اور پاکستان نے صورتحال کو کھلا تصادم قرار دیا ہے۔
روئٹرز کی تصدیق شدہ ویڈیوز میں دارالامان کے رہائشی علاقے کے اوپر سیاہ دھوئیں کے گھنے بادل اٹھتے دکھائی دیے، جہاں کئی سرکاری اور فوجی تنصیبات بھی موجود ہیں۔ آگ نے گودام کے ایک حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جبکہ اندر موجود گولہ بارود پھٹنے سے رات کو آسمان پر بار بار چمک دکھائی دیتی رہی۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق بمباری آدھی رات کے فوراً بعد شروع ہوئی۔
گودام کے قریب رہنے والے ٹیکسی ڈرائیور تمیم نے بتایا،''ہم سو رہے تھے کہ جہاز کی آواز سنی۔ وہ آیا اور دو بم گرا کر واپس چلا گیا۔ اس کے بعد مسلسل دھماکوں کی آوازیں آنے لگیں۔‘‘
ان کے مطابق ابتدائی دھماکوں کے بعد ذخیرہ شدہ گولہ بارود خود بخود پھٹتا رہا۔ انہوں نے کہا، ''گودام کے اندر رکھا اسلحہ خود ہی پھٹتا رہا۔ سب لوگ گھبرا کر دوسری منزل سے نیچے بھاگ آئے۔‘‘
تمیم نے بتایا کہ آگ صبح تقریباً چھ بجے قابو میں آئی۔ ان کا خاندان محفوظ رہا تاہم دھماکوں کی شدت سے دروازے اور کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور شیشے بکھر گئے۔ انہوں نے مزید بتایا، ''آگ بہت شدید تھی۔ ہم بہت خوفزدہ تھے اور علاقہ چھوڑنے کا بھی سوچ رہے تھے۔‘‘
دارالامان سے تقریباً دس منٹ کی مسافت پر رہنے والے 35 سالہ فارماسسٹ دانش نے بتایا کہ کشیدگی کی خبروں کے باعث وہ پہلے ہی جاگ رہے تھے۔ ان کے بقول، ''میں صبح تک دوبارہ سو نہیں سکا۔‘‘
کابل کے دیگر علاقوں میں موجود عینی شاہدین نے بھی زور دار دھماکوں اور طیاروں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی، جس کے بعد رات بھر ایمبولینسوں کے سائرن گونجتے رہے۔
ایک دکاندار محمد علی نے بتایا کہ وہ ایک گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے تھے، جب تقریباً رات دو بجے دھماکے سے ان کی آنکھ کھل گئ۔''پہلے ہمیں لگا زلزلہ آیا ہے لیکن جلد سمجھ آ گیا کہ فائرنگ ہو رہی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ''ہم عام لوگ ہیں۔ ہمیں جنگ سے زیادہ روزگار اور غربت کی فکر ہے۔‘‘ پاکستان اور افغانستان کے مابین کئی ماہ سے جاری تصادم دوطرفہ حملوں اور سرحدی جھڑپوں کے بعد شدت اختیار کر گیا ہے، جن کا الزام دونوں فریق ایک دوسرے پر عائد کرتے رہے ہیں۔
افغانستان پہلے ہی 2021 میںطالبان کے اقتدار میں واپسی کے بعد سے امداد میں کمی، بڑھتی غربت، بے روزگاری اور خوراک کی قلت کا سامنا کر رہا ہے۔ کابل کے متعدد رہائشیوں کے لیے یہ حملہ ماضی کے تنازعات کی یاد تازہ کر گیا۔
35 سالہ یلدا جمعرات کو دھماکے کی خبر سن کر اپنی بہن کی خیریت معلوم کرنے دارالامان پہنچیں۔
انہوں نے کہا، ''اگر آج یہاں حملہ ہوا ہے تو کل ہمارے علاقے کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔‘‘ ان کے بقول، ''بدحالی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔‘‘
ادارت: کشور مصطفیٰ